انگوٹھے لگوا کر انگوٹھا دِکھانے والوں کا امتحان


گزشتہ دِنوں ٹنکی گراونڈ لیاقت آباد کے جلسہ عام میں ایم کیو ایم پاکستان نے اپنے ایک نئے نعرے ”رہنما نہیں منزل چاہیے“ اور ساتھ ہی اپنی نئی فکروجدوجہد ”ہماری منزل متروکہ سندھ ہے“ کا عندیہ دے کرمُلکی سیاست میں اپنی انٹری کرادی ہے جس کے بعد نہ صرف سندھ بلکہ پورے مُلک کے سیاسی ماحول میں ایک بھونچال سا آگیاہے متحدہ کی اِس انٹری کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کو گروپوں میں بٹادیکھتی سیاسی جماعتوں کی انداز سیاست کا نیا رنگ بھی سامنے آنے لگا ہے غرضیکہ ایم کیو ایم کی گرما گرم آمد سے کراچی سمیت پورے مُلک میں سیاسی گہماگہمی عروج پرپہنچ چکی ہے۔
حالاںکہ ابھی ن لیگ کی حکومتی مدت ختم نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی نگراں حکومت کاقیام عمل میں آیا ہے اور تو اور الیکشن کمیشن نے بھی ابھی تک باقاعدہ طور پر انتخابی شیڈول کا اعلان نہیں کیا ہے مگرایک بار پھر اگلے متوقع انتخابات میں انگوٹھے لگوا کر ووٹرز کو انگوٹھے دِکھانے والے سیاسی بازی گروں حکمرانوں اور سیاستدانوں نے کراچی کا رخ کرلیا ہے۔

یوں اِن دِنوں شہرِ قائد کراچی عام انتخابات سے قبل ہی سیاسی جماعتوں کے جلسوں کے لئے اسٹیج بنا ہوا ہے جب کہ گندگی و غلاظت کے انباراور مسائل کو اپنے سینے سے لگا ئے پینے کے پا نی کی بوند بوند سے محروم، جابجا ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور ابلتے گٹروں کے گھٹنوں تک کھڑے گندے بدبودار سیوریج کے پانی کے ساتھ کراچی کے دیگر مسائل کے حل کی جانب کسی کی توجہ نہیں ہے مگر آج اِس پر بھی ہر جماعت کراچی میں جلسے کر کے اپنی فتح کی دعویدار ہے ن لیگ سے لے کر پی ٹی آئی اور پی پی پی سے لے کر ایم کیو ایم (پاکستان) اور جے آئی سمیت ایم کیو ایم (حقیقی ) اور پی ایس پی سے لے کر اے این پی اور جے یو آئی (ف) تک سب ہی تو خود کو کراچی کی سب سے بڑی فاتح جماعت قرار دے رہی ہیں سوچیں آج کس منہ سے اپنی جیت کے لئے کراچی میں جلسے کرنے والی یہ جماعتیں لہک لہک کر اپنی فتح کا اعلان کررہی ہیں جب کہ کئی سال سے کسی نے کبھی کراچی کے مسائل حل کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا ہے تو پھر کہاں کی جیت؟ اور کیسے فتح کے دعوے؟

تاہم گزشتہ سے پیوستہ ٹنکی گراونڈ لیاقت آباد کراچی میں ہو نے والے پی پی پی کے جلسہ عام کے جواب میں پچھلے دِنوں اِسی مقام پر ایم کیو ایم (پی آئی بی) اور ایم کیو ایم(بہادرآباد) کامشتر کہ جلسہ عام اپنی سابقہ زبانی و جسمانی و خیالی و تفکری روایات کے برعکس ثابت ہوا آج ایم کیو ایم کے دو علیحدہ علیحدہ گروپوں میں بٹے رہنے والے ٹولے کو ایک کرنے کا سہارا بیشک پی پی پی کے سرجاتا ہے پی پی پی ٹنکی گراونڈ جو ایم کیو ایم کا دل سمجھاجاتا ہے یہاں اپنا جلسہ عام نہ کرتی تو ممکن تھا کہ یوں ایم کیو ایم کے یہ دونوں گروپس نہ ملتے اور ایک ہونے میں تھوڑا وقت اور لیتے مگر آج تمام سیاسی و ذاتی اختلافات بھلا کر پی پی پی کے ایک جلسے نے اِنہیں ایک کر دیا ہے اور دونوں گروپس باہم شیر وشکر ہو گئے ہیں جو کہ کراچی کے امن و سلامتی اور ترقی کے لئے ایک نیک شگون ثابت ہوگا مگر بظاہر کئی اختلافات میں بٹے دونوں گروپس کا ایک ہونا اچھا عمل ہے پھر بھی دیکھتے ہیں کہ اَب یہ کب تک ایک رہتے ہیں؟ اندورنی اور بیرونی طور پر یہ دونوں گروپس اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کو بالائے طاق رکھ کر خالصتاً اپنے ووٹرزاور شہر کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوکرایک ہوکر چلتے ہیں؟ اور آئندہ عام انتخابات کے بعد تشکیل پانے والی حکومت سے شہر کراچی کے لئے اپنا کیا فعال کردار اداکرتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات اِسی صورت شہرقائد کے عوام اور پاکستا نی قوم کو ملیں گے جب یہ ایک ہو کر چلیں گے۔

بہرحال، آج اِس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ٹنکی گراونڈ لیاقت آباد کراچی کے ایم کیو ایم کے جلسہ عام نے مُلک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں ن لیگ، پی پی پی اور پی ٹی آئی سمیت کراچی کی دیگرچھوٹی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں پی ایس پی، جے آئی، اے این پی، ایم کیو ایم (حقیقی)اور جے یو آئی (ایف) کی کراچی پر سیاسی قبضے کی خوش فہمی پر اُوس ضرور ڈال دی ہے اور اِنہیں ایک ایسے چیلنج سے دوچار کردیاہے اَب جس سے نبرد آزماہونے کے لئے سب کو ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑے گا۔

اَب یہ کتنا ٹھیک ہے کہ کراچی کے عوام کی اصل نمائندہ اور ٹھیکدارکہلانے والی جماعت صرف اور صرف ایم کیو ایم پاکستان ہے؟ آج اِس سوال کا جواب اگلے متوقع عام انتخابات سے قبل ایم کیو ایم پاکستان کو ہی شہر کراچی کی گندگی اور غلاظت کے انبار صاف کرکے اور دیگر مسائل فوری طور پر حل کر کے اپنے ووٹرز اور اپنے شہر کے باسیوں کو دینا ہے اور ثابت کرنا ہے کہ ہاں یہی کراچی کے عوام کی اصل نمائندہ اور ٹھیکدار جماعت ہے اگر یہ اِس میں ناکام ہوئی تو پھر ٹنکی گراونڈ پر ہونے والا جلسہ بھی اِس کی کامیابی کا ضامن نہیں ہو گا۔

آج جہاں ایم کیو ایم پاکستان اپنے بلدیاتی میئر کے ہوتے ہوئے کراچی میں گندگی و غلاظت کے انبارکو صاف کرنے اور کرانے اور شہریوں کو پینے کے پا نی کی فراہمی اورکے الیکٹرک پر اپنا سیاسی و اخلاقی دباؤ بڑھا کر شہر میں بجلی کی علانیہ اور غیرعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے سمیت دیگر بنیادی نوعیت کے مسائل حل کرنے میں بری طرح سے ناکام رہی ہے تو وہیں اِسے یہ بھی ضرور تسلیم کرنا پڑے گا اِس نے دیگر مصنوعی سیاسی وجوہات کی بنا پر دیدہ دانستہ کراچی کے مسائل حل کرنے سے چشم پوشی اختیارکیے رکھی جس کی وجہ سے بھی شہر قائد مسائل کاشکار ہوتارہا مگرآج اِسے ٹنکی گراونڈ کے اپنے کامیاب جلسے کے بعد ہر حال میں شہر کراچی کو صاف ستھرا شہر بنانے اور شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فوری فراہمی اور کے الیکٹرک کی شہر میں جاری ہٹ دھرمی کو لگام دینے سمیت دیگر مسائل کے حل کے لئے وفاق سے مدد لے کر اپنی سیاسی مشینری کو بروئے کارلاتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گیں تو کو ئی شک نہیں کہ ایم کیو ایم پاکستان اگلے متوقع عام انتخابات میں شہر سے جیت جائے ورنہ ٹنکی گراونڈ کا کامیاب جلسہ عام بھی اِس کی جیت کا ضامن نہیں ہوگا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں