جوہری معاہدے ختم کرنے پر امریکہ کو پچھتاوا ہو گا: ایران کی امریکہ کو تنبیہ


Trump / Rouhani

EPA
ایران نے صدر ٹرمپ کو تنبیہ کی ہے کہ ایران کے پاس ٹرمپ کے کسی بھی فیصلہ کو جواب دینے کے لیے منصوبہ موجود ہے

ایران نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کیا جانے والا جوہری معاہدہ منسوخ کر کے اُسے بہت ‘پچھتاوا’ ہو گا۔

ایران کے صدر حسن روحانی کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 12 مئی کو جوہری معاہدے کی توثیق ختم ہونے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اُسے ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر میں صدر حسن روحانی نے کہا کہ ‘اگر امریکہ نے جوہری معاہدے کو ختم کیا تو اُسے تاریخی پچتھاوا ہو گا۔’

اس بارے میں مزید جانیے

’ٹرمپ کو ایران جوہری معاہدہ ختم نہیں کرنے دیں گے‘

’صدر ٹرمپ معاہدہ برقرار رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے‘

امریکہ کا ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے پر زور

امریکہ ایران کے جوہری معاہدے کی حمایت پر مجبور

انھوں نے صدر ٹرمپ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایران کے پاس ٹرمپ کے کسی بھی فیصلہ کو جواب دینے کے لیے منصوبہ موجود ہے۔’

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ پہلے سے طے کیے گئے معاہدے پر مزید کوئی بات نہیں کرے گا۔

گذشتہ ہفتے اسرائیل ‘خفیہ جوہری دستاویزات’ منظر عام پر لایا تھا جس کے مطابق ایران خفیہ طور پر اپنا جوہری پروگرم چلا رہا ہے۔

ایران نے اسرائیل کے وزیراعظم کو ‘جھوٹا’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اُس نے پرانے الزامات تیار کیے ہیں جن کا جواب بین الاقوامی اٹامک انرجی کمیشن دے چکا ہے۔

’امریکہ نے معاہدہ توڑا تو ایران بھی ایسا ہی کرے گا‘

امریکہ ایٹمی معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا: ایران

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری معاہدے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے، اسے ‘فضول’ قرار دیا ہے۔

2015 میں ایران، امریکہ، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کا معاہدے کیا تھا، جس کے بعد ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کی گئی تھیں۔

فرانس، برطانیہ اور جرمنی امریکی صدر کو قائل کر رہے ہیں کہ وہ معاہدے کو ختم نہ کریں کیونکہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنے کے لیے یہ معاہدہ بہت اہم ہے۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن بھی اسی معاملے پر بات چیت کرنے امریکہ پہنچ رہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے صدر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ وہ معاہدہ ختم نہ کریں۔

صدر ٹرمپ نے یہ دھمکی دی ہے کہ کانگریس اور یورپی ممالک کی جانب سے معاہدے میں موجود ‘نقائص’ کو ختم نہ کرنے پر امریکہ 12 مئی کو مدت ختم ہونے کے بعد اس معاہدے سے ‘نکل’ جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ

Reuters
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے خاتمے کا عندیہ دیا تھا

لیکن امریکہ کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومیپو نے کہا تھا کہ یہ خفیہ دستاویزات درست ہیں اور سنہ 2015 میں ایران کے جوہری معاہدے کی ‘بنیاد جھوٹ’ پر تھی۔

صدر ٹرمپ بھی اس معاہدے میں صرف ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود کرنے اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو نہ روکنے کی وجہ سے ناخوش ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایران کو اس معاہدے کے ذریعے 100 ارب ڈالر ملے ہیں جیسے اُس نے مشرق وسطی میں اپنے مخالفین کے خلاف ہتھیار خریدنے اور دہشت گردی میں استعمال کیا ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3725 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp