رمضان کے نام ایک خط


پیارے رمضان،

پیاز، ٹماٹر، اور پھل وغیرہ کی ذخیرہ اندوزی کے باعث بڑھی قیمتوں سے اندازہ ہوا تم ہماری زندگیوں میں دستک دے رہے ہو۔ وہ وقت دور نہیں جب ہم سب چاند کو دیکھتے ہی تمہیں خوش آمدید کہہ رہے ہوں گے۔ خوش آمدید سے یاد آیا تم ہر بار پختونخوا میں پہلے کیوں آجاتے ہو۔ ان سے اس قدر الفت کی وجہ کیا ہے؟ ہمارے ملک میں تمہیں خاص طور پر مبارک اور بابرکت مہینہ کہا جاتا ہے۔ تمہاری آمد سے سب خوش ہوجاتے ہیں کہ سحری کے بہانے صبح سویرے سارا خاندان ایک ساتھ دسترخوان پر موجود ہوتا ہے۔ مساجد آباد ہوجاتی ہیں۔ افطار کی لذتیں نصیب ہوتی ہیں۔ تراویح پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ ایمان تازہ ہوجاتا ہے۔ شاید دفتر کے اوقات میں بھی کمی ہوجایا کرتی ہے۔ آخر میں عید کا تحفہ بھی نصیب ہوتا ہے۔

میرے اس خط لکھنے کا مقصد اپنی پریشانی کا اظہار کرنا ہے۔ بچپن میں تمہاری آمد سے میں بھی بہت خوش ہوجاتا تھا۔ مجھے یاد ہے۔ ابھی مجھ پر روزے فرض بھی نہیں ہوئے تھے کہ میں ضد کرکے روزہ رکھا کرتا تھا۔ اور اگر کبھی سحری میں امی مجھے نہ اٹھاتیں تو روٹھ جایا کرتا تھا۔

اب کی بار تمہاری آمد سے میں بہت پریشان ہوں۔ مجھے شدت سے اس حقیقت کا اندازہ ہوا ہے کہ رحمتوں اور برکتوں کا تعلق مہینوں یا وقت سے نہیں بلکہ پیسوں سے ہوا کرتا ہے۔ اگر کسی کی جیب خالی ہے تو رمضان کا مہینہ اس کے کے لئے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ اور پیسے پاس ہیں تو کوئی بھی مہینہ رمضان سے زیادہ بابرکت ہوسکتا ہے۔ اب تم میری ہی مثال لے لو۔ تین ماہ سے مجھے اور میرے ساتھیوں کو تنخواہ نہیں ملی۔ اب پاس پیسے نہیں ہیں تو میں تمہاری برکتوں اور نعمتوں کی قیمت ادا نہیں کرسکتا۔ دسترخوان من و سلویٰ سے تو سج نہیں جایا کرتا۔ راشن خریدنا پڑتا ہے۔ سوچ رہا ہوں چند ہی روز میں پیسوں کا بندوبست نہیں کرسکا تو سحر اور افطار کے معاملات کیسے ادا ہوں گے۔ عمر کے اس آخری حصے میں ماں باپ کو ان تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑا تو وہ اپنی نالائق اولاد کو کیسے معاف کریں گے؟ بچوں کو کیا کہہ کر ٹالوں گا۔ چھوٹے بیٹے کو فروٹ چاٹ بہت پسند ہے، وہ مانگے گا تو کیا جواب دوں گا۔ بیٹی کو افطاری مسجد بھجوانے کا بہت شوق ہے۔ اس کا شوق کیسے پورا ہوگا۔ ابا پکوڑے بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ اگر دسترخوان پر نہ ہوئے تو ان کا سامنا کیسے کروں گا؟

پیارے رمضان، یقین جانو مجھے قدرت بہت ہی ظالم محسوس ہورہی ہے۔ مجھ جیسے سفید پوش کا امتحان صرف رمضان ہی میں نہیں۔ رمضان کے بعد بھی رکھا ہے۔ عید کی صورت میں!

سوچ رہا ہوں۔ خود سمیت خاندان بھر کے لئے نئے لباس کیسے بناؤں گا۔ اگر نہیں بناتا تو سفید پوشی کا بھرم جو اب تک قائم ہے ٹوٹ جائے گا۔ لوگ باتیں کریں گے۔ مھے تو فرق نہیں پڑتا مگر میرے بچے! ان کا کیا قصور ہے؟ یہی کہ وہ ایک غریب باپ کی اولاد ہیں۔

دیکھو تم اب کی بار مت آؤ نا۔ اگر آنا اتنا ہی ضروری ہے تو اپنے ساتھ مجھ سمیت دیگر ضرورت مندوں کا رزق، عید کے لباس کے پیسے اور بہت سی خوشیاں لیتے آؤنا۔ تم تو بہت با برکت اور مبارک ہو۔ اللہ کے بھی بہت قریب ہوگے۔ تم ہی دعا کرو کہ میری تنخواہ آجائے۔

تمہارا مفلس دوست،
محسن شہباز

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں