اِن سائٹ مشن: مریخ کے اندر جھانکیں


امریکہ کیریاست کیلیفورنیا کے ویڈن برگ فضائی اڈے سے لانچ کیا گیا اِن سائٹ مشن سیارے مریخ کی جانب چھ ماہ کے سفر کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ نومبر تک وہاں پہنچے گا مگر وہاں پہنچ کر یہ دریافت کیا کرے گا؟

سیارہ مریخ پر پہلے ہی متعدد روبوٹس بھیجے جا چکے ہیں اور ایک اور لینڈر بھیجنے کا مقصد کیا ہے؟

مصور اور ماہرِ فلکیات جیمز ٹیوٹل کین نے چند تصاویر کے ذریعے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اِن سائٹ مشن کیا ہے اور یہ اتنا منفرد کیوں ہے۔

اِن سائٹ مشن سیارہ مریخ کے الیسیئم پلینیشا مقام پر لینڈ کرے گا۔ مریخ کے شمال میں موجود میدانی علاقے اور جنوب میں واقع سطع مرتفع کے درمیان کی سطر سے مقام تھوّا ہی شمال میں ہے۔

اس کے قریب ہی گیل کریٹر ہے جہاں ناسا کا لینڈ روور کیوروسٹی بھی تحقیق میں مصروف ہے۔

ایک دفعہ لینڈ ہونے کے بعد اِن سائٹ کو اپنے آلات مریخ کی سطح پر نصب کرنے میں دو ماہ لگیں گے۔

اِن سائٹ کا ایک بازو انتہائی احتیاط کے ساتھ سائزمومیٹر سیارے کی سطح پر رکھے گا جس کا کام اس سطح کے نیچے موجود تہہ کی تحقیق کرنا ہوگا۔ یہ آلہ مریخ پر گرنے والے شہاب ثاقب کے سگنلز جانچ سکے گا جو کہ مریخ کے اندرونی ڈھانچے کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔ یہ آلہ یہ بھی جاننے کی کوشش کرے گا کہ مریخ پر زلزلے آتے ہیں یا نہیں یعنی کہ یہ سیارہ ارضیاتی طور پر فعال ہے یا نہیں۔

ابھی سائنسدانوں کو یہ نہیں معلوم کہ کیا مریخ کا اندرونی ڈھانچہ زمین کے اندرونی ڈھانچے سے مماثلت رکھتا ہے یا نہیں، جس میں مرکز کی وسطی سطح ٹھوس اور بیرونی سطح مایا ہے۔

ماضی میں اس سے ملتی جلتی تکنیک زمین اور چاند کے اندورنی ڈھانچے کی تحقیق کے لیے استعمال کی جا چکی ہے جب اپولو کے خلا بازوں نے چاند پر زلزلوں کے حوالے سے معلومات جمع کی تھیں۔

اِن سائٹ کا حرارتی پروب ایچ پی 3 مریخ کی سطح پر پانچ میٹر نیچے تک جا کر یہ جاننے کی کوشش کر گا کہ اس سیارے کے اندرونی ڈھانچے سے کتنی یونائی خارج کی جا رہی ہے۔

اس سے معلوم ہوگا کہ کیا مریخ چاند اور زمین جیسے اجرا رکھتا ہے اور اس بات کا بھی اندازہ لگایا جائے گا کہ مریخ وجود میں کیسے آیا۔

ادھر رائز نامی تجربہ سائنسدانوں کو اِن سائٹ کے ہر وقت صحیح مقام کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔

زمین اور اس لینڈر کے درمیان ریڈیو سگنل کی مواصلات سے سائنسدان ڈوپلر افیکٹ استعمل کرتے ہوئے اس بات کا تعین کر سکیں گے کہ مریخ کا قطبِ شمالی سورج کے گرد گھومنے کی وجہ سے کس قدر ہلتا ہے۔

قطبِ شمالی کے اپنے ایکسز پر ہلنے سے سائندانوں کو مریخ کی مرکزی ساکھ کا معلوم ہوگا کہ اس میں کتنا ٹھوس اور کتنا مایہ ہے۔

یہ مشن 728 زمین ایام تک جاری رہے گا اور توقع ہے کہ یہ اس کائنات کے 4.6 ارب سال قبل تخلیق کے عمل کے بارے میں بھی معلومات دے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5664 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp