کچھ بچے نچلے کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟


سالہا سال شعبہ تعلیم سے وابستگی کے دوران مختلف عادات و مزاج کے طالب علم میرے مشاہدے کا حصہ رہے ہیں۔ وہ طلبا بھی کہ جو تادیر ایک جگہ بیٹھ کر توجہ سے استاد کی بات سن سکتے ہیں اور انھیں اپنی حرکتوں پر قابو رہتا ہے اور اس کے بر خلاف وہ بھی کہ جنھیں دیر تک بیٹھنا مشکل، استاد کی بات توجہ سے سننا دشوار اور پھر ان کی ہدایات پر عمل کرنا ایک امتحان ہوتا ہے۔ ایسے بچے عرفِ عام میں کچھ اچھے القابات سے نہیں نوازے جاتے مثلاً بدتمیز، بے پروا، بے قابو اور کسی پل نچلے نہ بیٹھنے والے منہ پھٹ بچے۔

مشرقی ممالک میں ایسے طلبا کو ماں باپ اور اساتذہ کی جھڑکیوں کے علاوہ جسمانی مار کی اذیت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے؛ تاہم سائنسی اور سماجی شعبے میں تحقیق کی بدولت مغرب میں علم کی روشنی زیادہ پھیل چکی ہے؛ لہٰذا ایسے بچوں کو تفصیلی نفسیاتی تجزیے کے بعد اے ڈی ایچ ڈی کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے اور بجائے روایتی طریقہ تدریس کے، ان بچوں کو ان کی ضرورت کے حساب سے خاص طریقہ سے پڑھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ علامات کی بنیاد پر دوا اور گفتگو کی مدد سے علاج بھی ہوتا ہے۔

اے ڈی ایچ ڈی کیا ہے؟
Hyperactivity Disorder یا اے ڈی ایچ ایچ ڈی؛ بچوں میں پائی جانے والی سب سے عام کیفیت ہے جو نہ صرف نوجوان بلکہ بالغ عمر تک رہتی ہے اس مرض کے زمرے میں دو واضح کیفیات کے بچے آتے ہیں، ایک تو وہ جو کسی چیز پر دھیان اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت سے قاصر ہیں، دوسرے وہ جنھیں ایک پل بھی نچلا بیٹھنا محال ہوتا ہے۔ ان کا جسم یا اعضا ہر وقت متحرک رہنے کی کوشش میں ہوتے ہیں اور ان کا اپنے رویے اور گفتگو پر بھی بہت کم اختیار ہوتا ہے۔

ڈی ایس ایم مینول (جو ذہنی امراض کی تشخیص کی سب سے مستند کتاب تصور کی جاتی ہے) نے کیفیات کی بنیاد پر مرض کو تین مزید ذیلی قسموں میں تقسیم کردیا ہے۔
1 نمایاں طور پر حد سے زیادہ جسمانی سرگرمی کی علامات (چھہ یا زائد علامات)
2 نمایاں طور پر بے توجہی کا شکار اپنی توجہ ایک شے پر مرکوز کرنے سے قاصر (چھہ یا زائد علامات) یہ خموشی سے بیٹھے ہوتے ہیں لیکن توجہ نہیں دے سکتے۔
3 ملا جلا رجحان اس میں اوپر دی ہوئی دونوں کیفیات کی، چھہ یا زائد علامات پائی جاتی ہیں۔

علامات
آئیے اب مجموعی طور پر ان بچوں کی علامات دیکھتے ہیں، جن میں بے توجہی کی واضح علامات ہوتی ہیں۔

1 ان کا دھیان بہت آسانی سے بھٹک جاتا ہے، تفصیلات کو بھول جاتے ہیں۔ چیزیں بھول جاتے ہیں اور جلدی سے ایک کام چھوڑ کر دوسرا شروع کردیتے ہیں۔
2 کسی ایک بات پر توجہ دینے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔
3 چند منٹوں کے بعد ہی ان کا دھیان کسی بھی چیز سے ہٹ جاتا ہے ماسوائے ان سرگرمیوں یا چیزوں کے جس کو یہ بہت پسند کرتے ہیں۔

4 کام میں منظم ہونے، مکمل کرنے یا کوئی اور نئی بات سیکھنے میں دشواری۔
5 اسکول کا کام ختم کرنے یا ٹیچر کو مکمل کام دینے میں دشواری، اکثر وہ چیزیں گم کردیتے ہیں جیسے پینسل، قلم، کھلونے وغیرہ جو کام کرنے کے لیے چاہیے ہوتی ہیں۔

6 جب ان سے بات کریں تو لگتا ہے کہ وہ آپ کو سن نہیں رہے۔
7 جاگتے میں خواب دیکھتے ہیں، جلد بوکھلا یا پریشان ہوجاتے ہیں، آہستہ خرامی سے حرکت کرتے ہیں۔
8 دوسرے ہم عمر بچوں کے مقابلہ میں چیزوں کو سمجھنے میں مشکل۔
9 ہدایات پر عمل کرنے میں دشواری۔

جو حد سے زیادہ مستعد ہوتے ہیں ان بچوں کی علامات یہ ہیں۔
1 اپنی جگہ پر بے چینی سے بیٹھتے اور بار بار اٹھتے رہتے ہیں۔
2 بے تکان بولتے ہے۔

3 اِدھر اُدھر بھاگتے ہیں اور نظروں یا راستے میں آنے والی کسی بھی چیز کو چھونے یا اس سے کھیلنے لگتے ہیں۔
4 کھانے کے وقت، اسکول میں اور کہانی سننے کے وقت خاموشی سے بیٹھنے میں دشواری ہوتی ہے۔
5 مستقل ہلتے جلتے رہتے ہیں۔
6 خاموشی سے کرنے والے کام یا سرگرمیوں میں دشواری

اب کچھ علامات ان بچوں کی کہ جنھیں اپنے اوپر قابو نہیں رہتا۔
1 بہت زیادہ بے صبرے
2 کوئی بھی غیرمناسب بات کہہ سکتے ہیں، اپنے جذبات کے اظہار میں کوئی رکاوٹ نہیں محسوس کرتے اور نتائج کا سوچے بغیر جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔

3 جس چیز کو چاہتے ہیں اس کا انتظار کرنے میں مشکل ہوتی ہے، کھیل میں اپنی باری کا انتظار کرنے میں بھی دشواری۔
4 دوسروں کی بات یا کام درمیان میں کاٹ دیتے ہیں۔

اے ڈی ایچ ڈی کیوں ہوتا ہے؟
یہ کیفیت مختلف عوامل کا نتیجہ ہے مثلاً موروثیت یا جینیاتی مادے، ماحولیاتی عوامل، دماغی چوٹ، شکر، کھانے میں ملائے جانے والے مصنوعی کیمیائی اجزا۔

سائنسی تحقیق کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی بچوں کے دماغی بافتیں (Tissues) عام بچوں کے مقابلہ میں کم جسامت کی ہوتی ہیں، تاہم نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ (NIMH) کے مطابق عمر کے ساتھ ساتھ یہ ٹشوز نارمل سطح کی جسامت پر پہنچ جاتے ہیں اور علامات قدرے کم ہوجاتی ہیں۔

1 موروثیت:۔ والدین سے ملنے والے جینیاتی مادے یقیناً اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک دن محقق علامات کے ظہور سے پہلے اس کیفیت کو قابو کرسکیں گے اور مخصوص جینز کا پتا ہونے سے علاج میں آسانی ہوسکے گی۔

2 ماحولیاتی عوامل:۔ تحقیق کے مطابق حمل کے دوران سیگرٹ نوشی اور شراب کا استعمال اور اس کے علاوہ عمارتوں کے رنگ اور پلمپنگ کے سامان میں لیڈ کے استعمال سے بھی اے ڈی ایچ ڈی کا خدشہ رہتا ہے۔

3 دماغی چوٹ:۔ کم تعداد ان بچوں کی بھی دیکھی گئی ہے کہ جو دماغی چوٹ کے نتیجے میں اے ڈی ایچ ڈی کا شکار ہوئے۔

4 شکر:۔ گو شکر کا استعمال اور اے ڈی ایچ ڈی کا تعلق ابھی نظریہ ہی ہے اور سائنس پورے طور پر ثابت نہیں کرسکی ہے۔

5 کھانے میں ملائے جانے والے کیمیائی اجزا، مثلاً رنگ اور غذا کو محفوظ رکھنے والے اجزا کے متعلق بھی خیال ہے کہ اس کیفیت کا سبب بن سکتے ہیں، گو اس کا حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔

تشخیص
ہر بچے کی انفرادی شخصیت اور بلوغت کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔ ان کی توانائی کی سطح اور مزاج بھی مختلف ہوتا ہے۔ زیادہ تر بچے چونچال، بے دھڑک، بے پروا ہوتے ہیں اور آسانی سے توجہ کھو دیتے ہیں۔ اس وجہ سے اکثر بچے غلطی سے اے ڈی ایچ ڈی تشخیص کرلیے جاتے ہیں۔ اس کیفیات کی علامات عموماً تین سے چھہ برس کی عمر میں ظاہر ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے والدین اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ ان کا بچہ عام بچوں کے مقابلے میں ایک چیز سے جلد اکتا جاتا ہے اور اس کا رویہ جلد ہی قابو سے باہر بھی ہوجاتا ہے۔

اس کے علاوہ اسکول میں ٹیچر ان علامات کا مظاہرہ کرتے ہیں، کہ جب بچہ کلاس کے قواعد اور ہدایات پر عمل نہیں کر پاتا، اے ڈی ایچ ڈی پہچاننے کا کوئی ایک طریقہ نہیں، اس کے لیے سند یافتہ پیشہ ور افراد کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ وہ بچے کے رویے اور ماحول کا تجزیہ کرسکیں۔ گھر والوں کو پہلے بچے کے معالج سے بات کرنی چاہیے کیوں کہ اکثر ڈاکٹر اس کا تجزیہ خود کرسکتے ہیں، جب کہ دوسرے ماہر ذہنی معالج سے رجوع کرنے کو کہتے ہیں۔ حتمی تشخیص سے پہلے ضروری ہے کہ دوسری کیفیات کے ہونے کے امکانات کو مسترد کیا جائے، جو عارضی طور پر اس رویے کا سبب بن سکتی ہیں جو حسب ذیل ہیں۔

1 جب بچہ کسی دوسری ذہنی حالت کے سبب دورہ کی کیفیت سے دوچار ہو۔
2 کان کے درمیانی حصہ میں انفیکشن کا شکار ہو جو قوتِ سماعت (سننے کی صلاحیت) پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

3 سننے اور دیکھنے کی صلاحیت میں کوئی مسئلہ تو نہیں۔
4 کسی ایسی طبی کیفیت کا شکار کہ جو سوچ اور رویے پر اثرانداز ہو۔

5 سیکھنے کی صلاحیت میں مسئلہ۔
6 بچہ ہیجانی دباؤ (Anxeity) یا ڈیپریشن یا کسی اور نفسیاتی مسئلے کا شکار ہو۔

گھر کے ماحول میں کوئی غیرمعمولی تبدیلی مثلاً والدین کی طلاق، موت، نوکری کا چھٹ جانا، نقل مکانی کا تجربہ، نیند کی بے اعتدالی، ٹک ڈس آرڈرز۔

ان تمام عوامل کے علاوہ گھر اور اسکول کے غیرمعمولی دباو کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے، جو مزاج پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں والدین، اساتذہ، اسکول کے کوچ، بے بی سٹر سے معلومات لینا ضروری ہے۔

ماہر نفسیات کو جاننا ہوگا کہ بچے کا رویہ کتنا شدید اور کتنی دیر تک رہتا ہے اور کس حد تک اس کی زندگی پر اثرانداز ہورہا ہے۔ کیا یہ رویہ اور ہم عمر بچوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ کیفیت مستقل ہے یا عارضی، ماحول کی تبدیلی بچے کے رویے کو تبدیل کرتی ہے؟ مثلاً اسکول، گھر، کھیل کا میدان وغیرہ، غیرمنظم کے مقابلے میں منظم ماحول میں عموماً اے ڈی ایچ ڈی بچوں کو قابو کرنا آسان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس وقت بھی کہ جب ان کو ایک فرد کی خصوصی توجہ مل رہی ہو اور وہ اپنی پسندیدہ سرگرمی میں مصروف ہو۔ ضروری ہے کہ بچے کا مختلف ماحول میں تجزیہ کیا جائے تاکہ حتمی تشخیص ہوسکے۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے “اگلا صفحہ” کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں