“راجہ گدھ” کے خلاف ایک پڑھنے والی کا مقدمہ


ادب اور آرٹ اس دنیا کے چوٹوں بھرے وجود کے لئے ایک مرہم ہیں۔ اور اگر کسی بھی مرہم کی طرح انہیں درست استعمال نہ کیا جائے تو مرض بگڑ جانا یقینی ہے یہاں تک کہ موت واقع ہو جاتی ہے۔ پھر اس صنف کے ہنر منداں جب جب موت بانٹتے رہے ہیں تواس پر آواز بند کیوں رہی ہے کیا صرف گولی اور زہر سے مارنا ہی مارڈالنا ہے؟ کسی کی فکر کو غلط راستے پر ڈال کر فکری استحصال کے ذریعے مار ڈالنا جرم نہیں؟ اہل قلم کو اپنے قلم کے ہر نقطے پر عبور ہی نہ ہو اور وہ نقطوں کے تسلسل سے انسانی جذبات کو توڑ موڑ کر پیش کرے اور دو مخالف سمتوں میں قاری کو بیک وقت سفر کروائے تو گویا ذہنی حادثات کا امکان قوی تر ہو جاتا ہے۔ یاد رہے جب ہم انسانوں سے گفتگو کرتے ہیں تو ذہن میں یہ بات سب سے پہلے رکھنی چاہیے کہ انسان دلیل سے پہلے جذبات کا پتلا ہے۔

میرا تعلق قارئین کے گروہ سے ہے۔ میں لکھنا صرف اس حد تک جانتی ہوں کہ اپنا مقدمہ پیش کر سکوں۔ اس سے زیادہ کی توقع مجھ سے ہرگز نہ کی جائے۔ ہاں محسوس جو بھی کرتی ہوں، وہی میرا مقدمہ ہے۔

جہاں دنیا میں نامور لکھنے والوں کو خواہ وہ Medical Scienceپر محقق ہو یا سوشل سائنس پر، زندگیاں سنوارتے اور بچاتے دیکھتی ہوں۔پھر کیسا ادب اور آرٹ ہوا جو انسانیوں زندگیوں کو محض احساسِ جرم بخشے اور اس کے نتیجے میں کئی جانیں دوسروں کے گناہوں کی خود کو یا توعمر قید عطا کر دیں یا خود سوزی کا باعث بنیں۔ اور گدھ زندہ رہیں۔ بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ گدھ زندہ رکھے جائیں۔ جی ہاں میرا مقدمہ “راجہ گدھ” پر ہے۔

یہ شہرہ آفاق ناول بانو قدسیہ نے ناجانے کس سوچ کے تحت لکھا مگر عام قاری اس میں صرف مروجہ قواعد حلال و حرام دیکھتا ہے۔ راجہ گدھ کو پڑھنے والے مجھ جیسے کم علم کے حامل لوگ جس نتیجے پر فوری پہنچتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ سارا چکر ہی حرام اور حلال کا ہے گویا انسانوں کے احساسات کا تو کوئی ذائقہ تک نہیں۔ جو انسان چکھتا ہے۔ جبکہ احساسات کا ذائقہ کچھ تو ہے جو زندگی کو میٹھا، نمکین، کڑوا کچھ بھی کر سکتا ہے۔ احساس پانی نہیں جس کا کوئی رنگ ہو نہ بو ہو اور نہ ذائقہ جو بس صرف جسم کو مٹ جانے سے بچائے۔ راجہ گدھ میں تین مرکزی کردار ہیں۔ ان کرداروں کی تخلیق کار نے ان سب کی کمزوریاں اور طاقتیں بڑی خوبصورتی سے پیش کی ہیں۔ لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ردِعمل سے مجھے اتفاق نہیں۔ حرام حلال اور اس کے گرد گھومتے سکون اور بے چینی کا مظہر یہ ناول بڑے مضبوط طبقے کی شیلفوں میں قبولیت کا درجہ رکھتا ہے مگر اُن کا کہنا ہے جو آبادی کے لحاظ سے اکثریت میں ہیں اور کمزور انسان ہیں، یہ ادب پارہ محض مردارخور، جذبات کا استحصال کرنے والے گدھوں کو زندہ رہنے کا حق بخشتا ہے۔

بات کو سمیٹتے ہوئے مجھے صرف اتنا کہنا ہے کہ سیمی شاہ آفتا ب سے سچی محبت کرتی ہے اور آفتاب اسے دھوکا دیتا ہے۔ اس دھوکے کا سیمی کو بہت رنج ہوتا ہے اس غمزدہ لڑکی پر قیوم پہلے سے ہی عاشق ہوتا ہے۔ موقع کا فائدہ پا کر سب سے پہلے قیوم اپنے جذبہ محبت کی تکمیل کرنے کیلئے آگے بڑھتا ہے۔ سیمی اس قول کی مصدقہ تصویر بن کر کہ :

It is betrayal of a man who asks a woman to throw her modesty out of window.

بن کر ہمارے سامنے آتی ہے یا آسودگی کا نا آسودگی سے ملاپ ہوتا ہے. آسودگی اس لئے حاصل نہیں کہ قیوم کا مطمع نظر جسم سے ہو کر روح کا حصول ہے جو روح سیمی جیسی یا جیسے کرداروں میں محبوب کی بے وفائی کے بعد مرن گھاٹ پر رکھی ہوتی ہے۔ لاحاصل کی تمنا دونوں کو ہے۔ یہ لاحاصل شے سکون بتائی گئی ہے۔

ناول میں درختوں کے نیچے سوئی اس جسمانی رسائی کے مرتکب مرد وعورت میں سے کس نے کس کا فائدہ اٹھایا؟ ۔ ناجائز فائدہ؟ تو جواب ہے قیوم نے۔ اس کو لکھاری نے شدید ذہنی کرب اور دباﺅ میں مبتلا کر کے زندہ چھوڑ دیا کہ جا ہر آنکھ میں ڈوب۔ شاید کہیں تیری پیاس بجھ جائے۔ ماننے والی بات تو یہ بھی ہے کہ وقتی ہی سہی مگر طمانیت تو قیوم کے حصے میں وقتاً فوقتاً آتی ہی رہی۔ یوں زندگی کے خالی پن سے وہ نہ گھبرایا اور آگے بڑھتا گیا۔ مگر سیمی؟ یہ ہر بار، ہر کہانی، ہر ناول میں۔ ہر حکایت میں، ہر شہر میں اور ہر گاﺅں میں، سیمی کا کردار اتنا کمزور کیوں کر دیا جاتا ہے کہ وہ زندگی کے کسی بھی روپ سے لڑ نہیں پاتی۔ آگے نہیں بڑھتی۔ ہمت نہیں پکڑتی۔ جستجو کو ترک کر کے مار دی جاتی ہے۔ عورت محبت کرے تو مار دی جاتی ہے

بانوآپا! سیمی نے قیوم کی طرح زندگی صرف اس لئے نہ بِتائی کہ وہ ایک آمریت کے دور کی عورت کے قلم کا شاہکار تھی جس کے کردار نے مشرق میں سکہ جمانا تھا۔ ورنہ اس ماحول میں جنسی موضوع پر کہاں کھلی ڈلی بات نہیں ہوتی پھر سیمی کو محض اس لئے مار دیا کہ یہ ہماری روایات سے میل کھا جائے۔ نہیں بانو آپا! سب سے پہلے آفتاب کو مرنا تھا۔ بے وفا، دھوکے باز، مفاد پرست کو، جو گناہ گار ِ عظیم تھا۔ پھر قیوم کو کہ وہ استحصال پر استحصال کرتا رہا۔ اور آپ نے حرام اور حلال کا سبق دیتے دیتے یہ پیغام دے دیا کہ کوئی سیمی اگر کسی بھی احساس کے تحت اپنا جسم کسی مرد کو سونپ دے کوئی سیمی تو پھر ایک اور حرام عظیم اُس کو اپنانا ہی ہوگا۔ خودکشی ہی کرنا معافی کا کوئی در نہیں کہ سیمی خود کو معاف کر دیتی۔ آپ نے عورت کو سفید کپڑا بنا دیا اور مرد کا کالا کپڑا سفید پر لگا داغ خون دھوئے گا اور کالے پر داغ نظر ہی کب آتا ہے۔

میں نے اپنے اردگرد کئی آفتاب اور قیوم زندہ دیکھتی ہوں اور سیمی کو مردہ ہی پاتی ہوں۔ یہ کارہائے نمایاں آپ ہی نے انجام نہیں دیا بلکہ ہر معاشرے میں اِکا دُکا Creators of Differenceکو ایسے کرداروں کو تخلیق کرتے اور مارتے دیکھتی ہوں اور اس قلمی دہشت گردی کی مذمت کرتی ہوں۔

ہاں وہ آفتاب کا بیٹا محض اس لئے پہنچا ہوا فقیر بنا دیا گیا کہ اُس کے باپ نے کسی جسم کا کوئی مندر پامال نہیں کیا۔ دل کا کعبہ ڈھا کر کیا اُس نے حلال روٹی کمائی تھی۔ کیا سیمی کے قاتل کے کمائے نوالے حلال تھے، کیا ہر دور میں مفاد پرستوں کی اولادیں مسند عالیہ پر بٹھائی جاتی رہیں گی؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں