شہیدوں کے نام: وہ ہمارے بچوں کو زندگی دینے آئے تھے


ramish-fatimaایسا ہے کہ ایٹم بم بن چکا ہے، نوبت گھاس کھانے تک بھی آ پہنچی ہے تو عقل کی بھوک بھی مٹ ہی جائے گی اب اگر پولیو کی طرف نظرِ کرم کر لی جائے تو ذرہ نوازی ہو گی۔ کیا ہے نا جسمانی طور پہ معذور لوگ ہم سے دیکھے نہیں جاتے۔ اگر کسی کے گھر میں کوئی ایک فرد بھی ایسا ہے تو وہ اس کرب کو بخوبی جان سکتا ہے جس سے ایک معذور شخص اور اس کا خاندان گزرتا ہے۔ سائنس ہاتھ باندھے آپ کے سامنے کھڑی ہے اس باندی کو بھی موقع دیں کوئی خدمت کرنے کا۔ ایک تو وہ معذوری کی اطلاع سائنس و ٹیکنالوجی کے ہاتھوں آپ کو بروقت پہنچ رہی ہے وہاں اسقاطِ حمل بہتر ہے یا اگر آپ مجھے اجازت دیں تو کہوں بہترین ہے۔ یہ کوئی گناہ ثواب نہیں، کوئی قتل نہیں، یہ بس ایک ماں کو اذیت سے بچانے کی کوشش ہے اور اتنا تو اس غریب کا حق ہے ہی۔ اور ایک معذور اولاد کی دیکھ بھال کس قدر تکلیف دہ کام ہے اس کا اندازہ آپ تب ہی لگا سکتے ہیں جب آپ نے یہ سب دیکھا ہو کیونکہ فی زمانہ دوسروں کے درد کو محسوس کر کے اس پہ کچھ کہنا جھوٹا رونا تصور کیا جاتا ہے۔

جہاں تک پولیو ویکسین کا تعلق ہے تو جناب ویکسین کے موجد نے انسانیت کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اب بحیثیت والدین اپنی اولاد کو ایک ممکنہ معذوری سے بچانا اور صحت مند معاشرے کو فروغ دینا ہم سب پہ فرض ہے۔

کچھ عرصہ پہلے ایک ممتاز عالم دین کے صاحبزادے کے حوالے سے خبر مشہور ہوئی تھی کہ انہوں نے اپنی اولاد کو پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کر دیا، والد صاحب کی اپنی اولاد سے دشمنی تھی، دین سے محبت تھی، سائنس سے نفرت تھی یا انہیں کوئی وکھرا خبط لاحق تھا اس بارے مزید تحقیق نہیں کی جا سکی۔ واضح رہے کہ سائنس سے نفرت کو ہم اس لیئے خارج از امکانات قرار دیتے ہیں کیونکہ والد صاحب کے بھی والد صاحب کی جانب سے تبلیغ کے واسطے بین البراعظم سفر کی خاطر جہاز ہی استعمال کیا جا رہا ہے اور اب تو بات سیٹلائٹ ٹیلی ویژن تک جا پہنچی ہے سو یقیناً اس کی کوئی ذاتی وجہ رہی ہو گی۔ لیکن ایک خبر کے مطابق پچھلے سال ملتان شہر میں تقریباً دو سو والدین نے اپنی اولاد سے یہ دشمنی مول لینے کا سوچا وہ تو خیر ہو پھر خبر آئی کہ حکام نے ان سے ملاقات کر کے بہت سوں کو راضی کرنے کا دعوی کر دیا ہے۔

کیا آپ نے کبھی ان معذور بچوں کو نہیں دیکھا؟ دیکھا ہو گا نا۔ زیادہ تر بچوں کو یہ وائرس کوئی نقصان نہیں پہنچاتا، ایک فیصد کو کو معمولی دست یا قے، اور اس ایک فیصد سے بھی کم میں کہیں کسی کو معذوری ہوتی ہے، اس کی گنجائش بھی کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں آپ؟ چاہے اولاد آپ کی ہو یا کسی اور کی ہو پر معذور کیوں ہو؟کم از کم جس چیز سے بچا سکتے ہیں وہاں تو بچا لیں اس میں کیا خرچہ ہے آپ کا؟

پولیو ہیلتھ ورکر اپنی جان پہ کھیل کر یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں، پولیس اہلکار جو ان کی حفاظت پہ مامور ہیں مفت میں مارے جا رہے ہیں۔ اس سے زیادہ گھر گھر کیا خدمت کی جائے آپ کی؟ (حالانکہ اب جو گھر گھر خدمت کا پلان بنایا جا رہا ہے وہ طبیعت درست کرنے کیلیے کافی ہو گا لیکن ابھی وہ ہمارا موضوع نہیں)

یہ بات اپنی جگہ سہی کہ شکیل آفریدی کے باعث اس مہم کو نقصان پہنچا یا اس ویکسینٹر کا قصہ جن کی ویکسین چرا لی گئی اور ہھر انہوں نے باز پرس کے ڈر سے ایک مشہور سیرپ کے قطرے اس مقصد کے لیے استعمال کئے اور اپنی نوکری بچائی۔ کچھ عرصہ پہلے اس ویکسین کی ایک دوست ملک سے برآمد اور افادیت پہ بھی سوال اٹھائے گئے۔ مگر شکیل آفریدی تو مئی 2011 کے بعد نمودار ہوا۔ ہم تو 2004 میں کوئٹہ میں پولیو ویکسی نیٹرز پر گولیاں چلا رہے تھے۔ ہم نے تو 2007 میں خیبر پختوں خوا کے درجنوں پولیو ویکسی نیٹر بھون ڈالے تھے۔ یہ کیوں نہیں کہتے کہ لمبی گھاس میں چھپے دہشت گردوں کو کیڑے مار دوا کے چھڑکائو سے چند در چند وجوہات کی بنا ہر خدشات تھے۔

شکریہ ادا کرنا چاہیئے ان علماء کا جنہوں نے اس ویکسین کے استعمال کے حق میں فتوی دیا لیکن جن صاحبان کے نامعقول فتووں کی وجہ سے بات جید علماء کو بیچ میں ڈالنے تک جا پہنچی کبھی ان کم عقلوں کی مناسب باز پرس نہیں کی گئی۔

آپ سب سے بس ایک التجا ہے، اس ملک میں پولیو مہم کی خاطر بہت سی ہیلتھ ورکر اور بےتحاشا پولیس والے اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ انکی کوشش رائیگاں نہ جانے دیں۔ آپ سب سے دشمنی کر سکتے ہیں لیکن اپنی اولاد کے بھلے کی خاطر ان کی قدر کریں جو اس ذمہ داری کو نبھا رہے ہیں اور اس مرض کو ختم کرنے میں ہماری مدد کریں۔۔۔ اس درخواست کو تمام ہیلتھ ورکرز اور سیکیورٹی فورسز کے افراد کی جانب سے التماس سمجھیں جو تاریک راہوں میں مارے گئے۔ خبر ہے کہ آج بھی کراچی شہر میں سات سیکورٹی اہل کار اور ہیلتھ ورکر شہید ہوئے ہیں۔ یہ لوگ ہمارے بچوں کو زندگی اور صحت بخشنے آئے تھے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “شہیدوں کے نام: وہ ہمارے بچوں کو زندگی دینے آئے تھے

  • 20-04-2016 at 4:30 pm
    Permalink

    Drust farmaya aap nay but yay sub jahalat kay kamalat hain mazhab ka iss sy door door tuk koi taluq ni.so chahay shakeel afreedi ho ya nam nehaad molvi all are rubbish.jis mazhab ko bayzuban hirni ki takleef bardasht ni usay aik maa ki takleef kaisay gavara hogi.same like agr aik shakeel ny aisa kam kia tou itny saray aur jo positiv kirdar ada kr rhy hain as u mentioned they must be remembered

Comments are closed.