تین رپورٹیں اور ایک مقدمہ


اپریل میں تین ایسی رپورٹیں سامنے آئیں جو پاکستان میں سزائے موت سے متعلق اعداد و شمار اور اس غیر انسانی سزا کے استعمال پر روشنی ڈالتی ہیں۔ یہ رپورٹیں اعداد و شمار کی مدد سے یہ واضح کرتی ہیں کہ گزشتہ سال پاکستان میں سزائے موت سے متعلق حکومتی طرزعمل میں کیا تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ ان رپورٹوں کے علاوہ اپریل میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم مقدمے کی سماعت بھی کی جو پاکستان میں سزائے موت کے استعمال سے متعلق نہایت اہم ہے۔ اپریل 2018ء میں جاری ہونے والی ان رپورٹوں کا مطالعہ، پاکستانی نظام انصاف کی ایک اہم خرابی کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

1۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ:
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے، جہاں سزائے موت پر عمل درآمد کی شرح میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2017ء کے دوران 2016ء کے مقابلے میں پھانسیوں کی تعداد میں 31 فی صد کمی ہوئی۔ 2016ء میں پھانسیوں کی تعداد 88 تھی، جو 2017ء میں کم ہو کر 65 رہ گئی۔ 2017ء میں 200 سے زائد افراد کو سزائے موت سنائی گئی جن میں سے صرف 34 انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے سنائیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ اگرچہ سزائے موت سنانے اور اس پر عمل درآمد کے ضمن میں پاکستان سے متعلق مثبت رحجانات کا تذکرہ کرتی ہے، تاہم اس رپورٹ کے مندرجات چند تلخ حقائق بھی پیش کرتے ہیں۔ بلاشبہ انسانی حقوق کی تنظیموں، بین الاقوامی اداروں اور گزشتہ دو برسوں کے دوران ہونے والے انسانی حقوق کے جائزوں کی وجہ سے پاکستان میں سزائے موت سے متعلق مثبت پیش رفت دیکھنے کو ملی ہے؛ تاہم پاکستان اس وقت بھی پھانسیاں دینے والے اور سزائے موت سنانے والے ممالک کی فہرست میں پہلے پانچ ممالک میں شامل ہے۔

اسی طرح پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ذہنی طور پر بیمار افراد اور جرم کے وقت نا بالغ افراد بھی سزائے موت کے منتظر افراد میں شامل ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں بھی شامل ہے، جہاں فوجی عدالتیں عام شہریوں کو سزائے موت سنا سکتی ہیں، اور جن کا نظام انصاف عالمی معیار پر پورا نہیں اترتا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ ایک اور تشویش ناک امر کی طرف اشارہ کرتی ہے، کہ پاکستان میں سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد، دُنیا کے ان تمام ممالک سے زیادہ ہے جو سزائے موت سے متعلق اعداد و شمار مہیا کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایسے قیدیوں کی تعداد سات ہزار سے زائد ہے۔

2۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ:
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں سال 2017ء کے دوران 250 سے زائد افراد کو سزائے موت سنائی گئی اور 64 افراد کو پھانسی دی گئی۔ ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے باب ”جیلیں، قیدی اور جبری گم شدگیاں“ میں سزائے موت سے متعلق، اعداد و شمار بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس رپورٹ کی خاص بات ان مقدمات کا ذکر ہے، جو پاکستان میں سزائے موت کے غیر انسانی اطلاق کو ظاہر کرتے ہیں۔ رپورٹ میں جن مقدمات کا ذکر کیا گیا ہے ان میں خضر حیات، سید رسول اور رضوان اللہ کے مقدمات شامل ہیں۔ خضر حیات پیرانائڈ شیزو فرینیا کے مریض ہیں اور کوٹ لکھ پت جیل میں سزائے موت کے قیدی ہیں۔

ناکافی شواہد کی بنا پر سید رسول کو لاہور ہائی کورٹ نے بری کیا، تاہم وہ اپیل کے فیصلے سے تین سال قبل جیل ہی میں وفات پا چکے تھے۔ رضوان اللہ کو کوہاٹ میں پھانسی دی گئی اور سپریم کورٹ نے ایک خط کے ذریعے جیل حکام کو پھانسی پر عمل درآمد سے روکا، تاہم اس خط کے موصول ہونے سے پہلے ہی رضوان اللہ کو پھانسی دی جا چکی تھی۔

رپورٹ میں اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کی سفارشات بھی مذکور ہیں۔ سزائے موت سے متعلق کمیٹی کی سفارشات پر اس رپورٹ کا درج ذیل پیراگراف نہایت اہم ہے:

”اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق کمیٹی نے اگست میں پاکستان کی ابتدائی رپورٹ کے جائزے کے بعد اپنے حتمی مشاہدات اور سفارشات جاری کیں۔ کمیٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان نے 2014ء میں سزائے موت سے پابندی اٹھائی اور اس وقت سے لے کر اب تک، یہ سب سے زیادہ پھانسیاں دینے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔ کمیٹی نے بالخصوص اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سزائے موت کا منشیات کی اسمگلنگ اور توہین مذہب جیسے جرائم پر اطلاق کیا گیا؛ نو عمر بچوں اور ذہنی مریضوں کو موت کی سزا سنائی گئی اور پھانسی دی گئی؛ اور یہ کہ یہ پھانسیاں مبینہ طور پر ایک ایسے طریقے سے دی گئیں جو ایذارسانی یا ظالمانہ، غیر انسانی یا ذلت آمیز سزا کا باعث بنتا تھا۔ کمیٹی نے پاکستان سے نقل مکانی کرنے والے محنت کشوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو سزائے موت اور پھانسی دیے جانے اور اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا، کہ ان افراد کو قانونی خدمات تک خاطر خواہ رسائی حاصل نہیں تھی“۔

3۔ جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی رحم کی اپیلوں پر رپورٹ:
یہ رپورٹ مندرجہ بالا دونوں رپورٹوں سے مختلف ہے، تاہم اپنی طرز کی ایک منفرد پورٹ ہے۔ اس رپورٹ میں پہلی مرتبہ پاکستان میں سزائے موت کے قیدیوں کی رحم کی اپیلیں دائر کرنے کے نظام اور اس سے متعلق (غیر علانیہ) سرکاری پالیسی پر بات کی گئی ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کی ”رحم کی تمام اپیلیں مسترد کرنے کی“ اس پالیسی پر تنقید کی گئی ہے، جس کے باعث دسمبر 2014ء سے اب تک کسی ایک بھی فرد کی سزائے موت معاف نہیں کی گئی؛ حالاں کہ پاکستان میں خضر حیات، عبدالباسط، امداد علی، کنیزاں اور محمد اقبال جیسے ایسے قیدی موجود ہیں جو رحم کے مستحق ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی صدر آئین کی شق 45 کے تحت سزائے موت کے قیدیوں کی سزا معاف کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، سوائے ان کے جنھیں حدود کے قوانین کے تحت سزائیں سنائی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فل بنچ کا 2006ء کا فیصلہ بھی اہم ہے جو صدر کو سزا معاف کرنے کا لامحدود اختیار عطا کرتا ہے۔

رپورٹ میں وزارت داخلہ کے فراہم کردہ اعداد و شمار بھی موجود ہیں، جن سے ایک بھیانک حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان میں دسمبر 2014ء سے اب تک کسی قیدی کی رحم کی اپیل منظور نہیں کی گئی۔ وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق، صدر دسمبر 2014ء سے اب تک سزائے موت کے 513 قیدیوں کی رحم کی اپیلیں مسترد کرچکے ہیں۔ جن میں سے 444 سزائے موت کی بحالی کے محض پندرہ ماہ کے اندر مسترد کی گئیں۔

4۔ کنیزاں اور امداد علی کا مقدمہ:
اپریل میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنی لاہور رجسٹری میں ایک دو بے حد اہم مقدمات سنے۔ یہ دونوں مقدمات ذہنی طور پر بیمار سزائے موت کے قیدیوں سے متعلق ہیں۔ یہ مقدمات اس لیے اہم ہیں، کیوں کہ یہی مقدمات تعین کریں گے کہ آیا پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کی نظر میں ذہنی معذوروں یا بیماروں کو سزائے موت سے تحفظ حاصل ہے یا نہیں۔

کنیزاں اور امداد علی دونوں شیزو فرینیا کے مریض ہیں اور ان کی رحم کی اپیلیں صدر مسترد کر چکے ہیں۔ امداد علی کا مقدمہ سپریم کورٹ کے لیے، اپنے اس فیصلے کو درست کرنے کا ایک موقع ہے، جس میں شیزو فرینیا کو لاعلاج ذہنی مرض تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک نہایت اہم ریمارک دیا۔ ان کا کہنا تھا، ”عقل تسلیم نہیں کرتی کہ ذہنی معذور کو پھانسی دی جائے“۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کنیزاں بی بی کی سزائے موت معطل کی اور میڈیکل بورڈ کے ذریعے جانچ کے بعد ایک پانچ رکنی بنچ کے ذریعے اس مقدمے کی سماعت کا حکم دیا۔

سزائے موت کا بے دریغ استعمال اور اس سزا کو سنگین جرائم اور دہشت گردی کی تمام صورتوں کا سدباب سمجھنا، پاکستانی نظام انصاف میں پائے جانے والے اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ امید ہے انسانی حقوق کے کارکنان کی کوششیں پاکستان میں، اس سزا کے بے رحمانہ اور بے دریغ استعمال کی روک تھام کا باعث بنیں گی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں