پنجاب پولیس اور فوج کا تقابل ممکن ہے؟


husnain jamal (3)آج کراچی میں نامعلوم افراد کی جانب سے پولیس کو سات لاشیں عطا ہوئیں۔ پولیو مہم کے سلسلے میں کئی دوسرے سانحات کے ساتھ ساتھ اسے بھی فراموش کر دیا جائے گا۔ وزیر اعظم پہلے ہی دشمنوں سے غیر متزلزل عزم کے ساتھ لڑنے کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں نیز پوری قوم کو ساتھ ملانے کا عندیہ دیتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ یہ دہشت گرد بزدل ہیں۔

سات اہلکاروں کی قربانی ابھی چار پانچ روز پہلے ہی پنجاب پولیس سے دلوائی گئی۔ چوبیس یرغمال بنے۔ اس سلسلے میں دو اہم باتیں سامنے آئیں۔ ایک تو یہ کے آپریشن کی منصوبہ بندی انتہائی ناقص تھی اور فیصلے بہت عجلت میں کیے گئے تھے، اور دوسرے یہ کہ ڈاکووں کے پاس موجود اسلحہ پولیس کے اسلحے سے بہت زیادہ جدید تھا۔ ان ازحد قیمتی جانوں کے نقصان کے بعد فوج سے مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا اور بالاخر وہ علاقہ چھوٹو گینگ سے فوج چھڑوانے میں کامیاب ہو گئی۔ صد شکر کہ پولیس کے جوان بھی بہ خیر و عافیت واپس پہنچے۔

اس تمام کارروائی کے دوران پنجاب پولیس پر مسلسل تنقید کی جاتی رہی اور ان کی اس ناکامی پر نائیوں، قصائیوں، موچیوں، میڈیکل ریپوں، انجینیروں اور ڈاکٹروں سے لے کر سیاست دانوں تک نے کئی بار مذمتی بیانات دئیے اور سخت ترین محکمانہ اقدام کا مطالبہ کیا گیا۔

سوال یہ ہے کہ 90.49 بلین اور 781 بلین میں کیا فرق ہوتا ہے؟

صرف اتنا سا کہ سات سو اکیاسی بلین سے ہم آٹھ ادارے پنجاب پولیس کے برابر کھڑے کر سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ کوئی فرق نہیں۔ فوج کا بجٹ رواں سال یہی تھا اور پنجاب پولیس کا 90 بلین تھا۔

جو دوست آج کل پولیس کی کارکردگی کے بارے میں سوال اٹھاتے نظر آ رہے ہیں ان سے گذارش ہے کہ صرف ایک بار پولیس لائنز جا کر وہ جگہ دیکھ لیں جہاں ہمارے عام سپاہی رہتے ہیں۔ عموماً نقشہ یوں ملے گا کہ ایک لمبا سا ہال ہو گا جس میں چھت سے چپکے ہوئے ایک دو پنکھے ہوں گے۔ ہر سپاہی کی اپنی چارپائی، جو وہ خود پیدا کرنے کا مجاز ہے، وہ موجود ہو گی اور اس سے بندھا ہوا ایک ٹرنک ہو گا جس میں اس کے روزمرہ استعمال کی چیزیں ہوں گی۔ اگر بہت زیادہ گرمی لگے تو اپنا پیڈسٹل فین بھی خود پیدا کر لائیے، ورنہ چھت کے پنکھوں کے نیچے ہاتھ پاوں کھول کر لیٹ رہیں۔

اور اس ماحول میں اگر آپ کو کسی ہفتہ وار چھٹی کے بغیر رہنا پڑے تو کیا ہو؟ اتوار کے دن ہم میں سے کتنے ہوں گے جن کو کسی بھی قسم کا کوئی کام کرنا پسند ہو گا، کجا یہ کہ زندگی میں اتوار اور سوموار کا فرق ہی کوئی نہ ہو۔ تہواروں پر سیکیورٹی کی صورت حال ہمیشہ کی طرح خراب رہنے کی وجہ سے وہ چھٹیاں بھی ماری جائیں، بلکہ محرم اور میلاد کے موقع پر تو جلوسوں کی حفاظت بھی کرنی پڑے، کتنا مورال بچے گا آپ کے پاس ہائی رکھنے کے لیے؟

اور اس سب کے ساتھ اگر آپ کو کہا جائے کہ آپ کی ڈیوٹی چوبیس گھنٹے کی ہو گی تو آپ کا ردعمل کیا ہو گا؟ جب بھی کہیں سے امن عامہ میں خلل کی خبر آئے گی تو آپ کو ملک و قوم کی خدمت کے اضافی مواقع بھی دئیے جائیں گے، ڈیوٹی اڑتالیس گھنٹے تک بھی جا سکتی ہے اور اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ سیاست میں آپ بے طرح گھسیٹے جائیں گے، کپتان دھرنا دیں گے، موت آپ کو آئے گی، قادری صاحب انقلابی پر پھڑپھڑائیں گے، بے گناہ افراد قتل ہونے کا مدعا آپ پر آئے گا، اور کوئی غیر ملکی جاسوس پکڑ لیا تو جان لیجیے کہ اب گئے کام سے۔

طرح طرح کی فورسز بنائی گئیں، مجاہد فورس، ایلیٹ فورس، ڈولفن فورس لیکن بنیادی پولیس فورس کو سن انیس سو اکہتر کی رائفلیں دے کر آگے لگا دیا گیا۔ مسلسل ڈیوٹیوں کی وجہ سے نیند پوری نہ ہو، گھر بار سے دور پوسٹنگ لگی ہو، بیوی بچوں کی شکلیں بھولتی جا رہی ہوں، ورزش کا وقت نہ ملے، صحت باقاعدہ مسائل کا شکار ہو تو اس حالت میں انسان اپنے سائے سے بھڑ سکتا ہے لیکن جدید اسلحے والے دشمن کو للکارنا بے وقوفی کے علاوہ کچھ نہیں۔

مسجد، مزار، گردوارہ، امام باڑہ، چرچ، مندر، مڑھی اور اب تو اسکولوں اور کالجوں کی حفاظت بھی یہی لوگ کریں اور جن کی حفاظت کریں انہیں سے گالیاں بھی کھائیں، یہ کیسا انصاف ہے۔ تنخواہ کم ہو گی تو رشوت گھر کی ضرورت بن جائے گی، آٹا، دال، سبزی اور بچوں کی فیسیں بھرنے کے واسطے جذبہ ایمانی کافی نہیں ہوتا، انٹی میں دھیلے ہونے بھی ضروری ہوتے ہیں۔ کھل کر اس جملے کی مخالفت کریں مگر آپ جس شعبے سے بھی ہیں پہلے اپنے گریبان میں جھانک لیں کہ کہیں آپ کو نیا سال شروع ہونے پر ڈائری، کیلنڈر، پین، پھلوں کی پیٹی یا حسب مراتب کچھ اور تو موصول نہیں ہوا؟ دفتری روابط میں یہ سب بھی اسی زمرے میں شامل ہو گا۔ آج کل تو پولیس میں یو این مشن والا سلسلہ بھی بند ہے نہیں تو حلال طریقے سے اضافی کمائی کا واحد راستہ شاید وہی تھا۔ اعتراض کرنے والوں سے دست بستہ التماس ہے کہ ذرا ان سب عوامل پر بھی نظر ڈالیں۔

اب آ جائیے سوال پر کہ 90.49 بلین اور 781 بلین میں کیا فرق ہوتا ہے؟ تو بھئی اس میں وہی فرق ہوتا ہے جو ٹینک اور کرولا کے ڈالے میں ہوتا ہے۔ اس میں وہی فرق ہوتا ہے جو جی تھری اور توڑے دار بندوق میں ہوتا ہے، جو بریٹا اور ہاتھ سے بنے طمنچے میں ہوتا ہے، جو اینٹی ایر کرافٹ اور دستی بم میں ہوتا ہے، جو نیند پوری نہ ہونے اور بے وقت کھانے کی وجہ سے نکلی ہوئی توند اور سکس پیک ایبس میں ہوتا ہے، جو بدرنگ سرمئی قمیص اور اکڑی ہوئی خاکی وردی میں ہوتا ہے، جو سیاست دانوں کی باتیں سننے اور ان کو سنانے میں ہوتا ہے اور جو فرق لکڑی کی موٹر بوٹ اور جدید لانچ میں ہوتا ہے۔

 آندھی، طوفان، زلزلہ، سیلاب اور تمام تر زمینی آفات میں واقعی فوج ہماری مددگار ہوتی ہے اور اس کے لیے ہم اس کے تہ دل سے شکرگزار ہیں بلکہ رکشوں اور ٹرکوں کے پیچھے بھی تصویریں لگائے پھرتے ہیں لیکن عام حالات کو نارمل رکھنے کے لیے ہمیں سال کے باقی تمام دن جس پولیس کی ضرورت رہتی ہے، تو وہ کیا اپنی تمام تر خامیوں کے ساتھ ہماری ذرا سی ہمدردی کے بھی مستحق نہیں ؟


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 145 posts and counting.See all posts by husnain

4 thoughts on “پنجاب پولیس اور فوج کا تقابل ممکن ہے؟

  • 21-04-2016 at 2:15 am
    Permalink

    محترم حسنین جمال صاحب کتنا آسان ہوتا ہے پاک فوج کا تقابل مقامی پولیس سے کرنا اور آرمی کے بجٹ کو تنقید کا نشانہ بنانا۔ محترم جو حالت زار آپ پنجاب پولیس کے ان بیرکوں کے بارے میں کر رہے ہیں تو محترم کبھی عام فوجیوں کی بیرکوں کا بھی دورہ کیجیے اور بذات خود اپنی آنکھوں سے دیکھیئے کہ وہاں کس قسم کے ماحول میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں اورملک کیلئے کتنی قربانیاں دے رہے ہیں نیز پاک آرمی کے تمام جنرل آفیسر کمانڈرز کیسے کیسے اقدامات اٹھا کر ایک نئی تبدیلیاں لا رہے ہیں لیکن یہ سب کچھ پاک فوج اپنے وسائل سے سر انجام دے رہی ہے۔ حکومت وقت اس کیلئے کوئی اسپیشل گرانٹ مختص نہیں کرتی ہے۔ یہ پاک آرمی کے لیڈرز حضرات ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر جوان کو ایک آرام دہ اور پر سکون ماحول ملے۔ محترم پولیس کےبالا آفیسر سیاسی رہنمائوں کے آگے آگے بچھے جاتے ہیں اور انکو اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ انکے جوان کس طرح کی کسمپرسی کی زندگی ان بیرکوں میں گزارنے پر مجبور ہیں۔ جب کوئی رقم اس کام کیلئے مختص کی جاتی ہے تو یہی بالا آفیسرز اپنی نوکری کو خوب سے خوب تر بنانے کیلئے سیاسی رہنماوں کےآگے کٹھ پتلیوں کی طرح کام کرتے ہیں اور اربوں روپے ڈکار کر بعد میں اپنا تبادلہ کروالیتے ہیں (ابھی چند مہینے پہلے سندھ پولیس کے آیئ جی صاحب اسکی تازہ مثال ہیں ) محترم آرمی کے بجٹ پر بحث ضرور کریں لیکن اتنا ضرور سوچیں کہ پوری آرمی پاکستان کی بقا کی جنگ لڑرہی ہے اور ہمارے اطراف جو دوست نما دشمن موجود ہیں ان سے نمٹنے کیلئے یہ بجٹ بھی ناکافی ہے لیکن آرمی اپنے وسائل کے ساتھ اندرونی و بیرونی دشمنوں کے ساتھ نبروآزما ہے۔اگر آپ بالفرض پولیس کا بجٹ ڈبل بھی کر دیں تو کوئی فائدہ اسوقت تک عوام کو نہیں پہنچے گا جب تک آپ پولیس کو سیاست کے دھندے سے علیحدہ نہیں کر دیتے اور اسی خواب کو لیکر پورے پاکستان کی عوام روز بیدار ہوتی ہے مگر ہمارے نااہل سیاستدانوں نے اس بات کا تہیہ کیا ہوا ہے کہ وہ اس خواب کو کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دینگے۔

  • 21-04-2016 at 3:25 pm
    Permalink

    You showed the other side very well. There is no comparison between the two. Moreover, Army fights a declared enemy and with ample power in hand, police has to fight within society and within the ambit of civil law which jealously guards human rights, it is a very difficult fight indeed.

  • 21-04-2016 at 3:30 pm
    Permalink

    کسی بھی ادارے کی تعمیر و ترقی اور توقیر و منزلت ادارے کی قیادت اور ادارہ جاتی نظم پر منحصر ھے۔ ایک اہل اور پر عزم قیادت کسی بھی ادارے کو اپنے پاؤں پر کھڑا رکھنے کی کوشش میں (مکمل نہ سہی توکسی حد تک ضرور) کامیاب ھو سکتی ھے (راقم ذاتی طور پریہ تجربہ کرچکا ھے اور جس ادارے کی قیادت ملی اسے ارتقاء کی راہ پر گامزن کردیا اور وہاں پیشہ ورانہ کارکردگی کا کلچر متعارف کردیا)۔۔۔
    پاکستانی قوم بجا طور پراپنی مسلح افواج پر فخر کرنے کا استحقاق رکھتی ھے کیونکہ ھماری افواج نے بطور ادارہ اپنے معیار، اپنی ادارہ جاتی اقداراور قیادت کی اہلیت یقینی بنانے پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے حوالے سے اس ادارے نے اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ پیش کیا ھے اور نتائج دۓ ہیں۔
    پولیس کے ادارے اور دیگر قومی اداروں کو بھی اندرونی طور پراپنے ارتقاء کے سفر کوممکن بنانا ھوگا۔
    Where there is a will, there is a way………

  • 21-04-2016 at 3:37 pm
    Permalink

    مزید یہ کہ چھوٹو گینگ کا قیام اور اس حد تک مضبوط ھوجانا، پولیس کی عدم توجہی (یا درپردہ اعانت) سے ممکن ھوا۔۔۔۔۔ اس پسِ منظر میں پولیس کا اپنے (پروردہ یا) نظر انداز کردہ عفریت کا خاتمہ کرنا ناممکنات کے قریب تھا کیونکہ اس گینگ کو ادارے کے اندر سے معاونت دستیاب تھی۔ !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

Comments are closed.