اقبال کی فکر اور غلطی ہائے مضامین (2)


sajid aliگزشتہ قسط میں ہمارا موضوع بحث یہ تھاکہ ایک متن کو درست طور پر کیسے پڑھا جائے تاکہ مصنف کے اصل مدعا کی بازیافت کی جا سکے۔ اس کے ساتھ اختلاف و اتفاق بعد کی بات ہے۔ زیر نظر قسط میں خطبہ الہ آباد کے استدلال کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے اور متن کی نادرست خواندگی اور استدلال کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی سعی (نامشکور) ہے۔

پاکستان میں یہ بات ایک سرکاری عقیدے کا درجہ حاصل کر چکی ہے کہ علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں پاکستان کا تصور پیش کیا تھا۔ ایک بار نظریہ پاکستان کے علم بردار اخبار کے ایڈیٹوریل میں یہ جملہ پڑھنے کا اتفاق ہوا کہ ”پاکستان علامہ اقبال کے تصور اور قائد اعظم کی جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہوا“۔ ایک بزرگ کالم نویس نے تو یہ لکھ کر حد ہی کر دی کہ قائد اعظم نے علامہ اقبال کے حکم  پر پاکستان بنانے کی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ تاریخ میں ایسا شاید کوئی اور واقعہ نہ ہوا ہو جب ایک جماعت کا ایک صوبائی صدر مرکزی صدر کو حکم دے رہا ہو۔ خامہ بگوش کے الفاظ میں یہ تاریخ نویسی نہیں بلکہ ٹلہ نویسی ہے۔

 علامہ اقبال کا خطبہ مطبوعہ صورت میں موجود ہے اس لیے بہتر یہی ہو گا کہ اسی سے رجوع کیا جائے اور یہ سمجھنےکی کوشش کی جائے کہ وہ اس میں کیا ارشاد فرما رہے ہیں۔ مولوی حضرات ایک بات کا بہت کا ذکرکیا کرتے ہیں کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو لا تقربوا الصلوٰة پڑھ کر ہی رک جاتے ہیں اور اس کو مفید مطلب حکم سمجھ لیتے ہیں۔ مولوی صاحبان کی بات کو تو شاید ایک لطیفہ سمجھا جائے مگر اقبال کے ساتھ تو واقعی یہ سلوک کیا گیا ہے کہ یار لوگ ایک جملہ پڑھ کر ہی فرط جذبات میں دھمال ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔پورے خطبے میں انہیں صرف یہ جملہ پسند آیا ہے:

میری خواہش ہے کہ پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ ، سندھ اور بلوچستان کوملا کر ایک ریاست بنادیا جائے۔ مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ کم از کم ہندوستان کے شمال مغرب میں ایک مربوط ہندوستانی مسلم ریاست ، خواہ یہ ریاست سلطنت برطانیہ کے اندر حکومت خود اختیاری حاصل کرے، یا اس کے باہر،ہندوستان کے شمال مغربی مسلمانوں کا آخر کار مقدر ہے۔ (اردو ترجمہ از ڈاکٹر ندیم شفیق ملک۔ علامہ اقبال کا خطبہء الہٰ آباد 1930ئ۔ ص 111)

اس جملے سے دو اہم نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ اس میں اقبال نے ایک آزاد اور خود مختار مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا ہے جسے بعد میں پاکستان کا نام دیا گیا۔ دوسرا نتیجہ یہ نکالا گیا کہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں بنگال کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔ چنانچہ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد مغربی حصے کے دانشوروں نے دھڑا دھڑ اخباری مضامین لکھے تھے جن کا لب لباب یہ تھا کہ چونکہ اقبال نے بنگال کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا اور قرارداد لاہور میں بھی ریاستوں کا ذکر تھا اس لیے مشرقی پاکستان کو الگ کرکے اس تاریخی غلطی کو درست کر دیا گیا ہے۔

کیا اقبال کے اس خطبے سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ وہ ہندوستان کو تقسیم کرکے ایک آزاد اور خود مختار مملکت کے قیام کا مطالبہ کر رہے تھے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پیش تر یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مندرجات کا سرسری سا جائزہ لے لیا جائے اور اس پس منظر پر بھی غور کر لیا جائے جو اس خطبے کا محرک بنا۔

یہ خطبہ تعارفی کلمات کے بعد ان ذیلی عنوانات پر مشتمل ہے:

اسلام اور قومیت

ہندوستانی قوم کا اتحاد

ہندوستان کے اندر ایک مسلم ہندوستان

فیڈرل ریاستیں

سائمن رپورٹ اور فیڈریشن

فیڈرل اسکیم اور راؤنڈ ٹیبل کانفرنس

مسئلہ دفاع

 متبادل تجویز

 راؤنڈ ٹیبل کانفرنس

 [یہاں ضمناً اس بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ شریف الدین پیرزادہ کی مرتب کردہ کتاب Foundations of Pakistan اور ڈاکٹر ندیم شفیق ملک صاحب نے اولین اشاعت کا جو عکس دیا ہے، اس میں بعض ذیلی عنوانات میں فرق ہے۔ تاہم یہ کوئی قابل لحاظ فرق نہیں ہے۔]

اس خطبے کا پس منظر یہ ہے کہ اس زمانے میں کانگرس اس بات کی کوشش کر رہی تھی کہ ہندوستان کے لیے متفقہ دستوری سفارشات مرتب کی جائیں اور اس کے لیے پنڈت موتی لال نہرو کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو نہرو کمیٹی کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کمیٹی نے جو رپورٹ مرتب کی اسے نہرو رپورٹ کہا گیا۔ اس رپورٹ میں سوائے ایک بات کے مسلمانوں کے سبھی مطالبات کو رد کر دیا گیا۔ جو مطالبہ تسلیم کیا گیا وہ صوبوں کی از سر نو تشکیل کا تھا۔ لیکن جب 1930ءمیں لاہور میں کانگرس کا سیشن ہوا اور پنڈت جواہر لال نہرو کو صدر منتخب کیا گیا تو کانگرس نے خود ہی اس رپورٹ کو دریا برد کر دیا۔ اس کے جواب میں نومبر سنہ 1930ء میں اپر انڈیا مسلم کانفرنس ہوئی اور 19 دسمبر کو اس کانفرنس کی جانب سے اہل فکر مسلمانوں کے نام ایک اپیل شائع کی گئی۔ گول میز کانفرنس سے قبل مسلمان چاہتے تھے:

ا۔ ہندوستان کا نظام حکومت فیڈرل ہو۔

۲۔ بلوچستان، سرحد اور سندھ کے مسلم اکثریتی صوبوں کو مکمل اصلاحات ملیں۔

۳۔ وزارتوں اور ملازمتوں میں مسلمانوں کا حصہ بروئے دستور اساسی محفوظ کر دیا جائے۔

۴۔ شریعت حقہ، تمدن اسلام، تعلیم اسلام اور مسلمانوں کا انفرادی قانون غیر مسلم دسترس سے بروئے دستور اساسی محفوظ کر دیا جائے۔

۵۔ غیر مصرحہ اختیارات residuary)) صوبجات کے قبضہ میں رہیں اور

۶۔ مرکز کی مجالس آئین ساز اور وزارت میں ہمارا حصہ ایک تہائی ہو۔ [میں اس کا حوالہ کھو چکا ہوں۔ ]

اس میں یہ بات لائق توجہ ہے کہ ان میں جداگانہ انتخاب کا مطالبہ شامل نہیں ہے حالانکہ مسلمان کی ایک بڑی تعداد اس معاملے پر بہت زیادہ حساس تھی مگر کانگرس کسی صورت بھی اس مطالبے کو تسلیم کرنے پر تیار نہ تھی۔ پنڈت نہرو اپنی اقتصادی قومیت کے نشے میں فرقہ وارانہ مسئلے کا وجود ہی تسلیم کرنے سے انکاری تھے۔ پنڈت جی کے بارے سبھی لوگوں کی تقریباً ایک ہی رائے ہے کہ وہ آدرش وادی تھے اور زمینی حقائق سے کم ہی سروکار رکھتے تھے۔ اب اگر ایک مسئلہ موجود ہے تو آپ کے آنکھیں بند کر لینے سے وہ معدوم نہیں ہو جائے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان ایک متنوع سماج تھا جس میں نسلوں، زبانوں اور مذاہب کا بہت زیادہ اختلاف تھا چنانچہ ایسے سماج کا یک رنگ قومیت کو قبول کرنے کا کوئی امکان ہی نہ تھا۔

علامہ اقبال نے ہندو مسلم اتحاد کی راہ میں حائل رکاوٹ کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا تھا:

”یہ امر کس قدر افسوسناک ہے کہ اب تک ہم نے باہمی تعاون و اشتراک کی جس قدر کوششیں کی ہیں سب ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہماری ناکامی کا باعث کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شاید ہمیں ایک دوسرے کی نیتوں پر اعتماد نہیں اور باطناً ہم تغلب و اقتدار کے خواہش مند ہیں…. لیکن ہماری ناکامی کے اسباب کچھ بھی ہوں میرا دل اب بھی امید سے لبریز ہے۔ واقعات کا رجحان بہرکیف ہمارے داخلی اتحاد اور اندرونی آہنگی ہی کی جانب نظر آتا ہے اور جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے مجھے یہ اعلان کرنے میں مطلق تامل نہیں اگر فرقہ وارانہ امور کے ایک مستقل اور پائدار تصفیے کے اس بنیادی اصول کو تسلیم کر لیا جائے کہ مسلمانان ہندوستان کو اپنی روایات و تمدن کے ماتحت اس ملک میں آزادانہ نشو و نما کا حق حاصل ہے تو وہ اپنے وطن کی آزادی کے لیے بڑی سے بڑی قربانی بھی دریغ نہیں کریں گے“۔ (اردو ترجمہ سید نذیر نیازی۔ میں نیازی صاحب کے ترجمے کے نوٹس پہلے بنا چکا تھا اور ڈاکٹر ندیم شفیق ملک صاحب کا ترجمہ بعد میں میرے علم میں آیا۔ اس لیے حوالے ملے جلے ہی ہوں گے۔)

 اقبال کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ہندوستان میں پائیدار وحدت اسی صورت جنم لے سکتی ہے جب اختلاف اور تنوع کو تسلیم کیا جائے ”ہندوستان ایک براعظم ہے جس میں مختلف نسلوں، مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف مذاہب کے پیروکار آباد ہیں…. [اس لیے] ہندوستان میں یورپی جمہوریت کے اصول کا اطلاق مذہبی فرقوں کے وجود کو تسلیم کیے بغیر ممکن نہیںہے۔ لہٰذا مسلمانوں کا یہ مطالبہ کہ ہندوستان کے اندر ایک مسلم ہندوستان قائم کیا جائے، بالکل حق بجانب ہے “۔

چنانچہ ان کے مندرجہ بالا جملے میں ہندوستان کے اندر ایک مسلم اکثریتی صوبے کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ صوبے کے لیے ریاست کے لفظ کا استعمال کوئی انہونی بات نہیں۔ فیڈریشن کی اکائیوں کو بالعموم ریاست ہی کہا جاتا ہے۔ اس جملے کے فوراً بعد یہ جملہ آتا ہے :

”اس تجویز کو نہرو کمیٹی میں بھی پیش کیا گیا تھا لیکن اراکین مجلس نے اسے اس بنا پر رد کر دیا کہ اگر اس قسم کی کوئی ریاست قائم ہوئی تو اس کا رقبہ اس قدر وسیع ہو گا کہ اس کا انتظام کرنا مشکل ہو جائے گا۔ بے شک اگر رقبے کا لحاظ کیا جائے تو اراکین مجلس کا یہ خیال صحیح ہے۔ لیکن اگر آبادی پر نظر کی جائے تو اس ریاست کے باشندوں کی تعداد اس وقت کے بعض ہندوستانی صوبوں سے بھی کم ہو گی۔“

اب یہ بات ظاہر ہے کہ نہرو کمیٹی کے سامنے ہندوستان کو تقسیم کرنے کی تجویز پیش نہیں کی گئی تھی۔ اس صوبے کے قیام کا مقصد اقبال کے نزدیک یہ ہے کہ اس طرح اس دستوری ڈیڈ لاک سے نکلنے کا راستہ نکل آئے گا۔ چنانچہ کہتے ہیں: ”صوبوں کی مناسب تقسیم سے مخلوط اور جداگانہ انتخاب کا مسئلہ ہندوستان کے آئین کے بارے میں نزاع کو خود بخود ختم کر دے گا۔ اس نزاع کا باعث بڑی حد تک صوبوں کی موجودہ تقسیم ہے…. اگر صوبوں کی تقسیم اس طور پرہو جائے کہ ہر صوبے میں کم و بیش ایسے گروہ بستے ہوں جن میں لسانی، نسلی، تمدنی، اور مذہبی اتحاد پایا جاتا ہو تو مسلمانوں کو علاقہ وارانہ انتخاب پر کوئی اعتراض نہیںہو گا“۔

اس بات سے اقبالیات کے بڑے بڑے ماہرین کے اس دعوی کی تردید ہو جاتی ہے کہ اقبال زندگی کے کسی بھی مرحلے پر جداگانہ انتخاب سے دست برداری پر آمادہ نہیں ہوئے تھے۔ اقبال کی اس بات سے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں کہ جداگانہ انتخاب مذہبی نہیں سیاسی مسئلہ تھا۔

ہندوستان میں کانگرس اور مسلم لیگ میں اصل اختلاف اورنزاع حکومت کی دستوری ہیئت کا تھا۔ مسلم لیگ کا مطالبہ تھا کہ ہندوستان کا دستور وفاقی ہو جس میں وفاقی اکائیوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری حاصل ہو۔ کانگرس مضبوط مرکز کے ساتھ وحدانی طرز حکومت کے حق میں تھی۔ چنانچہ اقبال بھی مسلمانوں کے اسی نقطہ نظر کے حامی ہیں: ”میں خود مختارہندوستان میں وحدانی حکومت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جنہیں ’باقی ماندہ اختیارات‘ کہا جاتا ہے وہ خود مختار ریاستوں کو ملنے چاہییں۔ مرکزی وفاقی ریاست کے پاس صرف ایسے اختیارات ہونے چاہییں جو وفاق تشکیل کرنے والی ریاستیں اپنی رضامندی سے واضح طور پر اس کے سپرد کریں۔ میں ہندوستان کے مسلمانوں کو کبھی یہ مشورہ نہیںدوں گا کہ کسی ایسے نظام حکومت پر خواہ وہ برطانوی ہو یا ہندوستان میں وضع کیا گیا ہو، اظہار رضامندی کریں جو حقیقی وفاق کے اصول کی نفی کرے یا ان کے جداگانہ سیاسی وجود کو تسلیم نہ کرے۔“

اس لیے اس خطبے میں بہت قابل غور وہ سیکشن ہے جس میں ہندوستان کے دفاع کے مسئلے کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ اس مسئلے کو زیر بحث لانے کا سبب یہ ہے کہ اس زمانے میں پان اسلام ازم کی تحریک کا بھی چرچا تھا اور ہندوؤں کو خدشہ تھا کہ مسلمان افغانستان اور وسطی ایشیا سے اپنا تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں اور ہندوستان پر کہیں ایک بار پھر ادھر سے حملوں کا سلسلہ نہ شروع ہو جائے۔ اقبال نے خطبے میں مسٹر سری نواس شاستری کے حوالے سے بیان کیا ہے” کہ ’[ان] کا خیال ہے کہ مسلمانوں کا مطالبہ کہ شمال مغربی سرحد کے ساتھ خود مختار اسلامی ریاستیں قائم کی جائیں، ان کی اس خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئے تو تو حکومت ہند پر زور ڈالا جا سکے۔‘ میں یہ عرض کروں گا کہ مسلمانان ہندوستان کے دل میں اس قسم کا کوئی جذبہ موجود نہیں۔ ان کا مدعا صرف اس قدر ہے کہ وہ اپنی ترقی کی راہ میں آزادی کے ساتھ قدم بڑھائیں لیکن یہ اس مرکزی حکومت کے تحت ممکن نہ ہوگا جسے قوم پسند ہندو ارباب سیاست محض اس لیے قائم کرنا چاہتے ہیں کہ ان کو دوسری ملتوں پر ہمیشہ کے لیے غلبہ ہو جائے“۔

اس کے ساتھ ہی لالہ لاجپت رائے کے سی آر داس کے نام اس خط کو بھی سامنے رکھا جائے جو شاید 1925 ء میں لکھا گیا تھا اور1940 ء میں منظر عام پر آیا تھا جس کاقائد اعظم نے اس برس (1940) کے سالانہ اجلاس کے صدارتی خطاب میں حوالہ بھی دیا تھا۔ لالہ لاجپت رائے کے خط کا ایک جملہ قابل غور ہے جس میں وہ کہتے ہیں:

”میں سات کروڑ مسلمانوں سے نہیں ڈرتا بلکہ یہ سوچتا ہوں کہ ہندوستان کے سات کروڑ مسلمانوں کے ساتھ افغانستان، وسط ایشیا، عرب، عراق اور ترکی کے مسلح غول ایسے ہوں گے جن کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا“۔ یہ درست ہے کہ یہ خط اقبال کی وفات کے بعد منظر عام پر آیا مگر اس سے اتنا پتہ ضرور چل جاتا ہے کہ اس زمانے میں یہ ہندوؤں کا عام احساس تھا۔ اس لیے اس خطبے میں اقبال بار بار مسلمانوں کی حب الوطنی کا تذکرہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے اس جذبے پر شک نہ کیا جائے تاہم حب الوطنی کا یہ جذبہ برابری کے سلوک کے ساتھ مشروط ہے۔ اس لیے کہتے ہیں:

: ” مجھے یقین ہے کہ اگر فیڈرل ریاست قائم ہو گئی تو مسلم فیڈرل ریاستیں ہندوستان کے تحفظ کی خاطر ایک غیر جانب دار ہندوستانی فوج کے قیا م کے لیے جو خشکی اور سمندر دونوں پر متعین ہو، ہر قسم کی مدد دینے پر آمادہ ہوں گی۔ مغلوں کے زمانے میں اس قسم کے غیر جانب دار عساکر واقعتا موجود تھے بلکہ اکبر کے زمانے میں تو ان تمام سرحدی افواج کے افسر ہندو ہی تھے۔ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر فیڈرل نظام حکومت میں ایک غیر جانب دار ہندوستانی لشکر قائم ہوا تو اس سے مسلمانوں کے جذبات حب الوطنی اور زیادہ قوی ہو جائیں گے۔ اور اس بدگمانی کا بھی ازالہ ہو جائے گا کہ اگر باہر سے حملہ ہوا تو مسلمانان ہندوستان اپنے ہم مذہبوں کے ساتھ مل جائیں گے۔“

اس خطبے میں اقبال نے دو حل تجویز کیے ہیں۔ پہلا حل یہ ہے کہ” فرقہ وارانہ مسئلے کے مستقل تصفیے کے لیے برطانوی ہندوستان کی از سرنو تقسیم کی جائے“۔ اور اگریہ قبول نہیں تو پھر میں نہایت شدومد سے مسلمانوں کے ان مطالبات کی تائید کروں گا جس پر آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا مسلم کانفرنس نے بار بار زور دیا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان کبھی ایسی دستوری تبدیلی پر رضامند نہیں ہوں گے جس سے پنجاب اور بنگال میں ان کے اکثریتی حقوق پر اثر پڑے جو جداگانہ انتخاب کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے یا مرکزی اسمبلی میں ان کی 33 فی صد نمائندگی کی ضمانت نہ دی جائے…. اور ہندوستان کے مسلمان کسی ایسی تبدیلی پر رضامند نہیں ہوں گے جس کے تحت سندھ کو علیحدہ صوبہ نہ بنا یا جائے اور شمال مغربی سرحدی صوبہ کو سیاسی حیثیت سے کم تر درجہ دیا جائے۔ میرے خیال میں کوئی وجہ نہیں کہ سندھ کو بلوچستان سے ملا کر کیوں نہ ایک صوبہ بنا دیا جائے۔“

اب یہاں ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ اقبال بنگال کا بھی ذکر کر رہے ہیں۔ اس وقت بنگال اور پنجاب کے مسلمانوں کی تمائندگی کی شرح کم کر کے اقلیتی صوبوں کی نمائندگی میں اضافہ کیا گیا تھا۔ اس کی تفصیل ڈاکٹر ندیم شفیق ملک صاحب کی کتاب میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یعنی بنگال اور پنجاب میں مسلمانوں کو ان کی آبادی کے حساب سے نمائندگی دی جائے جس کے نتیجے میں وہ واضح مسلم اکثریت والے صوبے بن جائیں گے اورحکومت سازی میں غیر مسلموں کے محتاج نہیں رہیں گے۔

اس تمام گفتگو کا خلاصہ یہی ہے کہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں نہ تقسیم ہند کا کوئی تصور دیا اور نہ کسی آزاد خود مختار مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا۔ اس پر قول فیصل خود علامہ اقبال کا خطبہ الہ آباد کے دس ماہ بعد 10 اکتوبر 1931ءکو لنڈن ٹائمز کے ایڈیٹر کے نام خط ہے جس میں ٹامسن کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: کیا میں ڈاکٹر ٹامسن سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے برطانوی سلطنت سے باہر ایک مسلم مملکت کا مطالبہ پیش نہیں کیا ہے بلکہ دھندلے مستقبل میں ان زبردست قوتوں کی امکانی کارفرمائی کے متعلق یہ ایک تخمینہ ہے، جو برصغیر ہند کے مقدر کی اس وقت صورت گری کر رہی ہیں۔ کوئی ہندوستانی مسلمان جو عقل کا ادنیٰ سا شائبہ رکھتا ہے، عملی سیاست کے ایک منصوبہ سازکی حیثیت سے برطانوی دولت عامہ سے باہر شمال مغربی ہند میں ایک مسلم مملکت یا مملکتوں کے سلسلہ کو قائم کرنے کا خیال نہیں کر رہا ہے…. میں ہندوستان کی ایسے صوبہ جات میں ازسرنو تقسیم کا قائل ہوں، جس میں کسی ایک فرقہ کی اکثریت ہو، جس کی وکالت نہرو رپورٹ اور سائمن رپورٹ نے بھی کی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مسلم صوبوں کے متعلق میری تجویز اسی تخیل کو آگے بڑھاتی ہے، ہندوستان کی شمال مغربی سرحد پر مطمئن اور منظم صوبوں کا ایک سلسلہ، سطح مرتفع ایشیا کی بھوکی نسلوں کے خلاف ہندوستان کے لیے، اوربرطانوی سلطنت کے لیے ایک فصیل ثابت ہو گا۔ (زندہ رود، جلد سوم، ص 415)

 اگلی قسط میں اقبال کے جناح کے نام خطوط کا جائزہ لیا جائے گا اور اس سوال سے بحث کی جائے گی کہ مسلم لیگ کے لیڈروں کو کب یہ پتہ چلا کہ علامہ اقبال نے پاکستان کا تصور پیش کیا تھا۔ اس کے بعد اس مسئلے سے تعرض کیا جائے گا کہ کیا اقبال ”بے وطن قومیت “ کے قائل تھے۔

 یہاں یار عزیز باصر سلطان کاظمی کا ایک شعر درج کرنے کو جی چاہتا ہے:

آیتیں تو ٹھیک ہی پڑھنی تھیں واعظ نے مگر

مدعا اپنا بھی شامل کر دیا تفسیر میں

خیر غنیمت ہے کہ واعظ آیتیں تو ٹھیک پڑھتا ہے یہاں تو متن کی درست خواندگی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

(جاری ہے) 


Comments

FB Login Required - comments