الیکشن سے پہلے سیاستدانوں پر حملوں سے سوال اٹھتے ہیں

سارہ حسن - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد


احسن اقبال

نارووال میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو اُن کے آبائی حلقے میں ایک شخص نے فائرنگ کر کے زخمی کر دیا ہے۔ احسن اقبال نارووال کے علاقے کنجروڑ میں ایک کارنر میٹنگ میں شریک تھے۔

وہ ضلعی ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ڈاکٹروں کے مطابق اُن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

پاکستان کے سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں سمیت مختلف حلقوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے وزیر داخلہ پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی ہے۔

اس وقت پاکستان میں ٹوئٹر پر #AhsanIqbal ٹرینڈ کر رہا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اسد عمر نے وزیر داخلہ احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے ٹویٹ کی کہ ’اللہ انھیں جلد صحتیاب کرے اور حملہ آور کو پکڑ کر فوری سزا دی جائے۔

https://twitter.com/ImranKhanPTI/status/993136772421910528

صحافی مظہر عباس نے کہا کہ ’اچھا ہو گا کہ تمام سیاسی جماعتیں وزیر داخلہ احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کریں۔ یہ دوسروں کے لیے بھی تنبیہ ہے۔‘

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان نے بھی احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔

سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شیری رحمان نے احسن اقبال پر ہونے والے حملے مذمت کی۔ انھوں نے ٹویٹ کی کہ ’احسن اقبال کے زخمی ہونے پر بہت افسوس ہوا ہے۔ امید ہے کہ وہ جلد صحتیاب ہوں گے، اُن کے خاندان کے لیے نیک خواہشات اور اللہ اُن سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔‘

https://twitter.com/sherryrehman/status/993130436539936768

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اافراسیاب خٹک نے ٹویٹ کی کہ احسن اقبال پر فائرنگ کے واقعے پر ملک کا ہر شہری حیران ہے۔ انھوں نے احسن اقبال کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کو مسلح کرنا ایسا راستہ ہے جو مہلک تباہی کی جانب جاتا ہے۔

https://twitter.com/a_siab/status/993127417563754497

پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اُن کی مکمل صحتیابی کے لیے دعا کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث شخص کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

https://twitter.com/CMShehbaz/status/993138490807341057

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار احسین نے وزیر داخلہ پر ہونے والے حملے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات سے قبل سیاستدانوں پر ہونے والے ایسے حملوں بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں۔

https://twitter.com/MianIftikharHus/status/993132056472375296

پاکستان کی فوج کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کی ہے کہ بری فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے بھی احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اُن کے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

ادھر پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے بھی احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ‘حملہ کرنے والا تو ایک ذریعہ ہے، جو سیاسی فوائد کے لیے ، اپنا بدلہ چکانے کے لیے اُن کی سرپرستی کر رہے ہیں اور انھیں اکساتے ہیں وہ اصل مجرم ہیں۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6312 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp