عارفانہ شاعری کے استعارے


جب ہم عالمی ادب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہر عہد، ہر مذہب اور ہر قوم میں چند شعرا ایسے تھے جنہوں نے عارفانہ شاعری کی جس میں روحانی شاعری بھی شامل تھی۔ ان شاعروں کی فہرست میں کبیر داس، رابندر ناتھ ٹیگور، بلھے شاہ، جلال الدین رومی، ولیم بلیک اور والٹ وٹمین شامل ہیں۔ ایسے شاعر رومانس، مادی دنیا اور خارجی مشاہدات کی بجائے داخلی سچائیوں، اندرونی صداقتوں اور روحانی تجربات پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

جب ہم عارفانہ شاعری کا سنجیدگی سے مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ وہ شاعر اپنے خیالات، نظریات اور تجربات کے اظہار کے لیے استعارے استعمال کرتے ہیں۔ میں اس کالم میں اس استعاروں میں سے چند ایک کا ذکر کروں گا۔

عارفانہ شاعری کا پہلا استعارہ پانی ہے۔ انسانی زندگی کی بقا کے لیے پانی بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ کرہِ ارض پر زندگی کی ابتدا بھی پانی سے ہوئی، انسان پیدا ہونے سے پیشتر چند ماہ رحمِ مادر میں پانی میں رہتا ہے اور انسانی جسم کا پیشتر حصہ بھی پانی پر مشتمل ہے۔

عارفانہ شاعر انسانی شعور کو پانی کے قطرے اور آفاقی شعور کو سمندر سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عام انسان سمندر میں پانی کے قطرے دیکھتا ہے لیکن ایک عارف، ایک سادھو، ایک سنت، ایک صوفی پانی کے قطرے میں سمندر دیکھتا ہے۔

کبیر داس فرماتے ہیں
ایک قطرہ
سمندر کا حصہ ہے
یہ تو
سب انسان جانتے ہیں
لیکن کس طرح
سارا سمندر
ایک قطرے میں موجود ہے
یہ صرف چند لوگ
ہی دیکھ سکتے ہیں
ایسے لوگ عارف ہیں جن پر زندگی کے راز منکشف ہوتے ہیں۔

عارفانہ شاعری کا دوسرا استعارہ آگ ہے۔ بعض سنتوں، سادھووں اور صوفیوں کا خیال ہے کہ روحانی سفر آگ میں چھلانگ لگانے کی طرح ہے۔ جب عام انسان آگ میں چھلانگ لگاتا ہے تو وہ جل کر راکھ ہو جاتا ہے جب ایک صوفی آگ میں چھلانگ لگاتا ہے تو وہ آگ گلستان بن جاتی ہے۔ عام آدمی جل جاتا ہے صوفی کندن بن جاتا ہے۔

رومی فرماتے ہیں
محبت ایک شعلہ ہے
جب بھڑکتا ہے
سب کچھ جل جاتا ہے
خدا باقی رہ جاتا ہے
کبیر داس فرماتے ہیں
سچ کی تلاش
آگ میں جلنا ہے
اگر تم اس کی تلاش میں سچے نہیں
تو جل جاؤ گے
سچے ہو تو
کندن بن جاؤ گے۔

میرا ایک شعر ہے
؎ زیست کی آگ میں جل جل کے فغاں کرتے رہے
اور اس آگ میں کندن جو بنے ہیں چپ ہیں

عارفانہ شاعری کا تیسرا ستعارہ روشنی ہے۔ عارف سمجھتے ہیں کہ جب انسان سچ کی تلاش میں اپنی ذات کی تاریکیوں سے گزرتا ہے تو روشنی اس کا استقبال کرتی ہے۔ یہ روشنی کہاں سے آتی ہے؟

بابا فرید فرماتے ہیں
سچا عاشق
ایک موم بتی کی طرح ہے
وہ خود اپنے آپ کو جلاتا ہے
روشنی پاتا ہے
ایک درویش کا کہنا ہے کہ روحانی سفر کی تین منازل ہیں
پہلی منزل۔ تم روشنی کی طرف جاتے ہو
دوسری منزل۔ تم روشنی میں داخل ہوتے ہو
تیسری منزل۔ تم روشنی بن جاتے ہو
عارف جب روشنی بنتا ہے تو دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتا ہے

میرا ایک شعر ہے
؎ میں اپنی ذات کی گہرائیوں میں جب اترتا ہوں
اندھیروں کے سفر میں روشنی محسوس کرتا ہوں

عارفانہ شاعری کا چوتھا استعارہ خاموشی ہے۔ جب سنت، سادھو اور صوفی معرفت کی مانازل طے کرتے ہیں تو باتیں کم کرنے لگتے ہیں۔ وہ خاموشی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں۔

مادھو لال حسین فرماتے ہیں
لمبی لمبی بحثوں میں مت الجھو
خاموش رہو
اپنے انجام کے بارے میں غور کرو
کبیر داس فرماتے ہیں
جب عاشق
محبوب کو پا لیتا ہے
تو خاموش ہو جاتا ہے
اے دوست
جب کسی کو
ہیرا مل جاتا ہے
وہ بازار میں جا کر نہیں چیختا
وہ خاموش ہو جاتا ہے۔

جب سنت، سادھو اور صوفی معرفت حاصل کر لیتے ہیں تو وہ یا تو خاموش ہو جاتے ہیں اور یا عوام کی عام فہم زبان میں اپنے خیالات، جذبات اور تجربات کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ بڑے بڑے عالموں، ناقدوں اور دانشوروں کی طرح موٹے موٹے مشکل اور ثقیل الفاظ استعمال نہیں کرتے۔ ان کے الفاظ سے ان کی عاجزی اور انکساری جھلکتی ہے۔ وہ عام انسانوں سے خطاب کرتے ہیں اور انہیں زندگی کی بصیرتوں کے تحفے پیش کرتے ہیں۔

رومی فرماتے ہیں
ساری دنیا
لفظوں سے مسحور ہے
میں اس کا غلام ہوں
جو خاموشی کا شہنشاہ ہے

سنتوں، سادھوؤں اور صوفیوں پر اپنے روحانی سفر میں یہ منکشف ہو جاتا ہے کہ خاموشی، تنہائی اور دانائی کا گہرا رشتہ ہے۔ عارفانہ شاعری کے مطالعہ نے مجھے مندرجہ ذیل نظم لکھنے کی تحریک بخشی

جوئے شیر
عمر بھر کتابوں میں
زندگی گزاری ہے
ہم نے کتنے لفظوں کی
آبرو سنواری ہے
ساری عمر خوابوں سے
دوستی نبھائی ہے
آگہی کے دامن سے
خامشی چرائی ہے
خامشی نے چپکے سے
راز یہ بتایا ہے
اک عجب کرامت ہے
اپنے آپ پر کھلنا
جوئے شیر لانا ہے
خود پہ منکشف ہونا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 137 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail