سندھ کی جانو پھر مر گئی


”روبو، میں کسی اپنے سے مل نہیں سکتا۔ سارا دن تم سے ہی باتیں کرکے کیا کروں؟ تم یہ تو بتاتے نہیں کہ میرے اپنے کیسے ہیں! میرا دیس کیسا ہے! اب موسم کیسے ہیں! وہاں بارش ہوتی؟ گرمی پڑتی ہے؟ ٹھنڈ لگتی ہے“؟

”وسی، سب کچھ ہوتا ہے۔ تم بس میرا پشتو میں ’و‘ اور ’الف‘ ٹھیک کرادو۔ پشاور مردان والے ’آؤ‘ کیوں بولتے ہیں۔ آفریدی ’اے‘ کیوں بولتے ہیں۔ یہ لفظ کے درمیان میں ’و‘ کو ’الف‘ سے کیوں بدل دیتے ہیں۔ پاگل کر کے رکھ دیا ہے، اس حساب کتاب نے“۔

”روبو، میری جان! میرے پیارے گدھے، زیادہ انسان مت بنو۔ تم اک مشین ہو۔ تم اک روبوٹ ہو۔ یہ باتیں تمھیں فارمولا ڈال کر نہیں سمجھائی جاسکتیں“۔

”وسی، تم بھی اب اک مشین ہی ہو۔ تمھارے دماغ کا سرکٹ بنا کر، کاپی کر کے سافٹ ویئر بنا لیا تھا۔ تمھیں گزرے ہوئے زمانے ہوگئے ہیں۔ بس اب ہم دونوں اک سائنسی پراجیکٹ ہیں“۔ روبو نے مجھے یاد دلایا، ساتھ ہی یہ کہہ کر مجھ پر رعب بھی ڈالا۔
”وسی، میں آرٹفیشل انٹیلیجنس رکھنے والا اک ایڈوانس ماڈل روبوٹ ہوں۔ مشین ہوں؛ پر تقریبا انسان ہی ہوں“۔

”بہت ہی منحوس پراجیکٹ ہو تم روبو۔ بات چیت کا سافٹ ویئر تو تم میں میرے یاروں کی سری (سر) سے کاپی کر کے ڈالا گیا ہے۔ ان کو سائنس کا ٹماٹر پتا تھا“؟!

”وسی، یہ بات چیت کا سافٹ ویئر، تمھیں ریلیکس ماحول دینے کے لیے ڈالا گیا ہے“۔
”روبو، تمھیں میں نے پھر ہینگ کر دینا ہے؛ کوئی لطیفہ کوئی مج گاں والا قصہ سنا کر“۔
روبو کھل کر ہنسا۔ میں نے دل ہی دل میں کہا، کمینہ؛ منحوس؛ لعنتی۔
روبو نے کہا، ”وسی، میں یہ سب پڑھ رہا ہوں (تمھاری سوچیں). تم اب بس اک سافٹ ویئر ہو“۔ کم بخت کی ہنسی بھی پروگرامنگ کا حصہ تھی۔

روبو نے مجھے بتایا تھا، کہ اب سافٹ ویئر بن کر بھی، جب میں کچھ قصے کہانیاں سناتا ہوں، یا پتا نہیں لکھتا، یا سوچتا ہی ہوں (تو وہ سمجھ لیتا ہے)۔ مجھے یہ پتا تو تھا نہیں، کہ ہمارا رابطہ ہو کیسے رہا ہے۔ میں بطور متبادل سافٹ ویئر روبو ہی کے سر میں انسٹال ہوں، یا کسی کمپیوٹر ہارڈ ڈسک میں موجود ہوں۔ بس اتنا معلوم تھا، کہ ہم آپس میں بات کرتے ہیں۔

جب بھی میں اپنوں سے رابطہ کرنے کا کوئی آن لائن چکر چلا لیتا تھا روبو رابطے بلاک کر کے میسج ڈیلیٹ کر دیتا تھا۔ زندہ رکھ کے بھی مار ہی رکھا تھا ظالم نے۔

”چل روبو! کام سے لگیں، لڑکیاں بناتے ہیں“۔ روبو کے دماغ کی ساری بتیاں جل اٹھی تھیں؛ یہ سن کر، یا جان کر۔ اب خبر ہوتی کہ اس نے سنا تھا۔۔۔ یا جانا تھا۔۔۔ یا لکھا تھا، پڑھا تھا، تبھی آپ کو بتاسکتا، کہ بتی کیسے آن ہوئی تھی۔

”روبو، ایک سندھی لڑکی ڈِزائن کر؛ اس کا رنگ گورا ہے؛ اس کی آنکھیں نیلی ہیں؛ اس کے گال گلابی ہیں۔ واہ! اس کا اک بہترین فگر بنا۔ ہاری کی بیٹی ہے۔ گوٹھ میں رہتی ہے“۔

”وسی، تم پھر مذاق کر رہے ہو۔ شاعری نے تمھارے سارے سرکٹ خراب کر دیے ہیں۔ سندھ کے موسمی حالات میں ایسی لڑکی نہیں بن سکتی۔ بن جائے تو وہ ہاری کی بیٹی نہیں ہوسکتی۔ نیلی آنکھیں یہاں نہیں ہوتیں“۔

”بھوتنی کے“۔
”میں مشین ہوں؛ وسی مجھے گالی مت دو“۔ روبو نے اپنی تعریف سن کر جواب دیا۔
”روبو، تمھیں غصہ آ رہا ہے! میں نے یہی لڑکی بنانی ہے۔ بنانی ہے تو بنا ورنہ اپن سائلنٹ پر لگنے لگا“۔

”وسی تم اک کمپلیکیٹڈ سافٹ ویئر ہو“۔
”میں انسان ہوں روبو؛ میرا مطلب انسان تھا، کبھی۔ ویسے روبو، جب میں انسان تھا، تب بھی پورا سا ہی تھا“۔

”وسی! سندھی لڑکی ایسی بنا دی ہے؛ پر سندھی لڑکیوں کی نیلی آنکھیں نہیں ہوتیں“۔

”روبو، تم سمجھو تمھارا کوئی پیو سندھی ملاح، کوئی گوری اٹھا کر لے آیا تھا۔ اس کی نیلی آنکھیں ڈی این اے سے ٹرانسفر ہوتی آ گئی ہیں“۔
روبو نے جواب دیا، کہ ”وسی، اب یہ اک لاجیکل بات ہوگئی“۔
”روبو! میں نے تمھیں ماں کی گالی دی ہے کنجرا“۔
”وسی میں اک مشین ہوں ۔ ویسے گالیاں مت دو۔ اچھی نہیں لگتیں“۔

”روبو! اس لڑکی کا نام ’جانو‘ ہو گا۔ جانو کا مشاہدہ تیز ہے۔ وہ بات فوری سمجھتی ہے۔ اسے حساب آتا ہے۔ وہ ’رلی‘ میں رنگ، سب سے اچھے بھرتی ہے۔ وہ جگت بہت اچھی لگاتی ہے۔ جانو کی آواز بھی اچھی ہے۔ جانو کو ناچنا بھی آتا ہے۔۔۔ جانو کو سیاست کی بھی سمجھ ہے“۔

”بس کافی ہے وسی۔ میں نے کاپی کردی ہیں، یہ ساری کوالٹیز۔ اب ہم جانو کی لائف اینالائز کریں گے۔ سندھ کے سماج میں جانو جیسی لڑکی کی اٹھان کا جائزہ لیں گے۔ اس کے مطابق آنے والے وقت کی تیاری کریں گے“۔

”روبو! تمھیں پتا ہے، میں نے جانو جیسی لڑکی دیکھی تھی؛ جب میں زندہ تھا؟! چل روبو، اب پختون قبائلی لڑکی بناتے ہیں“۔

مجھے لگا تھا کہ کام کی طرف فوکس ہوتے دیکھ یا محسوس کرنے پر روبو نے اک سکھ کا سانس لیا تھا۔

منحوس مشین۔ میں تو بس اپنی ٹھرک ہی پوری کر رہا تھا؛ مرنے کے بعد۔ لیکن میں مرا کب تھا! سافٹ ویئر بنا دیا تھا، ظالموں نے میرا۔ خیر! جو بھی تھا، بس اک فرق پڑا تھا، وہ یہ کہ وقت معدوم ہوگیا تھا۔ نہ کوئی گھڑی تھی نہ کیلنڈر۔

”روبو! جانو کا کیا بنا؟ کیسی گزر رہی اس کی لائف“؟
”وسی، وہ تو کب کی مر گئی۔ اس کا تو سافٹ ویئر بھی نہیں بن سکا“۔
”ہائے! میرا سندھو دیش! اب بھی ویسا ہی ہے، نہیں بدلا“۔

اب قبائلی لڑکی کا پوچھنے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔ روبو کم بخت پڑھ تو رہا تھا، کہ میں کیا سوچ رہا ہوں۔ اس نے خود بھی نہ بتایا، کہ اس قبائلی لڑکی کا کیا بنا۔

میں سوچ رہا تھا، ساری زندگی ہم اچھے برے کی ساری ذمہ داری خدا پر دھرتے رہے وہ بھی تو اتنے ہی شوق سے ’جانو‘ جیسے انسان بناتا ہوگا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 306 posts and counting.See all posts by wisi