گیری نے جھوٹ کیوں بولا؟


میں صبح 8 بجے جب معمول کی شفٹ کے لئے موٹل پہنچا تو پریا مجھے میرے متعلقہ کاموں کے بارے بتانے لگی۔ پریا موٹل مینیجر ہے اور استقبالیہ سے ملحقہ خاص طور پہ بنائے گئے دو بیڈ روم اپارٹمنٹ میں رہتی ہے۔ وہ ہمیشہ شفٹ تبدیل کرتے ہوئے نظریں نیچی کئے اپنی بات اسی جملے سے شروع کرتی ہے۔ ’’ویسے تو کچھ خاص نہیں ہے‘‘ بس یہ یہ دیکھ لینا۔ اس دن کی خاص بات ایک گیسٹ تھا جسے کل پہنچنا تھا لیکن ابھی تک آ نہیں سکا تھا۔ گیری مل جون کے چار دن موٹل میں رکنے کا کرایہ پہلے ہی آن لائن ادا کیا جا چکا تھا اس لئے پریا کو یقین تھا کہ وہ ضرور آئے گا۔ پریا نے اپنی بات مجھے یہ بتاتے ہوئے ختم کی کہ سسٹم میں چیک ان کر دیا ہے۔ کمرے کی چابی بنا کے رکھ دی ہے بس جب وہ پہنچے تو صرف چابی دے دینا۔

میں نے ساری ہدایات ذہن نشین کیں، کچھ کو لکھا اور اپنے روز مرّہ فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہو گیا۔ تقریباً دوپہر کے وقت ایک ضعیف العمر شخص موٹل کی لابی میں داخل ہوا۔ اسے ایک خاتون نے بغل کے نیچے سے ہاتھ ڈال کے سہارا دے رکھا تھا۔ شکل سے ہی وہ کافی بیمار لگ رہا تھا۔ چند رسمی کلمات کے بعد وہ خاتون بولی کہ ہماری ریزرویشن ہے۔ میں نے نام پوچھا تو وہ وہی گیری جون تھا جس کے بارے مجھے پریا صبح بتا چکی تھی۔ میرے کمپیوٹر میں نام دیکھنے کے دوران ہی وہ خاتون بولی کہ ہمیں کل پہنچنا تھا مگر کل طبیعت بگڑنے کی وجہ سے ہاسپیٹل لے جانا پڑا جس کی وجہ سے نہیں آ سکے۔ اس کا اشارہ گیری کی طرف تھا جسے کھڑے ہونے میں کافی دقّت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ میں نے مزید وقت ضائع کئے بنا خاتون کو چابی تھمائی اور کمرے کا رستہ سمجھا دیا۔ خاتون گیری کو سہارا دیئے احتیاط سے دھیرے دھیرے چلتے کمرے کی طرف چل پڑی۔

موٹل میں چونکہ مریض بھی آ کے ٹھہرتے ہیں اس لئے حیرانی کی کوئی بات نہیں تھی۔ عموماً متعلقہ ڈاکٹر کی مقامی شہر میں عدم دستیابی لوگوں کو دوسرے شہر کا سفر کرنے پہ بھی مجبور کرتی ہے جس کی وجہ سے لوگ عارضی رہائش کے لئے موٹلز کا رخ کرتے ہیں جو ہوٹلز کے مقابلے میں جیب پہ بھاری نہیں پڑتے۔ غالباً یہ دوسرے دن کی بات ہے جب استقبالیہ پہ بیٹھے ہوئے میری نظر سامنے لگی ٹی وی سکرین پہ پڑی جس پہ بلڈنگ کے اندرون و اطراف میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کے لائیو مناظر تھے۔ اس میں ایک کیمرہ موٹل کی اوپری منزل کی طرف جاتی ہوئی سیڑھیوں کا منظر دکھا رہا تھا۔ ان سیڑھیوں کی ریلنگ پہ ہاتھ رکھے، سر جھکائے مجھے گیری کھڑا نظر آیا۔ اس کے دائیں ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ تھا اور وہ اسی ہاتھ سے ریلینگ کو پکڑے سیڑھیاں چڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ ہر سیڑھی کے بعد ہانپتا، رکتا، ریلینگ اور شاپنگ بیگ کو ایک ہی ہاتھ سے سنبھالتا اور پھر پوری ہمّت جمع کر کے انتہائی تکلیف سے پاؤں اٹھا کے اگلی سیڑھی پہ رکھ پاتا۔ یہ منظر اتنا بتانے کے لئے کافی تھا کہ اسے مدد کی اشد ضرورت ہے۔ میں کرسی سے اٹھنے ہی والا تھا کہ اوپر سے آتی ہوئی ایک لڑکی نے اس ضرورت کو بھانپتے ہوئے گیری کے ہاتھ سے بیگ لیا اور اسے کمر ےتک پہنچنے میں مدد کی۔

گیری اکیلا تھا۔ یہ پہلی سوچ تھی جو میرے ذہن میں ابھری۔ اس حالت میں اسے اکیلا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ خاتون جو کوئی بھی تھی اسے کمرے میں چھوڑ کے واپس چلی گئ تھی۔ جانے وہ کیا لگتی تھی اس کی۔ بیماری کے باعث اس درجہ کمزوری کی حالت میں کسی نہ کسی کو تو اس کے ساتھ ہونا چاہئے تھا۔ ہمارے موٹل میں روم سروس کی سہولت بالکل بھی نہیں تھی۔ گیسٹ کو اپنے پانی تک کا خود انتظام کرنا ہوتا ہے۔ گیری کے معاملے میں تو یہ انتہائی کٹھن تھا۔ کھانا، پینا، دوائیاں، کپڑے، اٹھنا بیٹھنا یہ سب اسے اپنے اس ہانپتے، کانپتے وجود اور ختم ہوتی ہمّت کے ساتھ تن تنہا کرنے تھے۔ بالکل اکیلے۔

مجھ پہ حاوی فکر سے بھرپور وہ سوچیں دوسرے معاملات کی مصروفیت میں کہیں دب سی گئیں۔ یہاں زندگی ایسی ہی ہے۔ آپ کسی کے لئے سوچنے بیٹھیں تو اپنی پرواہ بلکنے لگتی ہے۔ اسے چپ کروانے کے لئے توجہ اور وقت کی خوراک دینی پڑتی ہے۔ اگلے دو دن تک میں بھول ہی گیا کہ موٹل میں ایک ایسا گیسٹ بھی ہے جو اپنے لرزتے ہاتھوں سے ایک ہلکا سا بیگ اٹھانے کی طاقت بھی نہیں رکھتا۔ صبح کے قریباً دس بجے ہوں گے جب موٹل کے فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف کوئی خاتون تھی۔ جس نے اس کمرہ نمبر سے بات کرنے کے لئے کہا جس میں گیری ٹھہرا ہوا تھا۔ میں نے کال ٹرانسفر کرنے کے بعد آج کی چیک آؤٹ لسٹ دیکھی تو گیری کا کمرہ اس لسٹ میں موجود تھا۔ گیری کو آج کمرہ 11 بجے تک خالی کرنا تھا۔ اس کا مطلب آج اسے کوئی لینے کے لئے آئے گا کیوں کہ اکیلے تو اسے کمرے سے نکلتے اس دن کے بعد میں نے نہیں دیکھا تھا۔ کال اٹینڈ نہ ہونے کی بنا پہ واپس آ گئ۔ خاتون کو بتایا کہ کال ریسیو نہیں کی گئی تو جواب میں پوچھا گیا ’’ کیا وہ چلا گیا‘‘ میں یہ کہتے کہتے رکا کہ جس میں دو قدم اٹھانے کی سکت نہیں وہ اکیلا کہاں جا سکتا ہے مگر میں یہ کہ نہیں سکتا تھا، اس لئے بولا ’’ہو سکتا ہے‘‘۔ خاتون بولی میں جیمی ہوں گیری کی بیٹی ۔ میں نے بتا یا کہ آج آخری دن ہے ۔ کیا اسے لینے آپ آ رہی ہیں۔ نہیں، خاتون نے برجستہ جواب دیا، وہ مزید کچھ دن رکے گا تو میں فون پہ ادائیگی کر دوں گی۔ میں نے کہا کہ فون پہ مشکل ہے۔ آپ کو خود آنا پڑے گا۔ جیمی بولی او کے، میں ایک گھنٹے تک آ جاؤں گی۔ میں نے یہ بتانا ضروری سمجھا کہ 11 بجے چیک آوٹ کا وقت ہے تو آپ جتنا جلدی ہو سکے آ جائیے گا۔ مجھے اگر گیری نظر آیا تو میں آپ کی بات کروا دوں گا۔ جیمی نے او کے کہ کے فون بند کر دیا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں