افسانہ کے لئے تعلیم اب خواب نہیں


چند روز پہلے ایک 15 سالہ بچی افسانہ کے بارے میں کچھ معلومات نظر سے گزریں جو بہت حوصلہ افزا تھیں تو میں اپنے آپ کو اس موضوع پہ لکھنے سے روک نہیں پائی۔ ایک اچھے اقدام کی جس قدر حوصلہ افزائی کی جائے کم ہے اور اس طرح کے آئیڈیاز باقی ملک میں بھی رائج کیے جائیں تو تعلیم کے میدان میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ ڈسٹرکٹ کوہاٹ کے ایک گاؤں جبی کے ایک لڑکیوں کے سکول کے ایک چھوٹے سے کلاس روم میں ششم (چھٹی) جماعت کی 22 لڑکیوں کا ایک گروپ اپنی انگلش کی ٹیکسٹ بک سے پڑھائی کر رہا ہے۔ ان کی اپنی استانی کے پیچھے سبق دہرانے کی آوازیں راہداری میں گونج رہی ہیں۔ 15 سالہ افسانہ ان 22 لڑکیوں میں سے ایک ہے جو پرائمری کے بعد بھی تعلیم جاری رکھنے کے قابل ہو رہی ہیں۔

یونین کونسل نصرت خیل کے گاؤں جبی میں تعلیم افسانہ کی زندگی خیبر پختون خواہ حکومت اور ISAPS کی طرف سے سٹرائیڈ (STRIDE منصوبہ) کے اقدام کے نفاذ سے بہتر ہو رہی ہے۔
نصرت خیل ان یونین کونسلوں میں سے ایک ہے جہاں سٹرائیڈ اس مقصد کے حصول کے لیے کوشش کر رہی ہے کہ سہ پہر کے سکولوں کے قیام کے ذریعے پہلے سے موجود اور نئے طلباء کو مڈل اور سیکنڈری تعلیم کے حصول کے لیے سکول آنے جانے کی سہولت مہیا کی جائے۔ تاکہ بچوں کے سکول تک رسائی میں حائل لمبے فاصلے جیسی رکاوٹ کو دور کیا جا سکے۔

سٹرائیڈ سے پہلے لڑکیاں اپنے نزدیکی سرکاری سکول سے پرائمری تک تعلیم حاصل کرتی تھیں اور پھر گھر بیٹھ جاتی تھیں یا غیر روایتی اداروں میں تعلیم جاری رکھتی تھیں اور بس یہی تھا۔ علاقے میں کوئی مڈل سکول نہیں تھا جہاں وہ پرائمری کے بعد تعلیم جاری رکھ پاتیں۔ تقریباً تمام بچے خصوصاً لڑکیاں پانچویں کے بعد سکول کی روایتی تعلیم چھوڑ دیتے تھے کیونکہ فاصلے رکاوٹ بن جاتے تھے۔ یہاں جبی میں بہت سے ایسے عوامل ہیں جو لڑکیوں کو تعلیم جاری نا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

والدین پرائمری کے بعد اپنی بیٹیوں کی تعلیم کا تسلسل جاری رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ ان کے نزدیک ترین مڈل یا ہائی سکول کوہاٹ شہر میں واقع ہیں۔ جو ان کے گاؤں سے 20 کلومیٹر سے زیادہ کی مسافت پر ہیں۔

گاؤں میں مقامی لوگوں کی اکثریت کا تعلق کاشتکاری سے ہے۔ کچھ کا ذریعہ معاش محنت مزدوری بھی ہے۔ افسانہ کے والد کسان ہیں۔ جو صرف اتنا ہی کماتے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے خاندان کا پیٹ پال سکیں۔ والدین کے معاشی حالات انہیں اجازت نہیں دیتے کہ وہ بچیوں کو شہر کے سیکنڈری سکول میں بھیجنے کے لئے ذرائع آمدورفت کو برداشت کر سکیں (معاشی طور پر)۔ خیبر پختون خواہ میں کئی والدین اپنی بچیوں کو دور دراز سکولوں میں نا بھیجنے پر مجبور ہیں کیونکہ معاشرتی طور پر حصول تعلیم کی غرض سے لڑکیوں کو دور دراز علاقوں میں بھیجنا انتہائی نا مناسب سمجھا جاتا ہے۔ کچھ والدین جو علاقائی تمدن کے خلاف جا کر اپنی بچیوں کو بھیجتے ہیں وہ اپنی بیٹیوں کے تحفظ کے لئے حقیقتاً خوف کا شکار ہیں اور نتیجتاً وہ اپنے بچوں کی تعلیم منقطع کر دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے یا اس سے ملتی جلتی وجوہات کی بنا پر خیبر پختون خواہ گورنمنٹ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ڈسٹرکٹ کوہاٹ میں 33 ہزار سے زیادہ بچیاں ابھی بھی سکولوں سے باہر ہیں۔

افسانہ نے اپنے چہرے پہ گھبراہٹ زدہ مسکراہٹ کے ساتھ بتایا کہ ”میرا خواب ہے کہ میں اپنی استانی کی طرح بنوں اور اپنے گاؤں کی بچیوں کو تعلیم دوں۔ مجھے امید ہے کہ تعلیم سے لڑکیاں آنے والی نسلوں کو باشعور اور با اعتماد بنا پائیں گی۔ میں حقیقتاً چاہتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ یہ مڈل سکول ترقی کر کے جلد ہی ہائی سکول بن جائے تاکہ میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکوں دوبارہ کسی رکاوٹ کے بغیر“

افسانہ بھی ان 33000 پسماندہ لڑکیوں میں شامل تھی جنہوں نے تعلیم کو خیر باد کہا لیکن اب مزید ایسے نہیں ہے۔ افسانہ اب اپنی تعلیم جاری رکھ سکتی ہے کیونکہ E&SED اور ISAPS کی مداخلت یا کوششوں سے پرائمری سکول کو مڈل سکول کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

افسانہ کی استانی اس کے بارے میں یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ وہ اپنی باقی سہیلیوں کی طرح جنہوں نے پرائمری کے بعد سکول کو خیر باد کہہ دیا تھا پریشان رہتی تھی اور اکثر بے بسی محسوس کرتی تھی تب جب وہاں مزید تعلیم کے حصول انتظامات موجود نہیں تھے۔ لیکن سٹرائیڈ منصوبہ کے تحت ان کے علاقے میں سہ پہر کے مڈل سکول کے باضابطہ آغاز کے بعد 22 لڑکیوں نے داخلہ لیا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید کے آنے کی امید ہے۔ افسانہ کی استانی نے بتایا کہ ”یہ لڑکیاں پچھلے 3 سے 4 سال سے گھر پر بیٹھی تھیں اور اب میں ان کو واپس کلاس روم میں لانے پر بے حد مسرور ہوں“

سٹرائیڈ منصوبہ کے تحت پرائمری سکول کو سہ پہر کے اوقات میں مڈل سکول کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ وہ والدین جو پہلے ہزارہا معاشرتی اور معاشی چیلنجز کا شکار تھے اب اپنی بیٹیوں کو مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے گھر کے نزدیک سکول میں بھیج سکتے ہیں۔ گھر کے قریب مڈل سکول کی موجودگی پا کر وہ بہت خوش ہیں۔ افسانہ نے بتایا ”میرے والدین میری حفاظت کے پیش نظر میرے سکول آنے جانے کے حوالے سے اب بالکل بھی پریشان نہیں ہیں۔ میں سکول کے لیے دوپہر کو نکلتی ہوں اور مغرب سے پہلے گھر واپس گھر پہنچ جاتی ہوں۔ “ افسانہ نے مزید پر اعتماد لہجے میں کہا کہ ”میرے والد بھی اب بہت خوش ہیں کیونکہ میرے سکول جانے سے ان کی جیب پر اضافی بوجھ نہیں پڑتا، سکول بھی گھر کے نزدیک ہے اس لیے میں اپنی باقی ساتھیوں کے ساتھ باآسانی پیدل چلی جاتی ہوں“۔
افسانہ کی کہانی نے مجھے بہت متاثر کیا اور اس طرح کے موضوعات پر مزید لکھنے پہ بھی اکسایا۔ تعلیم کے لئے آگہی پھیلانے کے لیے ہم سب مل کر اپنا اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں