حکومت اصغر خان کیس پر عملدرآمد سے متعلق ایک ہفتے میں فیصلہ کرے: سپریم کورٹ


سپریم کورٹ آف پاکستان

AFP
عدالتی فیصلے میں یہ واضح طور لکھا گیا تھا کہ حکومت اس پر عملدرآمد کرے لیکن ایسا نہیں ہوا: عدالت

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ وہ فوج کے سابق سربراہ مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کی جانب سے سیاست دانو ں میں مبینہ طور پر رقوم کی تقسیم کے معاملے پر سال 2012 میں دیے جانے والے فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق ایک ہفتے میں فیصلہ کرے۔

سپریم کورٹ نے چھ سال قبل یہ حکم ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی درخواست پر دیا تھا۔ اس حکم میں کہا گیا تھا کہ حکومت مذکورہ فوجی افسران کے علاوہ دیگر ذمہ داران کے خلاف بھی کاروائی کرے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو حکم دیا کہ اس حوالے سے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر کے اس معاملے کو زیر بحث لایا جائے کہ گذشتہ چھ سالوں سے اس عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

اصغر خان کیس کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت

کس کس نےآئی ایس آئی سے پیسے لیے،تحقیق شروع

پاک فضائیہ کے سابق سربراہ اصغر خان چل بسے

اٹارنی جنرل نے عدالت سے دو ہفتوں کی مہلت طلب کی جسے چیف جسٹس نے مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ حکومت کے پاس اب خود تین ہفتے رہ گئے ہیں تو اسے ان حالات میں کیسے دو ہفتے دیے جا سکتے ہیں؟

میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے میں یہ واضح طور لکھا گیا تھا کہ حکومت اس پر عملدرآمد کرے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر اے میمن سے کہا کہ وہ اس بارے میں قانون کے مطابق کاروائی کریں۔

درخواست گزار ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان، جن کا انتقال اس سال جنوری میں ہوا تھا، ان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ واضح طور کہا گیا ہے کہ اُس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینٹ جنرل اسد درانی نے سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کر کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے ان کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ درج کیا جائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئین شکنی کا نہیں بلکہ بدعنوانی کا مقدمہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ کرنے کا فیصلہ بھی وفاقی حکومت نے کیا جبکہ اس مقدمے کو چلانے کے اقدامات بھی وفاقی حکومت نے ہی دیے۔

اس درخواست کی سماعت کے دوران ایف آئی اے کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ اس بارے میں کچھ افراد کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں جبکہ بہت سے افراد وفات پا چکے ہیں۔

دوسری جانب وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ایف آئی اے سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کو آئندہ ہفتے طلب کرے گی اور ان کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4931 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp