انڈیا: جھارکھنڈ میں لڑکی کو ریپ کے بعد جلا دینے کا دوسرا واقعہ


انڈیا

Getty Images
انڈین کابینہ نے ریپ کرنے والے شخص کو سزائے موت دینے کی تجویز کی منظوری دی ہے

انڈیا کی ریاست جھارکھنڈ کی پولیس کے مطابق ایک 17 سالہ لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد جلا دیا گیا ہے اور اب اس کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔

یہ واقعہ ضلع پاکور میں پیش آیا ہے اور پولیس نے ایک مقامی نوجوان کو اس سلسلے میں حراست میں بھی لے لیا ہے۔

خیال رہے کہ جھارکھنڈ میں حالیہ دنوں میں اس نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے جس میں کسی لڑکی کو ریپ کے بعد جلایا گیا ہو۔

اس سے قبل بھی ایک نوجوان لڑکی کو جنسی زیادتی کے بعد آگ لگا دی گئی تھی اور اس نے اتوار کو زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ دیا تھا۔

ابھی پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ ان دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیے

انڈیا: ریپ کے بعد متاثرہ لڑکی کو جلا دیا گیا

کٹھوعہ ریپ کیس کی منتقلی پر حکومت سے جواب طلب

انڈیا: ریپ معاشرے کی بےحسی کا عکاس

بی بی سی ہندی کے نامہ نگار روی پرکاش کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ حالیہ کیس میں متاثرہ لڑکی کا 95 فیصد جسم جھلس چکا ہے اور وہ زیر علاج ہیں۔

پولیس افسر شالندرا برنوال کا کہنا ہے کہ ملزم کا کہنا ہے کہ وہ لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن وہ راضی نہیں تھی۔

ملزم لڑکی کے گھر کے قریب ہی رہتا تھا اور اس کے مطابق اس نے لڑکی پر اس وقت حملہ کیا جب وہ اپنے عزیزوں کے گھر میں موجود تھی۔

انڈیا

AFP
پولیس نے مرکزی ملزم کو حراست میں لے لیا ہے جو لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن انکار پر اس نے یہ قدم اٹھایا

پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکے نے گھر کے مکینوں کے باہر جانے کا انتظار کیا اور پھر گھر میں داخل ہو کر لڑکی کا ریپ کیا اور پھر اسے آگ لگا دی۔

ہمسائے لڑکی کی چینخوں کی آواز سن کر آئے اور اسے ہسپتال لے کر گئے۔

جھارکھنڈ میں لڑکی سے جنسی زیادتی اور اسے جلانے کا پہلا واقعہ جمعے کو ضلع چھترا میں پیش آیا تھا اور اس کا مرکزی ملزم اور 14 دیگر افراد پہلے ہی حراست میں ہیں۔

انڈیا میں دو دیگر لڑکیوں کو ریپ کرنے کے واقعات کے خلاف احتجاج پہلے ہی جاری تھا جن میں آٹھ سالہ کشمیری بچی کا واقعہ بھی شامل ہے جسے مار دیا گیا تھا۔

اسی صورتحال کے پیش نظر انڈین کابینہ نے جنسی زیادتی کرنے والے شخص کو موت کی سزا دینے کی تجویز منظورکر رکھی ہے۔

سنہ 2016 میں انڈیا میں ریپ کے 40 ہزار واقعات سامنے آئے تھے تاہم خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ بہت سے کیسز ایسے ہوتے ہیں جنھیں رپورٹ ہی نہیں کیا جاتا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4881 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp