مذہبی انتہا پسندی پاکستانی معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔


پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کے بعد معاشرے میں تیزی سے پنپتی انتہاپسندی، مبینہ توہین مذہب کے نام پر قانون کو ہاتھ میں لینے کے واقعات، تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے اور ریاستی اداروں کے کردار پر ملک میں ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔

مذہبی انتہا پسندی کو یہاں تک کون لے کر آیا اور آخر ریاست اور سیاسی جماعتوں کی کیا مجبوریاں ہیں جو مذہب کے نام پر تشدد کے واقعات پر کھل کی بات نہیں کرتیں بلکہ اس کے سامنے دفاعی انداز اپناتی ہیں۔

سیکیورٹی اور سیاسی امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار زاہد حسین نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “مذہبی انتہا پسندی پاکستانی معاشرے میں سرایت کر گئی ہے اور اس کی بنیادی وجہ ریاست کی انتہاپسندوں سے مصالحت پسندانہ پالیسی ہے۔”

مذہبی و سیاسی عدم برداشت معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ الیکشن سے پہلے سیالکوٹ میں اس وقت کے وزیر خارجہ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی گئی ،لاہور میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو جوتا مارا گیا اور اب بات گولی تک پہنچ چکی ہے۔

صوبہ پنجاب کے حکام کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ کرنے والے نوجوان نے اپنا تعلق مذہبی تنظیم تحریک لبیک سے ظاہر کیا ہے تاہم اس جماعت نے ایک بیان میں حملہ آور سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

سیکیورٹی امور کے ماہر محمد عامر رانا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے انتہاپسندی کے بیانیے کو چیلنج کرنے کے لیے کوئی متبادل بیانیہ نہیں دیا اور “تحریک لبیک سے نمٹنے کے لیے سافٹ (نرم) پالیسی اپنائی گئی۔”

عامر رانا کے مطابق خطرے کی بات یہ ہے کہ “ملک میں انتہا پسندی کا جو بیانیہ بن گیا ہے ایسے ماحول میں پرتشدد کارروائیوں کے لیے انسانی وسائل تو ملتے رہیں گے” حالیہ حملے میں ملوث تقریبا 23 سالہ نوجوان عابد حسین کے بارے میں بات کرتے ہوئے عامر رانا نے کہا کہ “انتہا پسند جماعتیں نوجوانوں کو اپیل کرتی ہیں کیونکہ ان کو ورغلانا آسان ہوتا ہے”۔

سیاسی تجزیہ کار زاہد حسین نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “ممتاز قادری نے کسی مولوی کی تقریر سے متاثر ہو کر گورنر پنجاب کو مارا تھا، اسی طرح خادم رضوی کی تقاریر کا بھی اثر ہے۔”

حالیہ واقعات کی کڑی گزشتہ برس اکتوبر میں الیکشن ایکٹ میں ختم نبوت کی شقوں میں ترامیم سے ملتی ہےجو حکومت کے مطابق ایک کلیریکل غلطی تھی۔اپوزیشن کی نشاندہی پر اسے درست کر دیا گیا لیکن اس کے باوجود مذہبی جماعتیں سڑکوں پر نکل پڑیں۔

اس معاملے پر مذہبی جماعت کہلوانے والی تحریک لبیبک وفاقی دارالحکومت کے مرکزی داخلی راستے فیض آباد پردھرنا دے کر بیٹھ گئی۔ ماضی کی حکومتوں کی طرح اس حکومت کے دفاعی انداز، سیکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کے معذرت خواہانہ رویے اور حزب اختلاف کی خاموشی نے معاملات کو خراب کر دیا ۔یوں تین ہفتے جاری رہنے والا دھرنا پرتشدد واقعات، وفاقی وزیرقانون زاہد حامد کے استعفے اور تحریک لبیک کے دیگر مطالبات کی منظوری کے بعد ہی ختم ہو سکا۔

زاہد حسین کہتے ہیں کہ “سیاسی جماعتیں وقتی سیاسی مقاصد کی خاطر مصلحت پسندی سے کام لیتی ہیں۔” اس معاملے میں فوج کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے جب ایک مبینہ ویڈیو سامنے آئی جس میں پنجاب رینجرز کے جنرل کو تحریک لبیک کے کارکنوں میں ہزار ہزار روپے کے نوٹ تقسیم کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے احسن اقبال پر حملے کے متعلق ایک حالیہ بیان میں فوج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ “اگر مظاہرین میں ہزار ہزار روپے تقسیم نہ کیے جاتے تو شاید آج یہ دن نہ دیکھنے کو ملتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رواں سال اپریل کے آغاز میں تحریکِ لبیک ایک بار بھر سڑکوں پر آئی جب اس کی قیادت کے خلاف مقدمات کھولنے کا عندیہ دیا گیا۔ اس بار دھرنے کا میدان لاہور تھا۔ محض چند دن میں تحریک اپنے مطالبات پھر منوانے میں کامیاب ہو گئی اور پنجاب میں پی ایم ایل این کی صوبائی حکومت نے اس کے آگے گھٹنے ٹیک دیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں