نارووال میں اسکائی لیب اور ہمالیائی مخلوق کے نقوش پا


موضع چکری تحصیل گوجر خان، ضلع راولپنڈی کے سیاستدان چوہدری نثار علی خان علم سیاست میں میرے جیسے ان گنت طالب علموں کے لیے آئیڈیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان کی شخصیت میں چھوٹو رام، چوہدری شہاب الدین، چوہدری خلیق الزماں اور مشتاق گورمانی جیسی نابغہ روزگار ہستیوں کی صفات یکجا ہو گئی ہیں۔ پرانے زمانے میں سیاست دان بیان جاری کیا کرتے تھے۔ سیاسی رہنما کے بیان کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ فروری 1947 کے آخری ہفتے میں قائد اعظم محمد علی جناح نے پنجاب کے وزیر اعظم خضر حیات کو یک سطری پیغام بھیجا، “فورا استعفی دے دو ورنہ میں تمہارے خلاف بیان جاری کر دوں گا۔” خضر حیات 2 مارچ 1947 کو مستعفی ہو گئے۔ آج کل سیاست دان کی قامت کا اندازہ اس کے جلسے یا پریس کانفرنس کی لائیو ٹیلیویژن کوریج سے لگایا جاتا ہے۔ زیادہ برس نہیں گزرے، کراچی کے ایک رہنما حال مقیم لندن کی طویل تقاریر رات کے دو بجے براہ راست نشر کی جاتی تھیں۔ کینیڈا میں مقیم ایک روحانی مخلوق سال میں ایک آدھ بار بالخصوص انتخابات سے کچھ پہلے رونمائی کیا کرتی ہے۔ ان کے گہر ہائے خطابت بھی قوم کی سماعت کا امتحان لیا کرتے ہیں۔ 2002 سے 2007 تک قومی اسمبلی کی ایک نشست کے حامل عمران خان کے تین سو سے زائد انٹرویو ٹیلی ویژن چینلز پر نشر کیے گئے۔ ہمارے ممدوح چوہدری نثار علی خان بھی کسی سے گھٹ کے نہیں ہیں۔ 2013ء ہی میں پرواز کا عزم باندھ لیا تھا، بالآخر 2017ء میں دونوں پنجے جوڑ کر آبائی وطن کی شاخ پر آن بیٹھے لیکن پریس کانفرنس کی آن بان نہیں گئی۔

چوہدری نثار علی خان مختصر کلام کے بادشاہ ہیں۔ چند گھنٹے کی گفتگو میں پیچیدہ گتھیاں سلجھا دیتے ہیں اور مطلوبہ الجھنیں پیدا کر دیتے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان کی صفات کوئی کہاں تک بیان کرے۔ سیاسی، روحانی، اور پوٹھوہاری حلقوں میں یکساں طور پر مرجع خلائق ہیں۔ لگان، مالیانہ اور دیگر محصولات نوک زبان ہیں۔ اگرچہ اکثر شکایت کرتے ہیں کہ کمر میں اب وہ دم نہیں رہا لیکن آنکھوں میں دم سلامت ہے اور چوہدری نثار کے نطق کی بلاغت کے کیا کہنے۔ معلوم ہوتا ہے پہاڑی چشموں کا پانی اچھلتا، اٹھلاتا خلائے بسیط کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے۔ چوہدری صاحب کے والد محترم کے احباب کہا کرتے تھے کہ آپ کا بیٹا فوجی بننے کے قابل تھا، آپ نے اسے سیاست میں کیوں ڈال دیا۔ گاؤں کے لوگ سادہ ہوتے ہیں، انہیں کیا معلوم کہ سیاست کی مانگ میں بھی کسی دیدہ ور کو سیندور بھرنا ہوتا ہے۔

حالیہ پریس کانفرنس میں چوہدری نثار نے فرمایا کہ خلائی مخلوق نئی نیوز لیکس ہے۔ یہ موقف تو نہ ہوا، امیر خسرو کی پہیلی ٹھہری۔ حالیہ تاریخ میں دو سکینڈل سامنے آئے، اکتوبر 2011 میں میمو گیٹ سکینڈل آیا جو یوسف رضا گیلانی کو لے بیٹھا۔ اس قضیے میں حصہ ڈالنے پر میاں نواز شریف اظہار ندامت کر چکے ہیں، گویا مان لیا کہ حقیقت کچھ نہیں تھی، سازش گھڑی گئی تھی۔ دوسرا سکینڈل ڈان لیکس کے نام سے اکتوبر 2016 میں سامنے آیا۔ چوہدری نثار اس اسکینڈل کے ضمن میں “کرتوت” کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ کرتوت کے سبھی قافیے دلچسپ ہیں۔ ڈان لیکس پانامہ لیکس کے ٹروجن ہارس میں پوشیدہ لشکر تھا اور اسے منتخب حکومت اور طاقتور اداروں میں کشمکش کا استعارہ مانا گیا ہے۔ چوہدری نثار کو خلائی مخلوق کی اصطلاح پر گہری اذیت ہوئی ہے۔ یہ ترکیب سابق وزیر اعظم نواز شریف اور موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے استعمال کی ہے۔ چوہدری نثار واضح نہیں کر سکے کہ جس ملک میں حساس ادارے، مقتدر قوتیں، نامعلوم افراد اور نادیدہ ہاتھ جیسی تراکیب عام ہیں وہاں خلائی مخلوق کیا زیر دفعہ 109 آوارہ گردی کرتے پکڑی گئی ہے؟

چوہدری نثار علی کو شکوہ ہے کہ میاں نواز شریف نے نظریاتی ہونے کا دعوی کر دیا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ کہیں یہ محمود اچکزئی والا نظریہ تو نہیں ؟ محمود اچکزئی پاکستان کے قابل احترام سیاست دان ہیں۔ ان کے والد تحریک آزادی کے مجاہد تھے اور دسمبر 1973 میں پاکستان دشمنوں کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے۔ محمود اچکزئی کی وطن دوستی اور سیاسی بصیرت میں کوئی کلام نہیں۔ چوہدری نثار کو واضح کرنا چاہئیے کہ پاکستان کے پختون شہریوں کی واضح حمایت رکھنے والے محمود اچکزئی کے نظرئیے میں ایسی کیا خامی ہے جس سے میاں نواز شریف کا اخلاق خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔

چوہدری نثار علی خان نے اس پریس کانفرنس میں دو نہایت قابل بحث جملے استعمال کیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’نواز شریف نے اپنے ملازم سے میرے خلاف بیان دلوایا ہے جو کبھی کسی کے خلاف کھڑا نہیں ہوا۔ نواز شریف پر مشکل وقت آیا تو اس ذاتی ملازم نے لندن میں سیاسی پناہ لے لی‘۔ چوہدری نثار علی کا اشارہ جس سیاسی شخصیت کی طرف ہے۔ ان کی قامت اس قدر بلند ہے کہ اس بحث میں ان کا نام لینا بھی “چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک” کا مضمون ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ نواز شریف پر مشکل وقت آیا تو چوہدری نثار کیا کر رہے تھے؟

جاوید ہاشمی اپنی کتاب “زندہ تاریخ” کے صفحہ 208 پہ لکھتے ہیں۔ “چوہدری نثار علی 12 اکتوبر سے تین سال تک سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہو گئے۔ کہا گیا کہ انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ اپنی رہائی کے لیے انہوں نے تگ و دو نہیں کی اور نہ ہی کسی فورم پہ اپیل دائر کی۔ پھر وہ جدہ اور لندن چلے گئے۔ اکتوبر 2002 کے انتخابات کا اعلان ہوا تو واپس آ گئے”۔ یہ تو رہی چوہدری نثار کی سیاسی استقامت اور جس ہستی پر وہ زبان طعن دراز کرتے ہیں وہ ایوب آمریت میں قید رہا، بھٹو کے زیر عتاب رہا، ضیا الحق سے لڑا، بے نظیر بھٹو کے خلاف جدوجہد کی، پرویز مشرف کے عقوبت خانوں میں بدترین تشدد برداشت کیا، رہائی کے بعد علاج کے لئے بیرون ملک گئے تھے، لندن میں میاں نواز شریف کے ساتھ تھے، دس ستمبر 2007 کو اپنے رہنما کے ساتھ وطن واپس لوٹ آئے جہاں انہیں ائیر پورٹ پہ گھسیٹا گیا۔ چوہدری نثار علی اس روز راولپنڈی میں تھے لیکن ائیرپورٹ نہیں پہنچے۔ اگر کھڑا ہونے کا مفہوم آمریت کی مزاحمت میں ہے تو چوہدری نثار کے حریف نے پامردی کی مثال قائم کی ہے اور اگر چوہدری نثار کا اشارہ انتخاب میں کھڑا ہونے کی طرف ہے تو چوہدری نثار کو 1983 کے بلدیاتی انتخاب میں سرور خان سے معرکہ یاد کرنا چاہیے۔ چوہدری نثار نے آزاد حیثیت میں ایک مرتبہ قومی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا تھا، ہار گئے تھے۔سیاسی جلاوطنی میں کوئی ندامت نہیں ہوتی البتہ اپنی ذریات کو امریکی شہریت دلواتے ہوئے قومی وقار کا سوچنا چاہیے۔

چوہدری نثار اپنی عزت کا بار بار ذکر کرتے ہیں۔ یہ قبل از جمہوری زمانے کی قبائلی عزت والی سوچ ہے جب ماں کے پاسپورٹ پہ باپ کا ویزہ عزت کا نشان تھا۔ جمہوری سیاست ذاتی عزت کے لیے نہیں، عوام کے احترام کے لیے کی جاتی ہے۔ چوہدری صاحب وزیر داخلہ تھے، حافظ آباد کا ایک ہونق بندوق اٹھائے اسلام آباد آ بیٹھا، چوہدری صاحب چھ گھنٹے تک مفقود الخبر رہے۔ طالبان کی مخالفت میں چوہدری صاحب منقار زیر پر رہے۔ چوہدری نثار کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد 40 -45 نالاں ارکان اسمبلی ان کے پاس آئے۔ چوہدری صاحب نے ان سے پوچھا کہ ساڑھے چار سال تک حکومت کا مزہ لینے کے بعد اب وہ کس بات پہ نالاں تھے؟ محمود اچکزئی کے نظریے کی چوہدری صاحب کو بہت فکر ہے، ان ارکان اسمبلی کا نظریہ بھی پوچھا ہوتا جو دھوپ کی پہلی کرن چبھتے ہی نیا بسیرا ڈھونڈنے نکلے تھے۔ چوہدری نثار علی عظیم رہنما عمران خان کے ساتھ بذریعہ کبوتر رابطہ رکھتے ہیں، عمران خان صاحب دو پاکستان کو ایک بنانا چاہتے ہیں، چوہدری نثار علی خان تو آج بھی دو پاکستان کی دنیا میں رہتے ہیں۔ محکوم پاکستان اور مقتدر پاکستان۔ چوہدری نثار علی خان کا مشورہ یہ ہے کہ مقتدر پاکستان سے گٹھ جوڑ کر کے محکوم پاکستان کے گریبان پہ ہاتھ ڈالا جائے۔ اگر یہ کھیل کامیاب ہو سکتا تو فیض آباد پنڈی سے اڑنے والا سکائی لیب نارووال کے گاؤں کنجروڑ میں نہ گرتا۔ خلائی مخلوق کے ذکر پہ آتش زیر پا ہونے والے چوہدری نثار علی خان نے پاکستان کی تاریخ پر ہمالیائی مخلوق (Yeti) کے نقوش پا دیکھ لیے ہوتے۔ لیکن چوہدری نثار علی بند دروازوں کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں محمود اچکزئی اور پرویز رشید سے خائف رہنا زیب دیتا ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں