وجاہت مسعود صاحب کی خدمت میں


Jamalوجاہت مسعود کے 13 اپریل کے مضمون “ضابطہ حیات کی بحث” اور مولانا مودودی کے فہم اسلام کے بارے میں ان کے خیالات پر کافی کچھ لکھا جا چکا۔ ان کی تحریر میں شامل تاریخی نوعیت کے مقدمات و بیانات پر بھی اہل علم اکثر بات کرتے رہتے ہیں اور اس بارے تمام آرا سے لوگ تقریباً واقف ہیں۔ لیکن ان کے مضمون کی فکری اساسات یا بنیادی مفروضات پر کسی نے اب تک تبصرہ نہیں کیا اورنا ہی ان کے مضمون میں وارد ہونے والے منطقی سقم اور فکری ابہام کی نشاندہی کی ہے۔ میں چاہوں گا کہ اجمالاً ان پر کچھ بات کی جائے۔ تاہم پہلے ایک خاص رویے کی نشاندہی جس کے وہ اکثر دوسروں سے شاکی رہتے ہیں:

مضمون کا آغاز وجاہت صاحب نے اس ِگلے سے کیا کہ وطن عزیز میں ” اختلاف رائے میں بھی قطبیعت کا رجحان بہت راسخ ہے” پھر اس خیال کو تقویت پہنچانے کی غرض سے چند مثالیں مضمون کے اگلے ہی پیراگراف میں خود قائم کر کے دکھائیں اور اسی رویے کی تلوار سے مولانا مودودی صاحب کی تقریباً تمام فکری کمائی کو تہ تیغ کرکے کشتوں کے پشتے لگا دیے۔ اپنی رائے کےآخری درجے میں استناد کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

1۔ ” اسلام کی بنیادی اقدار انسانی مساوات، انصاف، تفکر اور انسان دوستی ہیں” (فل سٹاپ)۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو۔۔۔ لیکن کیا اس کے سوا فہرست بندی ممکن نہیں اور اگر ہے تو بیان کی یہ قطعیت قطبیعت میں کیسے کمی لائے گی؟ ابھی کچھ سطور پہلے اسی رویے کا گلہ کر کے تو آپ فارغ ہوئے تھے۔ مزید یہ کہ حضوراگر غور فرمائیں تو چند اقدار کی فہرست بندی کرکے آپ بھی ایک نوعیت کی نظری تشکیل کا کام کر رہے ہیں۔ یہ بعینہ وہی کام ہے جو چند دیگر اقدار کی فہرست بندی کرکے مولانا مودودی صاحب نے کیا تھا۔ سو آپ کریں تو حق، روشن خیالی اور جدیدیت اور کوئی اور کرے تو ۔۔۔۔۔!

2۔ “مذہب معاشرتی اور سیاسی زندگی کے کسی ایسے متعین نمونے کو ترجیح نہیں دیتا جو کسی خاص زمانے اور علاقے سے تعلق رکھتا ہو۔” ذاتی طور پرمجھے اس بیان کے مواد سے کوئی اختلاف نہیں، لہجے کی پیغمبرانہ حتمیت پر اعتراض ہے۔ پہلی رائے کی طرح یہ بھی ایک رائے ہے جو ایک خاص نظری تشکیل کا حصہ ہونے کی بنا پر معقول بھی ہو سکتی ہے لیکن یہ فہم اسلام کے ضمن میں فقط ایک رائے ہے اس کے موافق یا مخالف دیگر رائے اورنظری تشکیلات بہرحال ممکن ہیں۔ سو پیغمبرانہ حتمیت سے گریز کرنا چاہیے، خصوصاً جب آپ فریق مخالف کو اٹھتے بیٹھتے اسی بات کا طعنہ دیتے ہوں۔

3۔ “اگر حکومت شہریوں کی زندگی کے ہر پہلو کو منضبط کرنا چاہے تو نہ صرف یہ کہ معاشرہ ارتقا کی بجائے جمود کا شکار ہو جاتا ہے بلکہ ایسا معاشرہ بالآخر مسابقت کی دوڑ میں پسماندہ اور غیر متعلق ہو جاتا ہے۔” وجاہت صاحب سمجھتے ہیں کہ مولانا مودودی صاحب کے ضابطہ حیات کے تصور کے رو بہ عمل ہونے سے مذکورہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ مذکورہ نتیجہ کے وقوع پذیر ہونے میں دیگر کون سے عوامل ممکنہ طور پر موجود ہو سکتے ہیں ان کی تحریر اس بارے عموماً خاموش رہتی ہے۔ بہر طور، ان کی مودودی صاحب کے علمی کام کی یہ رِیڈنگ reading درست ہے یا غلط، اس کا فیصلہ وہ لوگ باآسانی کر سکتے ہیں جو مودودی صاحب کے کام سے واقفیت رکھتے ہیں۔ میں تو صرف اظہار کے پیرایے کی قطبیعت اور قطعیت کی جانب معصومانہ اشارہ کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

 

نوٹ: (میں ذاتی طور پرمذہب کی اصطلاح کو پسند نہیں کرتا کیونکہ “مذہب” اور “مذہبی” کی اصطلاحات کا استعمال بجائے خود اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم انسانی افکار و اعمال کی ایسی تقسیم کے قائل ہیں یا اس میں حرج نہیں سمجھتے جوانسانی افکار واعمال کومقدس اور غیر مقدس کی کیٹیگریز میں بانٹ دے۔ یوں مقدس افکار واعمال مذہب، جبکہ دیگر اعمال و افکارغیر مذہبی قرار پائیں لیکن زیر نظر تحریر میں وجاہت صاحب کی تحریر کو ریفر کرتے ہوئے اس اصطلاح کا استعمال شاید ناگزیر ہو)

وجاہت صاحب کا اسلام کے بارے، کم از کم اس مضمون کی حد تک، نقطہ نظر واضح نہیں ہے۔ وہ تنقیدی انداز میں مولانا مودودی صاحب کے مذہب اور سیاست کی یکجائی کے تصور کو رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

“مولانا مذہب اور سیاست کی یکجائی کے قائل تھے”

یہاں مندرجہ ذیل امر کی جانب توجہ ضروری ہے:

وجاہت صاحب یہ نہیں کہ رہے کہ مذہب کا سیاست سے تعلق تو ہے لیکن مولانا نے اس تعلق کی درست تعبیر نہیں کی۔ بلکہ وہ یہ کہ رہے ہیں کہ مذہب اور سیاست نوعی اعتبار سے دو مختلف وظائف ہیں جن میں ایک لازمی اور حتمی تقسیم روا رکھنا ضروری ہے اور مولانا نے مذہب اور سیاست کو یکجا کر کے ان کے تئیں غلط کیا ہے۔ یوں یہ اعتراض مذہب کی اونٹولوجیکل ontological حیثیت متعین کرتا ہے اور محض ایک علمی یا epistemological سوال نہیں۔ ایک دعوی جیسا تحکم لیے یہ بیان مذہب اور سیاست دونوں کی ایک خاص نوعیت کی تعیین ہےجومذہب اور سیاست بارے نہایت گہری بنیاد رکھنے والے مفروضات سے پھوٹا ہے جن کی اپنی ایک تاریخ ہے جس کی طرف فقط اشارہ مقصود ہے، تفصیلی نقد زیر نظر تحریر کا موضوع نہیں۔

تھوڑی دیر کے لیے وجاہت صاحب کے اس اعتراض کو درست تسلیم کر لیتے ہیں۔ لیکن چند ہی سطور بعد وجاہت صاحب مندرجہ ذیل دعوی کرتے ہیں:

“اسلام کی بنیادی اقدار انسانی مساوات، انصاف، تفکر اور انسان دوستی ہیں۔”

اب یہ بات تو مجھ ایسا مبتدی بھی جانتا ہے کہ انسانی مساوات، انصاف اور انسان دوستی سیاسی نظریہ بندی کے بنیادی اقداری مفروضات کی حیثیت رکھتے ہیں سو وجاہت صاحب کےاس بیان کے مطابق اگر یہ اقدار اسلام کی بھی بنیادی اقدار ہیں تو اسلام تو سر تا سر سیاسی ہے۔ اب میرے لیے مشکل ہے کہ میں وجاہت صاحب کے پہلے بیان کو درست مانوں جس میں وہ مولانا کو اسلام اور سیاست میں یکجائی کا طعنہ دے رہے ہیں یا دوسرے بیان کو جس میں وہ تمام بنیادی سیاسی اقدار کو اسلام کی بنیادی اقدار قرار دے رہے ہیں۔ میں پھر واضح کر دوں کہ میں نےابھی تک ایک بھی لفظ مذہب اور سیاست میں غیریت کا مقدمہ رکھنے والے نظریات کے ابطال میں نہیں لکھا ہے کیونکہ اول تو یہ اس وقت میرا موضوع نہیں اور دوم یہ کام تو وجاہت صاحب کی تحریر بخوبی کر رہی ہے۔

وجاہت صاحب ‘سیاست میں آئیڈیالوجی ‘ کی تاریخ پر بحث کو سمیٹتے ہوئے فرماتے ہیں:

“ہر سیاسی جماعت اپنا منفرد نظریہ اپنانے کا استحقاق رکھتی ہے۔ لیکن اگر ریاست نظریاتی ہونے کا دعویٰ پال لے تو گویا کسی ایک سیاسی مکتب فکر کو دیگر سیاسی نقطہ ہائے نظر پر مستقل بالادستی حاصل ہو جاتی ہے۔ “

ریاست کے غیر اقداری اور محض ایک جغرافیائی اکائی ہونے کا بیان جدید ریاست تو کیا شاید ازمنہ وسطی یا دور قدیم کی ریاستوں پر بھی صادق نہیں آتا کیونکہ قدیم ادوار کی حکومتیں بہرحال کوئی نظری یا قدری اساس رکھتی تھیں جو بالعموم ان ریاستوں کی بھی نظری یا قدری اساس قرار پاتا اور حکومت کی تبدیلی کے ساتھ اس اساس میں تبدیلی آتی رہتی۔ جدید ریاست قدیم ریاست کے برعکس ایک نسبتاً زیادہ مستقل، جغرافیائی، اور فارمل اکائی ہی نہیں بلکہ ایک سبسٹینٹِو substantive اکائی بھی ہے۔ جدید ریاست محض جغرافیائی حدود کی تعیین سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اپنے قیام کے لیےچند اساسی نوعیت کے تصورات کی فراہمی کا بھی تقاضا کرتی ہے… ایسے بنیادی اصول جن کی اساسی حیثیت کو جدید ریاست میں قائم ہونے والی کوئی حکومت بھی عموماً چیلنج کرنے کی جسارت نہیں کرتی۔ چند مثتثنیات کے ساتھ مذکورہ ڈسکرپشن descriptionتقریباً ہر جدید ریاست کے لیے درست ہے۔ جدید ریاست کا تصور بجائے خود ایک تاریخی عمل کا نتیجہ ہے جس میں چند اقدار بہرحال چند دیگر اقدار پر فائق سمجھی اور رکھی گئی ہیں لیکن چونکہ میری تنقید کی بنیاد کسی تاریخی مقدمہ پر نہیں لہذا اس جانب فقط اشارہ کر کے آگے بڑھ رہا ہوں۔

میری تنقید کے دائرہ کار کے حوالے سے اس امر کا بیان زیادہ ریلیونٹ relevant  ہے کہ اقداری انسانی دنیا میں غیر اقداری ریاست ایک ہائیپوتھیٹیکل کنسٹرکٹ hypothetical construct ہے، کوئی ایکچویلٹی actuality نہیں۔ یہاں تودیکھنا جیسا سادہ ‘پرسیپشن’ perception کا عمل بھی کچھ انٹینشنل کانٹینٹ intentional content رکھتا ہے اور ہمیشہ ‘کہیں سے’ ‘کسی کو’ کے ساتھ وقوع پذیر ہوتا ہے ریاست تو پھر بڑی بات ہے۔ یہ امر اس درجے میں ثابت ہے کہ میری دلیل کا رد بھی میری دلیل کو درست تسلیم کیے بنا ممکن نہیں۔ کیونکہ ‘انکار’ بجائے خود ایک قدر اور پوزیشن ہے جو کسی کے مقابل، متبادل رائے کے اختیا ر سے ممکن ہے۔

جدید ریاست کے غیر اقداری، یا غیر نظریاتی ہونے کا تصور عموماً ریاست کی غیر جانبداری کے تاثر کو قائم کرنے یا گہرا کرنے کے لیےسامنے لایا جاتا ہے جیسا کہ وجاہت صاحب کی تحریر میں بھی واضح ہے، تاہم غیر جانبدارہونے کے لیے غیر اقداری ہونا قطعاً ضروری نہیں کیونکہ غیر جانبداری ایک علمی epistemological  اور نفسیاتی psychological  کیٹیگری ہے، اونٹولوجیکل ontological  کیٹیگری نہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ غیر اقداری ہو کر انسانی مساوات، انصاف، اور انسان دوستی جیسے ایک سے زائد سگنیفائیڈ رکھنے والے سگنیفائیرز کی کوئی خاص تعریف متعین کی جا سکتی ہے۔ آپ کو کچھ سگنیفائیڈز کو کچھ اور سگنیفائیڈز پر ترجیح دینا ہو گی۔ ترجیح اور توثیق کا یہ عمل آپ کے شعوری و غیر شعوری اعتقادات و مفروضات میں پیوست ہو گا اور اسی بیک گراؤنڈ اور نیٹ ورک سے اپنی معقولیت اخذ کرے گا۔ لہذا اگر آپ واقعی مکالمہ کی خواہش رکھتے ہیں تو اپنے بنیادی مفروضات کو ان کی ٹھیک جگہ پہچانیں اور دوسروں تک ان کا درست ابلاغ کریں۔ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کی ترجیحات کی معقولیت کس فکری نظام میں پیوست ہے۔مجھے امید ہے کہ آپ اس سے اتفاق کریں گے کہ ایک ہمہ گیر فوق الانسان غیر جانبداری کا دعوی غیر علمی رویہ ہے۔ اس سے چند مخصوص حلقوں سے داد کا تو امکان ہے لیکن کسی سنجیدہ مکالمے کی نوبت کبھی نہیں آ پاتی۔

میں تاریخ کا طالبعلم نہیں، تاہم تاریخ اور تاریخ نویسی کے فرق کو سمجھتا ہوں، سو میں نے وجاہت صاحب کے تاریخی نوعیت کے دعووں پر تبصرے سے گریز کیا ہے۔ نیز میں سمجھتا ہوں کہ اس قبیل کے سوالات کے جوابات ماضی میں بھی فراہم کیے گئے ہیں اور آئندہ بھی ان موضوعات پر بہتر گرفت رکھنے والے اہل علم فراہم کرتے رہیں گے۔ میں نے ایک عام قاری کی حیثیت سے اپنے تئیں وجاہت صاحب کے مضمون میں وارد ہونے والے چند ابہام و اسقام کی نشاندہی کی کوشش کی ہے جوبجائے خود جدید فکر و فلسفہ کی روشنی میں ابہام اور سقم قرار پائیں۔ کیا ہی اچھا ہو اگر وجاہت صاحب اپنی تحریر کے مذکورہ اسقام پر گرفت فرمائیں اور کم از کم اس نقطہ نظر کی صحیح ترجمانی فرمائیں جس کے بنیادی مفروضات پر بظاہر ان کی فکر کی عمارت کھڑی ہے۔ یہ مولانا مودودی کے علمی قد کوناپنے اور پاکستان کی فکری تاریخ کے اسقام دور کرنے سے پہلے کرنے کا کام ہے اور یقیناً اس سے اہم بھی۔ اس کا فائدہ ان کو، ان کے قارئین کو اور ان سے اختلاف رکھنے والوں سب کو ہو گا۔ مذکورہ صورتحال میں توان سے علمی اختلاف رکھنا بھی بظاہر ممکن نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “وجاہت مسعود صاحب کی خدمت میں

  • 21-04-2016 at 6:46 pm
    Permalink

    Why i am not witnessing any response from the likes of Kakar and Wajahat sab. Come on! there are some answers which are due.

Comments are closed.