امریکہ ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے نکل جائے گا؟ فیصلہ آج متوقع


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج رات کو اعلان کریں گے کہ آیا امریکہ ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے نکل جائے گا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں لگائے گا یا نہیں۔

صدر ٹرمپ 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو اپنی جوہری طاقت پر کام کو محدود کرنا ہے اور اس کے بدلے میں اس پر لگائی گئیں پابندیاں نرم کر دی گئیں۔

’جوہری معاہدہ ختم کرنے پر امریکہ کو پچھتاوا ہو گا‘

جوہری معاہدہ کر کے ایران کو کوئی فائدہ بھی ہوا کہ نہیں؟

’بنیامین نتن یاہو کے الزامات فرسودہ، بے کار اور شرمناک ہیں‘

وائٹ ہاؤس نے عندیہ دیا ہے کہ صدر معاہدے سے مکمل طور پر باہر نکلنے کا اعلان نہیں کریں گے تاہم ابھی تک کچھ واضح نہیں ہے کہ وہ اس کے بجائے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

ایران

BBC
جوہری معاہدے میں پیدا ہونے والے کسی تنازع کا طریقہ کار

یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدہ بہترین طریقہ ہے جس کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکتا ہے۔

برطانوی سیکریٹری خارجہ بورس جانسن نے صدر ٹرمپ سے استدعا کی ہے کہ جوہری معاہدے کو ختم نہ کریں۔ دوسری جانب فرانسیسی وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ فرانس، برطانیہ اور جرمنی معاہدے کی پاسداری جاری رکھیں گے۔

جوہری معاہدہ کیا ہے؟

جوہری معاہدہ

AFP

یہ جوہری معاہدہ ایران اور سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ممالک اور جرمنی کے درمیان طے پایا تھا۔

  • ایران یورینیم کی پانچ فیصد سے زائد افزودگی روک دے گا اور درمیانے درجے تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ناکارہ بنائے گا۔
  • آراک کے مقام پر بھاری پانی کے جوہری منصوبے پر مزید کام نہیں کیا جائے گا۔
  • جوہری ہتھیاروں کے عالمی ادارے کو نتنانز اور فردو میں واقع جوہری تنصیبات تک روزانہ کی بنیاد پر رسائی دی جائےگی۔
  • ان اقدامات کے بدلے میں چھ ماہ تک جوہری سرگرمیوں کی وجہ سے ایران پر کوئی نئی پابندی نہیں لگائی جائے گی۔
  • قیمتی دھاتوں اور فضائی کمپنیوں کے سلسلے میں پہلے سے عائد کچھ پابندیاں معطل کر دی جائیں گی۔
  • ایران کو تیل کی فروخت کی موجودہ حد برقرار رہے گی جس کی بدولت ایران کو چار ارب بیس کروڑ ڈالر کا زرِمبادلہ حاصل ہو سکے گا۔

صدر ٹرمپ معاہدے کے خلاف کیوں؟

ٹرمپ

EPA

صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو ’تباہی‘ اور ’پاگل پن‘ قرار دیا ہے اور دو بار کانگریس کو اس بات کی توثیق کرنے سے انکار کیا کہ ایران معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری معاہدے کی تعمیل کے حوالے سے کانگریس کو وضاحت دینے کا مطالبہ مسترد کر چکے ہیں لیکن تاحال انھوں نے پابندی بحال کرنے سے بھی انکار کیا ہے۔

انھوں نے جنوری 2018 میں خبردار کیا تھا کہ اگر کانگریس اور یورپی ممالک نے اس معاہدے کی تباہ کن خامیوں کو دور نہ کیا تو 12 مئی کو امریکہ معاہدے سے نکل جائے گا۔

امریکہ کا ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے پر زور

امریکہ اور فرانس کی ایران کے جوہری پروگرام پر نئے معاہدے کی تجویز

ان کی شکایت ہے کہ یہ معاہدہ ایران کو ایک محدود مدت کے لیے جوہری سرگرمیوں سے روکتا ہے تاہم اس نے بیلیسٹک میزائلز پر کام نہیں روکا۔ اور اس کی وجہ سے ایران کو ایک کھرب ڈالر ملے جو اس نے مشرقِ وسطی میں ہتھیاروں کے ترسیل ، دہشت اور قبضہ پھیلانے کے لیے استعمال کیے۔

یورپی رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کو اس بات پر راضی کرنے کی کوششیں کیں کہ معاہدے کو ختم نہ کیا جائے اور جو خدشات ہیں ان کو ایک اور معاہدے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اطلاعات کے مطابق یورپی سفارتکار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ ٹرمپ کو راضی کرانے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کیی کہ وہ ایران جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنے فیصلے کا اعلان شام چھ بجے جی ایم ٹی پر کریں گے۔

صدر ٹرمپ کیا اعلان کرسکتے ہیں؟

ایران

AFP

صدر ٹرمپ ایران پر تیل اور بینکنگ کی صنعت پر پابندیاں عائد کر سکتے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو اس سے معاہدہ ختم ہی سمجھا جائے گا۔

امریکہ ایران کے سینٹرل بینک پر دوبارہ پابندیاں عائد کر سکتا ہے جس کا مقصد تیل کی برآمدات کو متاثر کرنا ہے۔

ایران کا کیا کہنا ہے؟

روحانی

AFP

ایران جس کا اصرار ہے کہ اس کا جوہدری پروگرام پر امن ہے اور اس کا موقف ہے کہ اس کے خیال میں ایران کا جوہری معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

ایرانی صدر حسن روہانی کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر نے دوبارہ پابندی عائد کی تو اس کے ’خطرناک نتائج‘ ہوں گے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں یورینیئم کی افزودگی بڑھا دی جائے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4878 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp