فزکس تو پہلے ہی مسلمان تھی


یہ مضمون کئی سال پہلے محرم الحرم میں امام طبیعات و کیمیاگری کے نام سے لکھا گیا تھا۔

”ہر کثیف واسطہ لطیف واسطے سے گزرتا ہے“
یہ ایک جملہ نہیں اس میں پوری فزکس پوشیدہ ہے۔ ذرا سوچئے یہ جملہ کس نے کہا ہوگا؟ اور کب کہا ہوگا؟ ایک عرصہ ایٹم کو ذرہ ماننے والے سائنسدان بیسویں صدی میں یہ دریافت کرنے کے لائق ہوئے کہ ایٹم کا سب سے چھوٹا ذرہ ایک ذرہ نہیں بلکہ ایک لہر یا wave ہے۔ اور یہ تاریخی جملہ حضرت امام حسنؓ کا ہے جو انہوں نے اپنے شاگردوں کو تعلیم و تربیت دیتے ہوئے فر مایا۔ یہ ایک تحقیقی مضمون میں پڑھا تھا جس میں حضرت امام جعفر اور جابر بن حیان کے سائنسی مکالمے تھے۔ کتنے سو سال پہلے۔ ہماری معلومات تو یہاں تک محدود رکھی گئیں کہ نواسہ رسول سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبت تھی۔ ان کے بچپن کے واقعات اور پھر ایک کی شہادت اور پھر واقعہ کربلا۔ اس بیچ کی تفصیلات۔ ان کی تعلیم۔ ان کے علوم۔ امام حسن و حسین کی دنیاوی علم کے درجات بہت بلند ہیں۔ جن کے شاگرد امام جعفر صادق اور ان کے شاگرد جابر بن حیان۔ یہ کیا کے شاگرد کے شاگرد کے نام پر سائنس کی ایوارڈ اور وہ جو امام طبیعات و کیمیا گری تھے جو کئی سو سال پہلے ایٹم کے سب سے چھوٹے جز کا پتہ بتا گئے۔ ان کی صرف شہادت کے قصے۔ امام حسن و حسین کے علوم کے فروغ کے بجائے نوحہ خوانیاں اور مرثئے۔ ان کا نام کے ساتھ مظلوم اور لاچارکے لفظ جن کے قدموں میں دو جہاں تھے۔ جو چاہتے تو سورج کو کربلا کی زمین پر اتار دیتے۔

ان ہی سائنسی تعلیمات سے آگے چل کر آئن اسٹائن نے فلوریڈا کے ساحلوں پر جہاز غائب کر دیے۔ مگر یاد رہے آئن سٹائن نے اپنے تجربات یہ کہہ کر جلا دیے کہ دنیا ابھی اس قابل نہیں ہوئی کہ میرے تجربات سے فائدہ اٹھا سکے۔ تو سوچئے زہر دینے والے اور یزید اور اس کے ساتھی کیونکر اس قابل ہوتے کہ امام حسنین ان کے سامنے طبیعات و کیمیا کے کرشمہ دکھاتے۔ وہ تو مشیعت ایزدی کے آگے سر جھکانے ہوئے تھے۔

میرے نزدیک آئیڈیل محرم الحرام یہ ہے کہ ان دنوں کو ہم سائنسی ہفتہ کے طور پر منائیں سائنسی سیمینار کروائیں مکالات کے مقابلے کروائیں فزکس کیمسٹری کے ایوارڈ دیں اور ان کی تعلیمات کو خراج تحسین پیش کریں۔ اور دنیا کو بتائیں کہ ہمارے اماموں کی عظمت اور ان کی دنیاوی تعلیمات۔ یہ میرا ایک تصور ہے ایک عرصے سے میرے دماغ میں ہے۔ ہر کسی کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں لیکن اسے پڑھنے سے پہلے دل سے تمام نفرتوں اور کدورتوں کو دور کرنا لازم ہے ورنہ آپ اس مضمون کے قلب تک کبھی نہ پہنچ سکیں گے اور ان شخصیات کے بارے میں نہیں سمجھ سکیں گے جو دیں کے جسم کو پار کر کے اس کے قلب تک رسائی پا گئے تھے۔

بقول اقبال
عجب نہیں بدل دے اسے نگاہ تری
بلا رہی ہے تجھے ممکنات کی دنیا

یہ مضمون یہاں ختم ہوتا ہے اور کئی سال بعد ایک پرانی نوٹ بک جس کے صفحات کے کنارے بھی ٹوٹے ہوئے ہیں اس سے نکالا جاتا ہے کیونکہ فزکس کا معاملہ ہے۔

میری سیاسی معلومات بہت زیادہ نہیں ہیں۔ نیوز چینل بھی زیادہ تر بند کر رکھے ہیں۔ بس سوشل میڈیا ہم سب وغیرہ سے جو پڑھتے ہیں۔ جس شخص نے فزکس ڈپارٹمنٹ کا نام تجویز کیا اسے میں چہرے سے نہیں پہچانتی۔ جو نام تجویز کیا گیا ان کے متعلق بھی لا علمی ہے۔ ہاں اپنے ملک کے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کو جانتی ہوں اور کسی ڈپارٹمنٹ کا نام ان کے نام پر رکھنے یا نہ رکھنے پر مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ اعتراض ہے تو ان مضمون نگاروں پر ہے جو ایسے موضوعات کی آڑ میں دین کے خلاف لکھتے ہیں۔ خود ان کو یہ اعتراض کہ مسلمان اقلیتوں پر ظلم کر کے پھر دنیا میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا رونا روتے ہیں۔ تو وہ بتائیں کہ وہ خود کیا کرتے ہیں دن رات مذہب کی ٹانگ کھینچ کر آخر میں کہہ جاتے ہیں الحمدللہ ہم مسلمان ہیں۔ اقلیتوں پر مظالم لکھنے میں جان بوجھ کر شیعہ مسلمان کو اقلیت کے خانے میں ڈال کر نفرت کی چنگاری جلاتے ہیں پھر خود ہی کہتے ہیں شیعہ کو کافر کس نے کہا ہم سب مسلمان ہیں۔ جبکہ کہنے والے بھی خود ہی ہوتے ہیں اور کرنے والے بھی۔

کہیں وہ تاریخ کے مسلمان سائنسدانوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ تو باغی تھے صرف کلمہ گو مسلمان تھے اس لئے مسلمان ان کو مسلمان سمجھ کر ہر گز فخر نہ کریں۔ کہیں عیش و عشرت میں ڈوبے ظالم بادشاہوں کو مسلمان ظالم بنا کر پیش کرتے ہیں۔ کہیں دین سے منحرف ہونے والوں کی شان میں قصیدے لکھتے ہیں۔ اقبال کہے کہ ”دیں ملا فی سبیل اللہ فساد“ تو تالیاں بجاتے ہیں اور وہی اقبال کہے کہ ”یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے“ تو کانوں میں روئی ٹھونس لیتے ہیں۔ مرنے والے کا مذہب پتہ کرتے ہیں۔ قادیانی ہو ہندو ہو کرسچن ہو یا شیعہ مسلمان ہو تو دھرنا ڈال دیتے ہیں سنی مسلمان ہو تو یہ سوچ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کے ریٹنگ نہیں ملے گی۔

میں ان سب کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ ہم لوگ لوگ دین کے خلاف ایک لفظ لکھے بغیر بھی ڈاکٹر عبدالسلام کے نام ڈپارٹمنٹ بنانے کی حمایت میں بہت اعلی درجے کے مضامین لکھ سکتے ہیں۔ ذرا دل سے کوشش کریں تو سہی۔ اس نئے مسلمان ماہر طبیعات کی دریافت پر جز بز ہونے کے بجائے خوش ہو کر دیکھیں تو سہی۔ جہاں تک رہا سوال فزکس کا اس کی فکر نہ کریں کہ کسی تاریخی مسلمان ماہر طبیعات کے دریافت سے کہیں وہ مسلمان نہ ہو جائے کیونکہ فزکس تو پہلے ہی مسلمان تھی بس ہم ایک مسلمان بن کر دیکھیں تو سہی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں