جمہوری ثقافت میں جنسی آزادی کا کردار


کچھ عرصہ قبل مجھے گجرات یونیورسٹی میں جانے کا موقع ملا۔ دریائے چناب کے مغربی کنارے پر واقع گجرات یونیورسٹی ایک صوفی درویش حافظ حیات کی درگاہ کے احاطے میں واقع ہے۔ نشست کے اختتام پر ایک خاتون نے آگے بڑھ کر ایک سوال کیا۔ سوال میں اس قدر اخلاص تھا کہ مختصر طور پر یہی عرض کی کہ میں اپنا نقطہ نظر لکھ کر پیش کروں گا۔ سوال کرنے والی خاتون صحافت اور ابلاغیات کی استاد پروفیسر ثوبیہ عابد تھیں۔ سوال یہ تھا کہ “ہم سب” میں نہایت سنجیدہ علمی مباحث کے عین بیچ میں سوقیانہ موضوعات کیوں در آتے ہیں؟ سنجیدہ سوال تھا، سنجیدگی سے جواب دینا چاہیے۔ اس ضمن میں درج ذیل نکات میری دانست میں قابل بحث ہیں۔

کیا جنس ایک غیر سنجیدہ موضوع ہے؟ کیا جنس سنجیدہ بحث مباحثے کا مناسب موضوع ہے؟ کیا ادب اور فنون عالیہ سے جنس کو خارج کر دینا چاہئیے؟ انسانی زندگی میں جنسی موضوعات کے لیے کیا جگہ ہے؟ فحاشی کیا ہے؟ فحاشی اور عریانی میں کیا فرق ہے؟ کیا مستور ثقافت اخفا اور اغماض کے پردے میں دوعملی اور منافقت کا راستہ کھولتی ہے؟ کیا انسانی جسم باعث شرم ہے؟ شرم اور ننگ کی حدود کیا ہیں؟ کیا جنسی پیچیدگیاں انسانی زندگی کا حصہ ہیں؟ کیا مکالمے اور تحقیق کے بغیر انسانی زندگی کے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں؟ بیان، اغماض، تسلیم اور تردید کے زاویے تصویر میں کیسے بٹھائے جائیں کہ زندگی کا جو مختصر وقفہ ہمارے نصیب میں آیا ہے اس میں معنی بھرا جا سکے؟ ان سب سوالات میں بظاہر گم شدہ سوال یہ ہے کہ جنسی آزادی کی حدود کا جمہوری معاشرے کی دیگر آزادیوں کے ساتھ رشتہ کیا ہے؟

ہم معاشرے میں کسی بھی آزادی پر بات شروع کرتے ہیں تو فوری رد عمل یہ ملتا ہے کہ مادر پدر آزادی تو کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ آزادی کی حدود تو بہرحال طے کرنا ہوں گی۔ نیز یہ کہ فرض حقوق کے ساتھ بندھا ہے۔ ذمہ داری قبول کیے بغیر حق کیسے مانگا جا سکتا ہے۔ یہ بحث کسی حد تک کچھ بنیادی اصطلاحات کو غلط ملط کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ آزادی فی الحقیقت ایک دائرہ کھینچتی ہے۔ اس دائرے کے اندر انسان انتخاب کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس دائرے کی حدود دراصل اس سرحد کو ظاہر کرتی ہیں جہاں اس آزادی سے تجاوز دوسروں کی آزادی میں مزاحم ہوتا ہے۔ جنسی آزادی کے ضمن میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ ہمیں اپنے جسم پر اختیار ہے، باہم رضامندی سے جسم کی لذت کشید کرنا ایک مثبت قدر ہے۔ انسانی جسم جائز بھی ہے، حقیقت بھی ہے اور کائنات کے مجموعی حسن کا حصہ بھی ہے۔ جنس کا تقاضا جسم سے بندھا ہے۔ جسم کا احترام کیا جائے گا تو جنس کا بھی احترام کرنا ہو گا۔ احترام اور چیز ہے، انکار ایک بالکل مختلف بات ہے۔ اور اس حقیقت کو دوسروں کی ذات پر اختیار اور جبر کا ذریعہ بنانا سرے سے الگ معاملہ ہے۔

انسان خوبصورت ہے۔ انسان بدصورت نہیں ہوتے۔ انسانی جسم قد، کاٹھ، جلد کے رنگ، بالوں کی بناوٹ اور اعضا کے انفرادی اختلاف سے قطع نظر ایک حسین چیز ہے۔ انسانوں کے حسن کا تعلق ان کے عورت یا مرد ہونے سے نہیں۔ حسن کو مرد یا عورت سے منسوب کرنا جسمانی خصوصیات کی بنیاد پر اخلاقیات کی اقدار استوار کرنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح جنس کو مرد یا عورت کے نقطہ نظر سے دیکھنا بھی بنیادی انسانی احترام کے منافی ہے۔ جنس ایک غیر ضروری سرگرمی نہیں اور نہ اس کا مقصد صرف بچے پیدا کرنا ہے بلکہ بھوک، پیاس، علاج، اور روزگار کی طرح جنس ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ جنس سے انکار اور جنس پر ناجائز پابندیاں معاشرے میں ہر طرح کے استحصال اور ناانصافی کا راستہ کھولتی ہیں۔

انسان کی ذات کا احترام انسان کے جسم کے احترام سے بندھا ہوا ہے۔ فرد کے احترام کا تقاضا ہے کہ فرد کے جسم کا بھی احترام کیا جائے۔ انسانی جسم بازار کی جنس نہیں ہے۔ انسان غلامی کے عہد سے آگے نکل آیا ہے۔ سب انسان رتبے، حقوق اور صلاحیت میں برابر ہیں۔ سب انسان جنسی ضروریات رکھتے ہیں۔ اگر کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو نقصان نہ پہنچائے تو اسے اپنے جسم سے خوشی پانے کا مکمل حق ہے۔ معاشرے کا اختیار صرف اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی شخص اپنی جنسی ضرورت کے لئے کسی دوسرے انسان کو نقصان نہ پہنچائے، اس کے احترام کو پامال نہ کرے، اس کی آزادی میں مداخلت نہ کرے۔

انسانی جسم اپنے تقاضے رکھتا ہے لیکن ہم ان تقاضوں کو دوسروں پر مسلط کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ ہم اگر تشدد کے ذریعے اپنی جنسی ضروریات پوری کرنا چاہتے ہیں تو یہ آزادی سے آگے نکل کر جرم کی حدود میں داخل ہو جاتا ہے۔ تشدد سے مراد کیا ہے؟ دوسرے کو مجبور کرنا۔ دوسرے انسانوں کو جسمانی تکلیف پہنچا کر بھی کسی امر پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان کی جائز ضروریات کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا بھی تشدد میں شمار کی جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی افسر کا اپنے ماتحت کو لالچ دینا کہ جنسی مراعات کے نتیجے میں پیشہ ورانہ ترقی دی جائے گی یا دوسری صورت میں نوکری سے نکال دیا جائے گا۔ یہ تشدد ہے۔ خوراک، لباس، سر پہ چھت، سب انسانوں کی ضرورت ہے۔ ان ضروریات کے بدلے میں کسی سے جنسی فائدہ اٹھانا استحصال ہے۔ ایک ماں کو یہ دھمکی دینا کہ اسے جنسی استحصال سے انکار کرنے پر اپنے بچوں سے دور کر دیا جائے گا، جنسی تشدد کی ایک صورت ہے۔ ایسا جنسی تعلق جو خوف، لالچ، دھمکی یا مجبوری کے تحت قائم کیا جائے وہ دو انسانوں کے درمیان برابری، احترام اور باہم محبت پر استوار نہیں ہوتا۔ ایسا ہر تعلق جنسی آزادی کے نام پر حیوانیت کا اظہار ہے۔ مجبوری، خوف اور لالچ کے تحت قائم کئے جانے والے جنسی تعلق سے انسانی زندگی میں خوشی کے بجائے بے بسی، بے گانگی، خوف اور نفرت پیدا ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں فیصلہ کرنا چاہئیے کہ ہماری دنیا میں جنسی تعلق کی کون سی صورتیں استحصال پر مبنی ہیں اور ان کے نتیجے میں کتنی خوشیاں برباد ہوتی ہیں اور کون سے دکھ پیدا ہوتے ہیں۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں