ایران نے شام سے حملہ کیا تو یہ شامی صدر اور ان کی حکومت کا اختتام ہوگا: اسرائیلی وزیر


اسرائیل وزیر

Getty Images

اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کے وزیر کا کہنا ہے کہ اگر شامی صدر بشارالاسد نے ایران کو شام سے اسرائیل پر حملہ کرنے کی اجازت دی تو وہ ان کا تختہ الٹ دیں گے۔

یووال سٹائنٹز نے خبرادار کیا کہ اگر حملہ ہوتا ہے تو صدر بشار الاسد کو ’معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ان کا اور ان کی حکومت کا اختتام ہوگا۔‘

ان کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ اسرائیل حکام ایران یا اس کے حمایتیوں کی جانب سے میزائیل حملوں کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔

’بنیامین نتن یاہو کے الزامات فرسودہ، بے کار اور شرمناک ہیں‘

ایرانی ڈرون اسرائیل پر ‘حملے کی نیت سے بھیجا گیا تھا’

دوسری جانب ایران پہلے ہی شام میں اس کی تنصیبات پر فضائی حملوں کا بدلہ لینے کا کہہ چکا ہے۔ ان فضائی حملوں کو اسرائیل کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔

اسرائیل نے نہ تو ان حملوں کی تصدیق کی ہے اور نہ انھیں مسترد کیا ہے، لیکن اس نے کہا ہے کہ وہ ’شام میں کسی قسم کی بھی ایرانی فوج کی مورچہ بندی کو روکے گا۔‘

واضح رہے کہ ایران گذشتہ سات سالہ خانہ جنگی کے دوران شام کی مدد کرتا رہا ہے۔ اس نے وہاں سینکڑوں فوجی مشیروں کے ساتھ ساتھ ہزاروں ملیشیا بھی تعینات کیے ہیں۔

پیر کو ایک اسرائیلی اخبار کو دیے انٹرویو میں یووال سٹائنٹز نے کہا کہ ’اسرائیل نے بشار الاسد کی جانب سے ہمارے اور اپنے لوگوں کے خلاف جرائم کے باوجود اسرائیل نے تاحال تنازع میں مداخلت نہیں کی ہے۔‘

تاہم توانائی کے وزیر نے خبرادار کیا کہ ’اگر اسد نے شام میں فوجی اڈہ بنانے اور ہم پر حملہ کرنے کی ایران کو اجازت دی تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ان کا اور ان کی حکومت کا خاتمہ ہوگا اور وہ مزید شام کے حکمران نہیں رہیں گے۔‘

بی بی سی کے مشرق وسطی کے تجزیہ کار ایلن جانسن نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر کی یہ تنبیہ اس بات کو واٰضح کرنا ہے کہ اسرائیل شام کی سرزمین پر سے اس پر ہونے والے کسی بھی ایرانی حملے کے لیے صدر بشارالاسد کو ذمہ دار ٹھرائے گا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3742 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp