بیسویں صدی کارل مارکس کے نام ٹھہری


بیسویں صدی اگر کسی مفکر کے نام سے منسوب ہو سکتی ہے تو وہ بلا شبہ کارل مارکس ہیں۔کیا اکیسویں صدی میں بھی اسی طرح ان کے افکارکی آب و تاب بر قراررہ سکتی ہے؟

5۔مئی کو دنیا بھر میں مارکس(1818-1883) کا یومِ پیدائش منایاگیا۔زمانی اعتبار سے ان کا تعلق انیسویں صدی سے تھا۔تاہم ان کا فکری ظہورصحیح معنوں میں بیسویں صدی میں ہوا۔یہ وہی تھے جن کے افکار نے سرمایہ داری کے خلاف ایک جوابِ دعویٰ ترتیب دیا اور ایک عالم نے اسے قبول کرلیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اشتراکیت نے سرمایہ داری کو لگام ڈالی ورنہ وسائل کا ارتکازشاید اس سے کہیں بد ترین صورت اختیار کر لیتاجتنا آج دکھائی دیتاہے۔اس لیے مارکس جیسا جلیل القدر مفکر یقیناً یہ استحقاق رکھتا ہے کہ اسے پس ِمرگ بھی یاد کیا جائے ۔

جو لوگ دوسروں کے لیے جیتے اور عزیمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں،وہ عالمِ انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہوتے ہیں۔تاہم کسی کی عظمت کے اعتراف سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم اس کے افکار سے بھی پوری طرح اتفاق رکھتے ہو۔اسی لیے مارکس کی تحسین کے باوجود ،علم کی دنیا میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا مارکس ازم اکیسویں صدی میں بھی عالمِ انسانیت کو متبادل فکری ڈھانچہ فراہم کر سکتا ہے؟

بیسویں صدی میں ،جب دنیا کے ایک بڑے حصے نے اشتراکیت کوبطورمتبادل نظامِ فکر وریاست قبول کر لیا تواشتراکیت کے نئے مظہر،مارکس ازم، کو یہ موقع ملا کہ وہ عالمِ انسانیت کے لیے اپنی عملی افادیت ثابت کرے۔سوویت یونین اور مشرقی یورپ میں وہ لوگ برسرِ اقتدار آئے جواس نظامِ فکر کو ایک نظام ِ ریاست میں ڈھالنے کے لیے پُر جوش تھے۔تجربہ سے دنیا نے یہ دریافت کیا کہ یہ جبر کا بدترین نظام ہے جو اشتراکی ریاستوں میں بسنے والوں کا مقدر بنا ہے۔لینن اور سٹالن جیسے لوگوں کے نام ان کی فہرست میں شامل ہوئے جن کے ہاتھ لاکھوں انسانوں کا لہو سے رنگین تھے۔اشترکیت نے جو تصورِ انقلاب دیا،تشدد اس کا جزوِ لاینفک تھا۔

دوسری طرف سرمایہ داری نے چولا بدلا اور خود کو اشتراکی چیلنج کا سامنا کر نے کے لیے تیار کیا۔سرمائے کے ساتھ محنت کی قدر کو کسی حد تک قبول کیا۔فلاحی ریاست کے تصورکو تسلیم کرتے ہوئے، کم ازکم اجرت کا تعین کیا۔جمہوریت کو اختیار کرتے ہوئے،عام آدمی کو مشورے میں شریک کیا اور یوں اس جبر کا خاتمہ کر دیا جو انقلاب کی بنیاد بن سکتا تھا۔مارکسسٹ اسے سرمایہ داری کی ایک چال قرار دیتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ سرمایہ دار نے دراصل غریب طبقات کے ساتھ دھوکہ کیا اور یوں اس انقلاب کے امکانات کو سبو تاژ کیا جو دنیا میں وسائل کی مساوی تقسیم کا نقیب تھا۔

ممکن ہے یہ چال ہو لیکن اس میں شبہ نہیں کہ یہ ایک کامیاب چال تھی۔اس کے ساتھ جب اشتراکیت بھی کوئی متبادل دینے میں ناکام رہی تو دنیا نے بڑی حد تک سرمایہ داری نظام پر اتفاق کر لیا۔میرا احساس ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں لچک کا ہونا‘ ارتقا کو قبول کر نا اور اس کے ساتھ متبادل کا نہ ہونا ،وہ عوامل ہیں جنہوں نے دنیا کو مجبور کیا کہ وہ سرمایہ داری کو بطور نظام قبول کر لیں۔آج اس امرِ واقعہ سے انکار ممکن نہیں کہ پوری دنیا بالفعل سرمایہ داری پر ایمان لا چکی ہے۔

اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے خمیر میں استحصال شامل ہے۔آج اس نے انسانی ذہانت کو قید کر کے اپنی خدمت پر لگا رکھا ہے۔دنیا کے ذہین ترین لوگ، بالواسطہ یا بلا واسطہ، اس پر مامور ہیں کہ سرمایہ دار کو دولت جمع کرنے کے حربے سکھائیں،اس کے لیے دلائل تراشیں اور اس حیلہ سازی کا معاوضہ پائیں۔علوم کی تشکیل بھی ایسے خطوط پر کی گئی ہے کہ وہ سرمایہ داری کے خدام کا کردار ادا کریں۔اس پس منظر میں عالمِ انسانیت کو یقیناً ایک متبادل کی ضرورت ہے۔یہ متبادل مگر مارکس ازم نہیں ہو سکتا۔

اس کے اسباب متنوع ہیں۔یہاں تفصیل کا موقع نہیں ہے۔صرف اتنی بات کہی جا سکتی ہے کہ مارکس ازم یا اشتراکیت انسانی فطرت سے ہم آہنگ نہیں ہے۔سماجی علوم میں اشتراکیت یا مادیت کے زیرِ اثر جو نظریات پیش کیے گئے اور جن کے تحت انسانی فطرت کی تشکیل کو خارجی اور سماجی عوامل کے تابع ثابت کیاگیا،وہ تاریخ اور عقل کی کسوٹی پر پورا نہیں اترے۔انسانی فطرت آفاقی اصولوں پر قائم ہے۔انسانی رویوں پر خارجی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں مگر فطرتِ انسانی کا جوہر زمان و مکان سے ماورا ہے۔یہی جوہر ہے جس نے نہ تو سرمایہ داری نظام کو پوری طرح قبول کیا اور نہ اشتراکیت کو۔

اس کی ایک معقول وجہ ہے۔سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں اصلاً مادی تصورات ہیں۔یہ انسان کو اوّ ل و آخر ایک مادی وجود قرار دیتے ہیں۔یوں ان کا وظیفہ صرف مادی مطالبات کا جواب فراہم کر نا ہے۔انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ صرف ایک مادی وجود نہیں رکھتا۔اس کا ایک اخلاقی وجود بھی ہے۔اس کے اپنے مطالبات ہیں جو مادی مطالبات کے علاوہ ہیں۔مادیت پر مبنی نظام ہائے فکر اگرچہ اخلاقیات کو تسلیم کرتے ہیں لیکن وہ اس کی بنیاد بھی مادی وجود میں تلاش کرتے ہیں۔جیسے ‘ہیومن ازم ‘پر مبنی نظام ِ اخلاق جو دراصل کسی افادیت پسند (Utilitarianism) تصور پر کھڑا ہے۔انسان کاتاریخی ا ور نفسیاتی مطالعہ ،اس کے بر خلاف یہ بتا تا ہے کہ انسانی اخلاقیات کا ماخذ کہیں اور ہے۔

اگر یہ مقدمہ درست ہے تو انسان کو کسی ایسے نظامِ فکر کی ضرورت ہے جواسے مادی ہی نہیں، ایک اخلاقی اور روحانی وجود بھی تسلیم کرتا ہو۔اخلاقی وجود کا استحکام، کسی تصورِ خدا کے بغیر ممکن نہیں۔یہ صلاحیت صرف مذہب میں ہے جوانسان کو ایک ‘پورا آدمی‘ تصور کرتے ہوئے،اس کو اپنا مخاطب بناتا ہے۔اسلام مذہب کی جدید ترین،مکمل،سب سے ترقی یافتہ اور آخری شکل ہے۔گویایہی ایک ایسے نظام کی بنیاد بن سکتا ہے جو سرمایہ داری کے عذاب سے انسان کو بچا سکے۔

اگر یہ مقدمہ درست ہے تو اس سے ایک سوال پیدا ہو تا ہے:اہلِ مذہب کو بھی بیسویں صدی میں مواقع ملے۔وہ کیوں کوئی متبادل دینے میں ناکام رہے؟اس کا ایک ہی جواب دیا جا تا ہے کہ وہ مذہب کے خود ساختہ تصورات پر مبنی تجربات تھے۔قصور مذہب کا نہیں، تفہیمِ مذہب کا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ یہی عذر ہے جو مارکس ازم کے علم بردار بھی پیش کرتے ہیں۔وہ لینن یا سٹالن کو مارکس ازم کاحقیقی نمائندہ نہیں سمجھتے۔ان کے خیال میں مارکس کے افکار ہنوز کسی تجربہ گاہ کی تلاش میں ہیں۔

علم کی دنیا میں یہ بحث جاری رہے گی۔میرے نزدیک انسان کی فطرت سے ہم آہنگ نظام ِ فکر وہی ہے جو پیغمبروں کا تجویز کردہ ہے۔انسان اپنی عقل سے جو سوچ سکتا تھا،اس کے حیران کن مظاہر ہمارے سامنے ہیں۔جدید سیاسی افکار اور ریاستی تجربات بھی اس کی مثال ہیں۔ان کے بہت سے پہلو انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہیں جن کی وجہ سے ان کی عالمگیر پزیرائی ہوئی ہے جیسے جمہوریت۔اگر ان میں انسان کے اخلاقی وجود کا اثبات شامل ہوجائے تو یہ انسانی دکھوں کا مداوا کر سکتے ہیں۔جس طرح علامہ اقبال نے ‘روحانی جمہوریت‘ کی بات کی تھی۔اگر چہ خود انہوں نے اس تصور کی وضاحت نہیں کی لیکن ان کے علمی کام سے جو مفہوم اخذ ہوتا ہے،وہ یہی ہے کہ جمہوریت میں اگر انسانوں کے سامنے جواب دہی کے ساتھ، خدا کے حضور میں جواب دہی کا احساس شامل ہو جائے تواس سے ایک پرامن معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔

مارکس ازم سے اختلاف کے باوجود،مارکس کی عظمت کا اعتراف ،میں اپنے لیے واجب سمجھتا ہوں۔برسوں پہلے ،اقبال نے ہم جیسے لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے فرمایاتھا:

صاحبِ سرمایہ از نسلِ خلیل

یعنی آں پیغمبرِ بے جبرئیل

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں