خلائی مخلوق نئی نیوز لیکس ہے: چوہدری نثار


سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ ’خلائی مخلوق‘ نئی نیوز لیکس ہے، کیا نوازشریف نے اچکزئی کا نظریہ اپنا لیا ہے، ساری زندگی نوازشریف اور (ن) لیگ کا سیاسی بوجھ اٹھایا لیکن جوتیاں اٹھانے والا نہیں ہوں، نواز شریف اور مریم کے طعنے اشعار کی شکل میں ملے، ملازم سے میرے خلاف بیان دلوایا، جو کبھی کسی کے خلاف کھڑا نہیں ہوا، سینیٹ کیلئے ذاتی ملازمین کو ٹکٹ دیے، میں نے سپریم کورٹ جانے اور تقریر کرنے سے منع کیا، جے آئی ٹی میں آرمی چیف سے اپنے بندے نہ دینے کا کہا، نواز کی نااہلی کے وقت 45 ارکان اسمبلی میرے ساتھ آنے کو تیار تھے لیکن میں نے منع کیا۔ وزیراعظم کے پاس خلائی مخلوق کا ثبوت ہے تو آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے بات کریں۔ پاکستانی سیاست میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا بلاواسطہ یا بالواسطہ کردار رہا ہے۔

گزشتہ روز پریس کانفرنس میں چوہدری نثار نے کہا کہ کسی آزاد گروپ کا حصہ ہوں نہ ہی کسی سے آرڈر لیتا ہوں۔ عمران خان اور نوازشریف میرے متعلق سوال پر چپ ہو جاتے ہیں تو میرا کیا قصور۔ عمران خان سے کبوتر کے ذریعے رابطہ جاری ہے۔  بڑے بڑے امتحانات آئے پارٹی کو نہیں چھوڑا، (ن) لیگ کے 70 فیصد سےزیادہ افراد نے پارٹی چھوڑ کر دوبارہ جوائن کی، پاناما کا مسئلہ شروع ہوا تو نواز شریف کے سامنے مؤقف رکھا کہ ہمیں سپریم کورٹ نہیں جانا چاہئے، نوازشریف نے تقریر کا فیصلہ کیا تو منع کیا، جے آئی ٹی بنی تو کہا آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو بلائیں، آرمی چیف سے کہیں، فوج کے بریگیڈئیر اس میں نہیں ہونے چاہئیں، نوازشریف نے دو مرتبہ وعدہ کیا لیکن میٹنگ نہیں بلائی۔ یہ بھی کہا اپنا جو دفاع لے کر جائیں۔

عدالت سے فیصلہ آ گیا تو وزیراعظم ہاؤس گیا نوازشریف سے کہا اب کوشش ہونی چاہئے وہ اقدامات کریں جس سے پارٹی کو استحکام ملے، عدلیہ اور فوج کے خلاف ٹون نیچے لے کر آئیں، عوام میں کہیں مجھ سے نا انصافی ہوئی، ملک کو سیدھے راستے پر لیکر جاتا ہوں روک دیا جاتا ہے، یہ نہ کہیں پانچ پی سی او ججز نے یہ کیا، کوئی ڈوریاں ہلا رہا ہے، میرا سپریم کورٹ میں کوئی کیس نہیں، فوج سے تمغہ نہیں لینا، ہم خود سپریم کورٹ گئے کس نے کہا تھا جے آئی ٹی قبول کریں اور اس کے سامنے پیش ہوں، کمیشن بنانے کیلئے خط بھی لکھا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذمہ دار ہم ہیں۔ بار بار کہا سپریم کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ ہی واپس لے سکتی ہے، ہمیں اتنا دور نہیں جانا چاہئے۔ اسے بدنیتی یا میرا ذاتی مفاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔

جب نااہلی ہوئی تو ایم این ایز کا طوفان تھا جو نالاں تھے۔ میں خاموشی سے کچھ کرتا تو 40 سے 45 کا گروپ میرے ساتھ تھا، ساری زندگی یہ گیم نہیں کھیلی، کبھی سازش نہیں کی، ایک ایک اینٹ نواز شریف اور اس جماعت کیلئے رکھی۔ بے شمار ممبر اور منسٹر آئے اب بھی آتے ہیں، سب کو کہتا ہوں پارٹی میں رہنا ہے، ہر قانون سازی میں پارٹی کے ساتھ ووٹ دیا، اسمبلی میں ضمیر کے خلاف ان کے حق میں ووٹ دیا۔

سینٹ الیکشن میں امیدواروں پر شدید تحفظات تھے، مگر ووٹ دیا، مشرف کے آدمی اور (ق) لیگ کے لوگوں کو دن کے اجالے میں سینیٹ کا ووٹ دیا، مؤقف میں اختلاف تھا۔ کون سی جگہ پارٹی سے بے وفائی کی، جن پر مشکل وقت ہوتا ہے ان پر ذمہ داری ہے، سب کو ساتھ لے کر چلیں۔

عمران خان کا شکریہ، میرے لئےباعث عزت ہے کہ بڑی جماعت کے لیڈر مجھے دعوت دے رہے ہیں۔ نوازشریف کے ایک ذاتی ملازم نے پی پی دور میں ملازمت کی، نواز شریف پر مشکل وقت آیا تو لندن میں سیاسی پناہ لے لی۔ نواز شریف اور ان کے پیادوں کو کہتا ہوں، 34 سال وفاداری دکھائی، جب بھی سول ملٹری کا مسئلہ آیا نواز شریف کا ساتھ دیا، سیاست عزت کی خاطر کرتا ہوں، نیوز لیکس کی بات آئی تو سب سے زیادہ نوازشریف کی سپورٹ کی، اب بھی ساتھ کھڑا ہوں، جس انداز سے مجھ پر حملے کئے جا رہے ہیں میرے لئے ان کو ہضم کرنا مشکل ہے، جس نے ساری زندگی گزاری، آج وہ وضاحتیں کر رہا ہے، حقیقت میں زندگی ضائع کی، پارٹی چھوڑی نہ چھوڑنے کا اردہ ہے، پارٹی کو کس طرف لے کر جانا ہے۔ یہ پارٹی لیڈرشپ کی ذمہ داری ہے۔

اس وقت پاکستان کیلئے مشکل ترین حالات ہیں، پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ ہو رہا ہے، کسی کو احساس نہیں، خلائی مخلوق والے بیان پر افسوس ہوا، عمران خان کے بیان پر بھی افسوس ہوا، شاہد خاقان کے بطور وزیراعظم کردار پر مایوس ہوں، خلائی مخلوق پر بیان دینے کے بجائے انہیں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو بلانا چاہئےتھا ، دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے، وزیراعظم قومی سلامتی کی میٹنگ بلائیں اگر حقائق ہیں تو سامنے رکھیں اور مسئلے کو حل کرائیں ، نیوز لیکس کو دہرایا جا رہا ہے ، نیوزلیکس رپورٹ قوم کے سامنے لائیں سب کوپتا چل جائے گا۔ کس کی کیا ذمہ داری تھی اور کس کے کیا کرتو ت ہیں؟

نواز شریف کہتے ہیں پہلے نظریاتی نہیں تھا، اب ہوں، انہیں قوم کے سامنے وضاحت کرنی چاہئے، سن کر پشیمانی ہوئی۔ اب کون سا نظریہ ہے کہیں محموداچکزئی کا نظریہ تو نہیں، شہبازشریف سے ملاقات ہوتی ہے۔  پی ٹی آئی میں شمولیت کا معاملہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، سیاست دنگل نہیں، راستہ نکالنے کا نام ہے۔ پارٹی کا بانی رکن ہوں، لیڈر نواز شریف ہیں میرے علاوہ ایک بھی بانی رکن پارٹی میں نہیں رہا، سوشل میڈیا میں میرے خلاف ہر روز ایک نئی کہانی تراشی جاتی ہے، عزت کی خاطر سیاست کرتا ہوں، نواز شریف کو خط لکھا کہ مجلس عاملہ کا اجلاس بلائیں۔ نیوز لیکس ، بیانیے اور دیگر معاملات پر مشاورت سے فیصلے کریں مگر جواب تک نہیں آیا تو اب میرے لئے کیا راستہ باقی بچا ہے۔ چوہدری نثارنے پریس کانفرنس سے قبل صحافیوں سے سوالات پوچھے، انہیں نوٹ کیا، چوہدری نثار کی پریس کانفرنس پر آزاد مبصرین کی رائے خاصا وزن رکھتی ہے اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو نقصان مسلم لیگ (ن) کا ہو گا، اس کا حل یہ ہے فوری طور پر سیز فائر ہونا چاہئے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں