کیا یہ دس ہزار خواجہ سرا انسان نہیں؟


میرا تعلق پاکستان کے ترقی یافتہ صوبے پنجاب کے شہر لاہور سے ہے، لاہور کے علاقے جوہر ٹاون کی ایک ہاوسنگ سوسائیٹی میں رہتی ہوں۔ جس ہاوسنگ سوسائیٹی میں رہتی ہوں، سامنے جناح اسپتال ہے، ہر روز جناح اسپتال کے سامنے والی سڑک سے میرا آنا جانا رہتا ہے۔ گزشتہ بارہ سالوں سے میں اور میری فیملی جوہر ٹاون کے رہائشی ہیں، ان بارہ سالوں میں چار سال ایسے ہیں جب مجھے ہر روز ایک دردناک منظر دیکھنا پڑتا ہے۔ آفس سے گھر وآپسی پر جناح اسپتال کے ٹریفک اشارے پر جب کچھ لمحوں کے لئے ٹریفک رکتی ہے، تو وہ منظر ہمیشہ میرے سامنے ہوتاہے۔ وہ منظر یہ ہے کہ ایک خواجہ سرا ہمیشہ سڑک پر موجود ہوتی ہے، تالیاں بجاکر، دعائیں دے کر وہ بھیک مانگتی ہے، کبھی کوئی رحم دل انسان اس کی مدد کردیتا ہے، تو کبھی بیچاری کو کچھ انسانوں سے گندی اور گھٹیا گالیاں سہنی پڑتی ہیں۔ پچھلے چار سالوں سے اس طرح کی دردناک اور المناک صورتحال کا سامنا کررہی ہوں۔

گزشتہ رات چھوٹی بہن کے ساتھ کسی کام کے سلسلے میں گھر سے باہر جانا ہوا، کام مکمل کرنے کے بعد گھر وآپسی پر اسی اشارے پر رکنا پڑا۔ وہ منظر جسے میں چار سال سے دیکھ رہی تھی، اب وہ زندگی کے روپ میں میری گاڑی کی طرف بڑھا، اور میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا، اسے دیکھ کر میں نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا، وہ مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی، شاید وہ خواجہ سرا مجھے یہ احساس دلا رہی تھی کہ بی بی پچھلے چار سال سے مجھے جانتی ہو، ہر روز میرے پاس سے تمہیں گزرنا ہوتا ہے، ایک بار بھی کبھی میراحال نہیں پوچھا، مجھے اس کی مسکراہٹ سے ایسے لگا جیسے وہ یہی کچھ کہے گی۔ شیشہ کھل چکا تھا، میرا اور اس کا آمنا سامنا ہوچکا تھا، ایسا لگا ہر طرف خاموشی چھا گئی ہے، کچھ لمحوں تک ہم دونوں خاموش ایک دوسرے کو تکتے رہے، وہ اسی دوران مسکراتی رہی اور میں شرمسار نظر آئی۔

اس کیفیت سے نکلنے کے لئے اچانک میں اس سے سوال کیا، تمہارا نام کیا ہے؟ کچھ دیر کے بعد وہ خواجہ سرا بولی، میڈم، میرا نام شنو ہے۔ میں نے احساس شرمندگی کو چھپانے کے لئے جلدی سے کہا یہاں اس ٹریفک اشارے پر کیا چوبیس گھنٹے کھڑی رہتی ہو؟ شنو نے دکھ بھرے لہجے میں کہا، میڈم جی، شام پانچ بجے اس ٹھکانے پر آتی ہوں، رات تین بجے تک رہتی ہوں، اس نے مسکراتے ہوئے کہا میڈم میں بھی ہر روز آپ کو یہاں گاڑی پر آتے جاتے دیکھتی ہوں، اس شاہراہ پر کئی سال بیت گئے، اس لئے وہ لوگ جو مستقل گاڑیوں پر یہاں سے آتے جاتے ہیں، ان سے شناسائی ہوگئی ہے، اس لئے میرا اور آپ کا یہ تعلق تو بنتا ہے، اپنائیت سے مزین اس کا افسانوی خیال سن کر میں مسکرا پڑی۔

میرے پاس سوال ختم ہو گئے تھے، لیکن وہ جواب دینے کے لئے بیقرار نظر آئی۔ شنو اچھا بتاؤ تمہارا گھر کہاں ہے؟ سوال سنتے ہی شنو کے چہرے پر اداسی چھا گئی، اس کی آنکھوں میں آنسو امنڈ آئے، تھوڑی دیر کے بعد اس نے جواب دیا میڈیم گھر والے تو آپ جیسے انسانوں کے ہوتے ہیں، ہم انسان تھوڑی ہیں، ہم تو انسان نما کوئی اور مخلوق ہیں، پیدا ہوتے ہی ہمیں گرووں کے حوالے کردیا جاتا ہے، اس لئے میں بھی گرو کے ساتھ رہتی ہوں، ہم جیسی تمام انسان نما مخلوق اپنے اپنے گرو کے ساتھ رہتی ہے۔ ہم وہ بدقسمت مخلوق ہیں جن کے ماں باپ، بھائی بہن نہیں ہوتے، مر جائیں تو کوئی رونے دھونے والا بھی نہیں ہوتا، ہم صرف تالیاں بجانے، ناچنے گانے اور جنسی استحصال کے لئے پیدا ہوتے ہیں، گرو اور کمیونٹی کے لوگ ہی میرا سب کچھ ہیں۔

شنو دکھ سے اور درد کی کیفیت سے کانپ رہی تھی۔ شنو کی باتیں سن کر ساتھ بیٹھی میری چھوٹی بہن کی آنکھوں میں آنسو تھے، اس کیفیت سے نکلنے کے لئے میں نے کہا، شنو سنو کیا آپ کو معلوم ہے کہ حکومت پنجاب نے آپ کے لئے ایک شاندار اسکول کھولا ہے؟ شنوکے غمگین چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی، اس نے جلدی سے کہا، میڈم میں نے بھی اس اسکول میں رجسٹریشن کرالی ہے۔ شنو کی یہ بات سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ دل ہی میں سوچا چلو پنجاب حکومت نے میٹرو اور اورنج کے ساتھ ساتھ ان انسانوں کے بارے میں بھی سوچا۔ شنو اب خوش دیکھائی دے رہی تھی، میں نے پرس سے کچھ پیسے نکالے اور شنو کے ہاتھ میں تھما دیے اور جلدی سے گاڑی کا شیشہ بند کرکے گھر کو روانہ ہوگئی، اشارے سے گھر تک میں اور میری بہن خاموش رہے، اسی دوران نجانے کیوں میری آنکھوں سے آنسو چھلکتے رہے۔

پاکستان کی چھٹی مردم شماری کے عبوری نتائج کے مطابق ملک کی اس وقت مجموعی آبادی 20کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار 527 نفوس پر مشتمل ہے، پاکستان کے قیام کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ مخنث افراد کے اندراج کاخانہ بناکر انہیں علیحدہ جنس تسلیم کرلیا گیا ہے۔ نتائج کے مطابق مخنث افراد کی تعداد تقریبا دس ہزار 418 ہے۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبےپنجاب میں سب سے زیادہ یہ افراد رہتے ہیں۔ یہاں پرمخنث کمیونٹی کے 6700 نو افراد ہیں۔

سندھ آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا صوبہ ہے۔ یہاں پر خواجہ سراؤں کی تعداد2527 ہے، خبر پختونخوا میں 913 اور بلوچستان میں 109 خواجہ سرا رہتے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں 27 اور وفاقی دارالحکومت میں 133 خواجہ سراوں کا بسیرا ہے۔ قومی ڈیٹا کے مطابق 7651 خواجہ سرا شہر جبکہ 2767 دیہی علاقوں میں رہائش پزیر ہیں۔ خواجہ سرا پاکستان میں ظلم و جبر کا شکار ہیں، بد قسمتی دیکھیں کہ انہیں یہاں مسلمان انسان تک نہیں سمجھتے۔ ان کے بے شمار مسائل ہیں، ہر روز، ہر لمحہ تکلیف، دکھ اور درد ان کا مقدر ہے۔ پشاور میں علیشا نامی خواجہ سرا کے ساتھ جنسی درندگی کی گئی اور اس کے بعد اسے دردناک انداز میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ گیارہ درندوں نے علیشا کے ساتھ جنسی زیادتی کی، جب کچھ خواجہ سرا علیشا کو اسپتال میں لائے تو ان کا ڈاکٹروں نے ان کا مذاق اڑایا، اور اسی مذاق مذاق میں علیشا مر گئی۔

2016 میں سیالکوٹ میں شنایہ نامی خواجہ سرا کو ججا بٹ نامی شخص کی جانب سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، 2017 میں لاہور میں عملی اور مسکان نامی خواجہ سراؤں کو زیادتی اور تشدد کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ سیالکوٹ میں ستارہ درندہ صفت افراد کا نشانہ بنی، جنسی زیادتی کے بعد اسے گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ نوشہرہ میں سفید نامی خواجہ سرا کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ کراچی میں چندا نامی خواجہ سرا کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ ٹرانس ایکشن پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں 2015 میں خواجہ سراوں پر تشدد کے 53 کیسز رپورٹ ہوئے۔

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پچھلے دو سال میں 24 خواجہ سراؤں قتل کر دیا گیا اور 121 افراد کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 2018 کی آغاز سے اب تک پنجاب کے مختلف شہروں میں آٹھ خواجہ سراؤں کو موت کے گھاٹ اتارا جاچکا ہے۔ کراچی میں 2017میں دو خواجہ سراؤں کو بدترین جنسی تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا۔ بلوچستان میں اس طرحکے واقعات باقی صوبوں کی نسبت کم ہیں۔ دنیا میں پاکستان کا شمار ان ممالک میں کیا جاتا ہے جہاں خواجہ سرا سب سے زیادہ ظلم، جبر اور جنسی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواجہ سراؤں میں ایڈز جیسے مرض کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جا تے، اس کی مثال گندگی کے ڈھیر کے پاس زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا دیوانی نامی خواجہ سرا کی ہے جو کئی سالوں سے ایڈز کا شکار ہے، لیکن اس کے لئے ابھی تک کچھ نہیں کیا گیا۔

پنجاب حکومت اور ایکسپلورنگ فیوچر فاؤنڈیشن کے اشتراک سے جنڈر گارڈین نامی اسکول قائم کیا گیا ہے۔ جو لاہور میں ہے، یہاں خواجہ سراؤں کو باعزت انداز سے تعلیم دی جا رہی ہے۔ پاکستان میں پہلی ٹرانسجنڈر نیوز کاسٹر مارویہ ملک نیوز اینکر بنکر اسکرین پر چھائی ہوئی ہیں۔ خواجہ سرا پاکستان میں ماڈلنگ بھی کررہے ہیں۔ سنا ہے اب ان کے ڈرائیونگ لائسنس بھی بنائے جارہے ہیں۔ گزشتہ سال ایک خواجہ سرا کا تیسری جنس کے اندراج کے ساتھ پاسپورٹ بھی بن چکا ہے، لیکن ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔

مخنث افراد کی زندگی سڑکوں پر پیسے مانگنے، جنسی درندوں کے ہاتھوں استعمال ہونے اور لوگوں کی خوشیوں میں ناچنے گانے کے لیے نہیں ہے، یہ بھی انسان ہیں، یہ بھی وہی حقوق رکھتے ہیں جو مردوں اور عورتوں کو حاصل ہیں۔ ۔ ہم سب ان کو ہر روز کسی نہ کسی ٹریفک سگنل، گلی کوچوں، سڑکوں اور شاہراوں پر بھیک مانگتے دیکھتے ہیں، کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ان کے لئے ہم بطور فرد کیا کر سکتے ہیں؟ یہ دس ہزار خوبصورت خواجہ سرا ہمارے معاشرے کا حصہ ہےمعاشرے کی ترقی میں یہ بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی شناخت کا مسئلہ تو حل کردیا گیا تاہم اب بھی یہ مسئلہ سست روی کا شکار ہے۔ 2017 میں ایوان بالا کی ایک کمیٹی نے مخنث افراد کے تحفظ اور روزگار کے حوالے سے ایک مجوزہ بل منظور کیا تھا، آج تک عملا اس بل کی شقوں پر عمل نہیں کیا گیا۔

ریاست اور حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی تعلیم اور روزگار کے لئے پالیسی مرتب کرے تاکہ یہ اس معاشرے کے کارگر شہری بن سکیں۔ امریکہ اور یورپ میں خواجہ سراؤں کو کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ کسی قسم کا فرق کیا جارہا ہے، وہ یورپ اور امریکہ جہاں غیر مسلم رہتے ہیں، اور جنہیں ہم کافر کہہ کر اندر کی دنیا کو مطمن کردیتے ہیں، ہم جو اپنے آپ کو اشرف المخلوقات سمجھتے ہیں، جو جنت کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں، جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے سوا جنت میں کوئی اور نہیں جائے گا، کیا کچھ ہورہا ہے، کیا کبھی ہم نے سوچا؟ اس پر سوچیے!

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں