صالحین کی بلا سود بینکاری اور کرپشن فری سیاست


wisi 2 babaصالحین کی جماعت کے عزائم سمجھنے کے لئے بندے کو کم از کم درباری ہونا چاہئے۔ درباری سے مراد یہاں دربار صاحب امرتسر کے سرداروں کا ہم طبعیت ہونا ہے۔ ملک کے جانے مانے مشہور ایماندار جناب سراج الحق صاحب ابھی جماعت اسلامی کی صف بندی ہی کر رہے تھے۔ مقصود یہ تھا کہ کرپشن کے خلاف پاکستان بھر میں جنگ شروع کی جائے۔ ابھی ارادہ ہی باندھا تھا کہ صالحین  کے وزیر ہی اخبار میں اشتہاری پائے گئے۔

اشتہاری ہونے کی یہ کہانی دلچسپ ہے۔ خیبر پختون خوا کی مخلوط حکومت کے وزیر خزانہ مظفر سید کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔ یہ جماعت اسلامی کے مضبوط حلقے دیر سے منتخب ہو کر صوبائی وزیر بنے۔ خیبر بنک بھی قوانین کے تحت صوبائی وزارت خزانہ کی ہی عملداری میں آتا ہے۔ خیبر بنک کے ایم ڈی شمس القیوم ہیں۔ ان کا تعلق تخت بھائی مردان سے ہے۔ یہ  اکتوبر دو ہزار چودہ میں خیبر بنک کے ایم ڈی اور سی ای او بنائے گئے۔ شمس القیوم ایک پروفیشنل ہیں اور شاندار بینکنگ کیرئیر رکھتے ہیں۔

جس اشتہار سے  ہنڈیا چوراہے میں پھوٹی وہ خیبر بنک کے بورڈ آف ڈائریکتڑ کی منظوری سے دیا گیا۔ اس بورڈ آف ڈٓائریکٹر کے چئیرمین ایڈیشنل چیف سیکرٹری اعظم خان ہیں۔ کپتان کی ذاتی خواہش پر اعظم خان  خیبر پختون خوا میں روکے گئے۔ اعظم خان کو وفاقی حکومت مرکز میں لانا چاہتی تھی۔ ان کی شہرت ایک کام کر دکھانے والے افسر کی ہے۔ اس اشتہار میں  وزیر خزانہ پر بنک کے معاملات میں مداخلت  کرنے اور وسائل کو سیاست کے لئے استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا۔ بہت محتاط رہ کر بھی آسانی سے یہ بتایا جا سکتا ہے کہ اس اشتہار کے شائیع ہونے کے بارے میں وزیراعلی پرویز خٹک کو پہلے سے معلوم تھا۔

خیبر پختون خوا میں کپتان نے ذاتی طور پر کوشش کر کے افسروں کو بڑی مشکل سے رام کیا ہے۔ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ بجٹ خرچیں، ترقیاتی منصوبے بنائیں اور الیکشن سے پہلے انہیں مکمل کریں۔ کپتان نے یہ سب اس لئے کیا کہ اگلے الیکشن سے پہلے کچھ کر دکھائے بغیر چارہ نہیں۔ بیوروکریسی اگر تعاون نہیں کرے گی تو کچھ کرنے کے بس خواب ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔ کپتان نے افسروں کی اپنی ٹیم بنائی ہے جو اب کافی بااختیار ہے۔ صوبائی احتساب کمیشن کے دانت بھی نکال کر انہیں فری ہینڈ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ کام کریں کسی طرح۔

adچیف سیکرٹری خیبر پختون خوا امجد علی خان ایم ڈی خیبر بنک کے فسٹ کزن ہیں۔ قومی اسمبلی کے سیکرٹری ان دونوں صاحبان کے تیسرے کزن بتائے جاتے ہیں۔ صالحین اگر اپنا سینگ پھنسا کر تڑوانے سے پہلے اگر وسی بابے جتنی ہی تحقیق کر لیتے تو شائید اپنی بلے بلے کرانے سے بچ جاتے۔

میاں افتخار حسین نے جب بیان دیا کہ خیبر لیکس پانامہ لیکس سے بڑا پنگا ہے تو یہ اہم بیان تھا۔ میاں افتخار حسین ایک ایک لفظ سوچ کر گولی کی طرح استعمال کرنے کے قائل ہیں۔ بیان پر ابھی غور ہی کر رہے تھے کہ کپتان کے لندن سے سیدھا پشاور پہنچ کر اجلاس کرنے کا پتہ لگا۔

اپنے بے وثوق ذرائع نے تو وہ سب بتایا جو اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔ بے خبر سے جب رابطہ کیا تو وہ عید منا رہا تھا۔ صالحین کے ساتھ اسے پرانا بیر ہے۔ بے خبر کا کہنا یہ تھا کہ خیبر بنک کا ہر پروگرام جماعت اسلامی کی خیرات بن کر رہ گیا تھا۔ بے خبر خیبر بنک کا کوئی فنکشن مس نہیں کرتا۔ صالحین جب خیبر بنک پر نگران ہوں تو ہمارا بے خبر ان پر خدائی فوجدار بن جاتا ہے۔ بے خبر کے بقول وہ صالحین کو طعنے وغیرہ تو دیتا ہی رہا کہ شرم کرو سود کے پیسوں کے خیراتی کھانے کھا رہے ہو، لیکن اس کا کہنا ہے کہ صالحین اب اس کی پروا نہیں کرتے۔

بے خبر کا کہنا ہے کہ کپتان نے پشاور پہنچتے ہیں ایک اجلاس بلایا۔ جماعت اسلامی کے وزیر اور خیبر بنک کے ایم ڈی دونوں اس میں شریک ہوئے۔ ایم ڈی شمس القیوم نے کپتان کو بتایا کہ وہ اپنا استعفی میں لکھ کر لایا ہے۔ بس کپتان اس کو بتا دے اگر درکار ہے تو۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ خیبر بنک کو اصل میں وہ کپتان کے بتائے ہوئے رہنما اصولوں کے مطابق ہی تیر کی طرح سیدھا کر رہا ہے۔

ایم ڈی صاحب سرکاری ملازمین کو گولڈن شیک ہیںڈ دے رہے تھے۔ جبکہ صالحین کا اصرار تھا کہ مزید بھرتی کی جائے۔ ایم ڈی کا کہنا تھا کہ بنک میں سب سیاسی جماعتوں نے اپنے گروپ بنا رکھے ہیں وہ کسی ایک گروپ کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ سب کو نکالیں گے یونین شوق سے چیخیں مارتی رہے۔ کپتان کو بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ ایم ڈی کی کس کس سے رشتہ داری ہے۔ اسے ہٹا کر افسروں کو دوبارہ کام پر لگانے سے آسان کام دھرنے کو برات میں بدلنا ہے۔

سکندر شیرپاؤ کی قیادت میں ایک سیاسی کمیٹی بنا کر کپتان نے معاملہ کو غتر بود کرنے کی اچھی کوشش کی ہے۔

یہ سب تو ہو گئیں بے خبروں کی بے وثوق لوگوں کی بتائی مخبریاں۔ اندر کی بات یہ ہے کہ پرویز خٹک نے پھر یاری نبھا دی ہے۔ کبھی وہ زمانے تھے کہ خٹک صاحب سردار مہتاب کے ساتھ آدھی رات کو مل کر دھواں اڑایا کرتے تھے۔ دھرنے کو مذاق بنانے کی سکیمیں سوچا کرتے تھے۔ اس بار کپتان نے احتجاج جماعت اسلامی کے صالحین کو آگے لگا کر کرنا تھا۔

پرویز خٹک کی اگر بچپن سے دوستی کپتان سے ہے تو چوھدری نثار سے کونسا دشمنی ہے وہی سکول تھا ویسا ہی ہم جماعت تھا۔ آفتاب شیرپاؤ بھی تو استاد ہیں پرویز خٹک کے جنہیں اب احتجاج سے گریز رہنے لگ گیا ہے۔ سردار مہتاب سے کونسا تعلقات خراب ہو گئے ہیں خٹک صاحب کے۔

سوچنے والے بات بس یہ ہے کہ وہ سکیم بنی کیسے کہ صالحین گھیر گھار کے ایک ایسی دیوار سے ٹکرائے گئے ہیں کہ نہ صرف اپنے سینگ تڑوا بیٹھے ہیں بلکہ سراج الحق کی کرپشن مخالف مہم بھی کہیں درمیان میں ہی گم ہو گئی ہے۔ صالحین کی سیاست کو سمجھنے کے لئے دربار صاحب پر متھا ٹیکنا لازم ہے۔ مگر نہ ویزہ ملے نہ ہمیں سمجھ آوے۔


Comments

FB Login Required - comments