شکریہ نواز شریف صاحب!


چودھری نثار کی پریس کانفرنس سنتے ہوئے احساس ہو رہا تھا کہ اس ملک اور خطے میں ذاتی وفاداریاں اس ملک اور دھرتی سے زیادہ اہم ہیں۔
وجہ شاید وہی ہے جو میں کئی بار لکھ اور بول چکا ہوں کہ یہ خطہ صدیوں تک بیرونی حملہ آوروں کا غلام رہا ہے۔ مقامی لوگوں کے لیے زندہ رہنے اور اپنی چودھراہٹ بچانے کا ایک ہی حل تھا کہ جو بھی طاقتور ملے اس کے آگے جھک جاؤ، اس کی غلامی اختیار کر لو اور پھر پورے گاؤں کو آگے لگا لو۔ ایک بندے کو سجدہ کر کے اگر آپ ہزاروں لوگوں کو اپنے سامنے سجدہ کرنے پر مجبور کر سکتے ہو تو کیا ہرج ہے؟ ہر چڑھدے سورج کو سلام۔ دلی میں ہر نئے حکمران کو کورنش۔ بیرونی حملہ آوروں کے گدھے کھوتے پکڑ کر انہیں دلی تک چھوڑ آؤ اور واپسی پر انہیں خبیر پاس کی پہاڑیوں پر کھڑے ہو کر پوچھو پھر واپسی کب ہو گی؟
اس لیے کہ غلامی ہمارے خون میں شامل ہو چکی ہے۔

جب پانامہ سکینڈل آیا تو اس وقت چودھری نثار وزیر داخلہ تھے۔ تین چار دن بعد وہ ایک پریس کانفرنس میں نمودار ہوئے، اپنے تئیں پانامہ سکینڈل کو مذاق میں اڑانے کی کوشش کی اور فرمایا کہ انہیں تو پتا تک نہیں کہ یہ آف شور کمپنیاں کیا ہوتی ہیں۔ مذاق کو اگلے لیول تک لے جانے کی کوشش میں بولے: مجھے خود بھی دو تین دن لگے کہ سمجھ سکوں یہ آف شور کمپنیاں کیا ہوتی ہیں اور ان کا کیا کام ہوتا ہے۔ وہ اس وقت نواز شریف صاحب کے بچوں کی کرپشن کا دفاع کرتے رہے۔ ان کے کسی سمجھدار دوست نے چودھری نثار سے کہا: جناب آپ پر کرپشن کے الزامات نہیں ہیں، آپ کیوں اربوں ڈالرز کی کرپشن کا دفاع کر کے خود کو متنازع بنا رہے ہیں؟ یہ بات چودھری صاحب کی سمجھ میں آ گئی اور انہوں نے اس کے بعد کم از کم سرعام کرپشن کے حق میں وضاحتیں دینی بند کر دیں۔

تاہم اب پتا چل رہا ہے کہ چودھری نثار نے بے شک سرعام نواز شریف کی کرپشن کا دفاع کرنا بندکر دیا ہو، لیکن وہ اندر کھاتے نواز شریف اور ان کے خاندان کو کرپشن سے بچانے کے لیے بہت سے مشورے اور مدد بھی فراہم کر رہے تھے۔ فرماتے ہیں کہ ان کی پارٹی دائیں بازو کی جماعت تھی، اللہ اور اس کے رسولؐ کے حکم پر چلنے والی جماعت تھی۔ سوال یہ ہے کہ اللہ اور رسولؐ کے حکم پر چلنے و الی پارٹی کے سربراہان اور ان کے بچے اربوں ڈالرز کی کرپشن کر لیں اور چودھری نثار ان کا دفاع وزیر داخلہ کے طور پر کرتے رہیں یا مشورے دیتے رہیں کہ مال کیسے بچانا ہے۔ کیا یہ مناسب ہے؟

جب لوگ مشکل میں پڑ جاتے ہیں تو وہ ملک اور مذہب کا نعرہ لگاتے ہیں؟ چودھری صاحب فرماتے ہیں کہ ان کے لیے ملک کا تحفظ پہلے اور پارٹی کا تحفظ بعد میں ہے۔ تو کیا نواز شریف کی کرپشن بچانے کے لیے ان کی مدد کرنا ملک کا تحفظ تھا؟

چودھری صاحب کا دعویٰ ہے کہ وہ سچ بولتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس سچ کا فائدہ کس کو ہوتا رہا ہے؟ جب چودھری نثار نواز شریف کو یہ بتا رہے تھے کہ انہیں کس طرح الیکشن تک اپنے ٹرائل کو تاخیری حربوں کے ذریعے روکنا ہے تاکہ وہ جیل نہ جائیں اور ان کی پارٹی بکھر نہ جائے تو وہ کس کا فائدہ سوچ رہے تھے؟ پھر فرماتے ہیں کہ انہوں نے ان لوگوں کو سینیٹ میں ووٹ دیا جنہیں وہ پسند نہیں کرتے تھے۔ جنرل مشرف کے ساتھیوں کو بھی ووٹ ڈالا کیونکہ وہ نواز شریف کے ساتھ کھڑے تھے۔ ان کے بقول سینیٹ میں ایسے لوگوں کو سینیٹر بنایا گیا جن کا کوئی سیاسی رول نہیں تھا۔ چودھری نثار کی باتیں سن کر لگتا ہے، انہیں دکھ اس بات کا زیادہ ہے کہ انہوں نے نواز شریف کو نا اہلی اور سزا سے بچانے کے لیے جو مشورے دیے، وہ نہیں مانے گئے۔

ان کی باتوں سے واضح ہے کہ ان کے پاس گیم پلان تھا، جس پر ان کے خیال میں اگر نواز شریف اور ان کی بیٹی چلتے تو یقینا سزا سے بچ جاتے۔ عدالتیں بھی انہیں سزائیں نہ دیتیں اور نہ ہی فوج سے براہ راست ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوتی۔ اس لیے چودھری نثار کا گلہ سمجھ میں آتا ہے کہ میاں صاحب! میں تو آپ کا سب سے بڑا ہمدرد تھا، اور آپ کو اور آپ کے بچوں کو کرپشن اور جھوٹ کی سزا سے بچانے کے لیے کوشش کر رہا تھا۔ آپ الٹا مجھ سے ناراض ہو گئے۔

یہ اس ملک کی سیاست اور سیاستدانوں کا بہت بڑا المیہ ہے۔ اپنے ایک پاؤ گوشت کے لیے سب اپنے لیڈروں کی ہر قسم کی کرپشن اور لوٹ مار پر سمجھوتے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی میں بھی یہی کلچر رہا ہے۔ کسی نے زرداری تو چھوڑیں ڈاکٹر عاصم حسین اور شرجیل میمن کی کرپشن پر بھی آواز نہیں اٹھائی۔ ٹی وی چینل کھول کر دیکھیں، ہر جگہ آپ کو فارن کوالیفائیڈ لیڈران اپنے اپنے سیاسی رہنماؤں کی دوبئی لندن، نیویارک اور سوئس بینکوں میں کرپشن سے بھری گئی دولت کا دفاع کرتے نظر آئیں گے۔ یہ لوگ بھوکے نہیں ہیں کہ انہیں گھر چلانے کے لیے قومی اسمبلی یا سینیٹ سے ملنے والے ہر ماہ تین چار لاکھ روپے کی ضرورت ہے لہٰذا مجبوری میں منہ بند ہے۔ ان کی اپنی اربوں کی جائیدادیں ہیں یا پھر یہ وکیل ہیں اور ایک ایک کیس کی تین تین کروڑ روپے تک فیس لیتے ہیں۔ پیسہ ایک سطح تک آپ کی ضرورت ہوتا ہے۔

پھر آپ کو پتہ چلتا ہے کہ سب کچھ آ گیا ہے، لیکن اب آپ کو کچھ لوگ سلام کریں۔ آپ کے آگے پولیس کی گاڑیاں لگ جائیں، ہٹو بچو کے ہارن بجیں۔ لوگ آپ کے جاگنے کے انتظار میں گھنٹوں بیٹھیں۔ آپ کے موڈ کی پروا کریں۔ آپ کے فوٹوز اخبارات پر چھپیں، ٹی وی پر انٹرویوز ہوں۔ اور پھر یہ خواہشات آپ کو اطاعت پر مجبور کر دیتی ہیں۔ گوتم بدھ سے کسی نے پوچھا تھا: انسان کا سب سے بڑا دشمن کون ہے تو جواب دیا: اس کی اپنی خواہشات۔ لاکھوں لوگوں پر حکمرانی اور اپنے حلقے کے لوگوں پر رعب جمانے کے چکر میں پھر آپ یہ نہیں دیکھتے کہ جس چوکھٹ پر آپ نے جا کر سجدہ کیا ہے وہ اس قابل ہے بھی یا نہیں۔ پھر آپ بھی اس ٹولے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ آپ کو احساس ہوتا ہے کہ ٹھیک ہے جناب ہمارا کیا لینا دینا کہ وہ کیا کرتے ہیں اور کیوں کرتے ہیں۔ پھر آپ کے لیے ملک اور عوام کے مفادات اہم نہیں رہ جاتے۔ پھر آپ پہلے اپنے مفادات دیکھتے ہیں اور آپ کو لگتا ہے کہ اپنے لیڈرز کی کرپشن اور مار دھاڑ کا دفاع دراصل اپنا ذاتی دفاع ہے۔ وہ اگر اقتدار میں ہے اور پورا اونٹ ذبح کرے گا تو پھر آپ کو بھی ایک پاؤ گوشت ملے گا۔ یوں اپنے ایک پاؤ گوشت کے چکر میں یہ لوگ اپنے ملک اور ریاست کا پورا اونٹ ذبح کرتے ہیں۔

اگر چودھری نثار واقعی اپنے مفادات پر ملک اور قوم کے مفادات کو ترجیح دیتے تو وہ پریس کانفرنس میں ہمیں یہ راز نہ بتا رہے ہوتے کہ انہوں نے نواز شریف اور ان کے خاندان کو عدالتوں سے سزاؤں سے بچانے کے لیے کیا گُر سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ یہ بات بڑی واضح ہے کہ چودھری نثار صاحب پوری طرح اور دل و جان سے نواز شریف کی کرپشن بچانے کے لیے ہر قیمت پر ان کے ساتھ تھے۔ یہ نواز شریف کی بدقسمتی اور اس ملک کی خوش قسمتی کہ نواز شریف صاحب نے چودھری نثار علی خان کے مشوروں پر عمل نہیں کیا، ورنہ جو طریقۂ واردات چودھری صاحب نے بتایا تھا، وہ پاکستان جیسے ملکوں میں نہایت کامیاب تھا اور نواز شریف یقیناً بچ نکلتے۔ تو چودھری صاحب کیا فرمانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اگر نواز شریف بھی اسی طرح اچھے بچے بن کر رہتے، جیسے شہباز شریف نے ان کے مشورے پر عدالتوں اور فوج کے حوالے سے اچھا بننے کی اداکاری کی اور بچ گئے تو وہ بھی بچ جاتے؟

یہ ہے جناب اس ملک کا سابق وزیر داخلہ جو پچھلے تیس سال سے سب الیکشن جیتتا رہا ہے۔ جو قومی اسمبلی اور وزارت کا یہ حلف لے کر آغاز کرتا تھا کہ میں اس ملک اور عوام کے مفاد کا خیال رکھوں گا۔ آج پتا چلا وہ حلف دراصل نواز شریف اور ان کے خاندان سے وفاداری اور ان کو کرپشن سے بچانے کا حلف تھا۔ شکریہ نواز شریف صاحب، آپ نے ان کے مشورے نہیں مانے، ورنہ ان کی پریس کانفرنس سے لگ رہا تھا کہ وہ واقعی آپ کو اور آپ کے بچوں کو بے تحاشا کرپشن کے باوجود صاف بچا کر نکال کر لے جاتے، جیسے شہباز شریف کو ’اچھے مشورے، ، دے کر سیریس اور سنگین حدیبیہ سکینڈل میں سے نکال لے گئے!

بشکریہ روزنامہ دنیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں