سیاست میں خواتین کی توہین کیوں؟


تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی جانب سے خواتین کے بارے میں غیر مناسب الفاظ استعمال کرنے کے خلاف قومی اسمبلی میں مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی، شیریں مزاری کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے متن میں وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ اور عابد شیر علی کے نام شامل کیے گئے تھے، تاہم اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے اعتراض پر ن لیگ کے دونوں رہنماؤں کے نام قرارداد سے نکال دیے گئے۔

شیریں مزاری نے خواتین کے حوالے سے غیر مناسب الفاظ استعمال کرنے پر فلور آف دی ہاؤس معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اسی طرح پنجاب، سندھ اورخیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی قرارداد جمع کردی گئی ہے۔ تحریک انصاف کی خواتین ارکان نے رانا ثناء اللہ کے خلاف محتسب کو درخواست بھی دی جس میں خواتین سے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر رانا ثناء اللہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

29 اپریل کو مینار پاکستان پر ہونے والے جلسے پر ردعمل دیتے ہوئے لیگ ن کے اہم رہنما وپنجاب کے وزیرقانون رانا ثناء اللہ نے خواتین سے متعلق غیر مناسب الفاظ استعمال کیے تھے، جس پر مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے گزشتہ روز معذرت بھی کی تھی۔

رانا ثناء اللہ کے بیان کے بعد ملک بھر کی سیاسی جماعتوں نے اس کی مذمت کی جو خوش آئند بات ہے کیونکہ ایک عور ت ماں، بیوی، بہن، بیٹی ہر روپ اور ہر رشتے میں عزت، وقار اور وفاداری کا پیکر ہے۔ خواتین کا احترام دراصل نوع ِ انسانی کے احترام کے مترادف ہے، مائیں بہنیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں ان کا احترام ہم پر فرض ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں خواتین سیاسی رہنماؤں کے بارے میں نازیبا الفاظ کہنے کی تاریخ بہت پرانی ہے، یہاں بانی پاکستان محمدعلی جناح کی بہن مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو نہیں بخشا گیا۔ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے شہید محترمہ بینظیربھٹو کو معاف نہیں کیا۔ پاکستانی سیاست کی اہم خاتون رہنما بیگم نسیم ولی کے خلاف بھی نازیبا الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال جب سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی اہلیہ کلثوم نوازکو کینسر جیسا موذی مرض لاحق ہوا تو انہیں سیاسی مخالفین کی جانب سے ڈرامہ باز خاتون قرار دیا گیا۔ غرض یہاں کے نام نہاد سیاستدانوں کے ہاتھوں کوئی بھی خاتون سیاسی رہنما محفوظ نہیں رہی لیکن یہ سلسلہ مزید بڑھتا جارہاہے۔

دیکھا جائے تو اس معاملے میں تحریک انصاف بھی کسی سے پیچھے نہیں، عمران خان کی دوسری شادی کے بعد جن لوگوں نے ریحام خان کو عرش تک پہنچایا انہوں نے ہی طلاق کے بعد اس عورت کو نیچے فرش پر پھینکا۔ پارٹی چھوڑنے پر عمران خان نے ناز بلوچ کے بارے میں کہا کہ وہ کام کی نہیں تھی اچھا ہے چھوڑ کے چلی گئی۔ فوزیہ قصوری نے پارٹی سے اختلاف کیا تو ان کے خلاف سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کیا گیا۔ تحریک انصاف کے رہنما فیاض چوہان نے سینئر سیاستدان ونیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ خان عبدالولی مرحوم کی اہلیہ کے بارے میں کیسی گفتگو کی وہ کسی سے پوشید ہ نہیں۔ عامر لیاقت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کی ذاتی زندگی پر پورا پروگرام کیا اور ایسے الفاظ دوہراتے رہے جو کسی سیاستدان کے شایان شان نہیں تھے۔ اگر تحریک انصاف واقعی تبدیلی لانے والی جماعت ہوتی تو وہ خواتین کے خلاف نازیبا الفاظ اداکرنے پر اپنے ہی پارٹی رہنماؤں کے خلاف کارروائی کرتی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی البتہ پوائنٹ سکورکرکے خود کو خواتین کے حقوق کی علمبردار جماعت ثابت کرنا چاہتی ہے۔

سیاستدانوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو خود تک محدود رکھیں، اپنے اختلافات میں خواتین کو نہ گھسیٹیں کیونکہ ماہیں بہنیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں، ان کی عزت نہیں کرسکتے تو توہین بھی نہ کریں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں