خدارا!  ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو


zeeshan hashimہمارے عہد کے دانشور کی سب سے بڑی نااہلی یہ ہے کہ وہ عہد کے اہم ترین سوالات کو یوں نظرانداز کر گیا ہے کہ ہم باوجود اس کے کہ مذہبی دہشت گردی کی ایک بدترین تجربہ گاہ بنے رہے ہیں اس سے کوئی ایسا علمی و فکری نتیجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی بدولت ہم اپنے مستقبل کو ایسے کسی دوسرے مہم جو ارادے سے محفوظ رکھ سکیں۔ طالبان کی پیدائش، افزائش، افغانستان اور بھارت میں اس کے بطور سٹریٹجک اثاثہ استعمال، اس سے ملک میں پیدا ہونے والی دہشت گردی، اچھے اور برے طالبان کے افسانے، ہزاروں شہریوں کی شہادتیں، قومی املاک کا کھربوں میں نقصان، پوری دنیا میں ہمارا بطور دہشت گردی کے سرپرست کا تشخص، دفاعی و سلامتی کی پالیسی میں ہنوز مکمل تبدیلی سے گریز، ادارہ جاتی دھونس و اجارہ داری اور سیاست میں تخریب کار مداخلت کا محاسبہ کرنے سے ہم ابھی تک قاصر ہیں۔ اس ملک کے عوام نے طالبان سے جو ستم اٹھائے وہ بھلائے جانے کے قابل کب تھے؟ مگر طالبان اور ان کی دہشت گردی ہمارے مسائل میں سرفہرست کبھی نہیں رہی۔ اگر ہمارا دانشور ابھی تک اس سے سبق سیکھنے اور ایک امن پسند و جمہوریت پسند بیانیہ قائم کرنے سے قاصر ہے تو کہنے دیجئے ہمارے دماغوں پر الفاظ کی جگالی کرنے والوں دیمک زدہ ذہنوں کا قبضہ ہے۔

ہمیں سبق سیکھنے کا ایک موقع اس سے پہلے بھی ملا تھا جب یہ ملک دو لخت ہوا تھا۔ یہی وہ سرکاری دانشور تھا جس نے اس کا سارا الزام بھٹو پر ڈال کر ہیئت مقتدرہ کی کاسہ لیسی کی تھی۔ ان آستین کے سانپوں سے کوئی نہ پوچھ سکا کہ ظالمو اقتدار و اختیار کی منتقلی نیویارک میں بیٹھے بھٹو کی ذمہ داری تھی یا تمہارے خاکی وردی پہننے والوں کی جن کا پورے ملک پر قبضہ تھا؟

طالبان کا بھیانک دور دوسرا موقع تھا جب ہمارے دانشور کو حریت فکر کی قیمت چکانی چاہئے تھی مگر ہم درندوں کے پنجوں سے نکلتے خون ہی کے رومانس میں کھوئے رہے۔ طالبان کون ہیں، کیوں ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ کس نے جنم دیا؟ ان کی آلائشیں ہمارے سماج میں کس کس شکل میں موجود ہیں؟ انہیں کون تحفظ دے رہا ہے؟ مستقبل کے لئے ایسا کیا کیا جائے کہ کوئی اپنا سیاسی ایجنڈا نافذ کرنے کے لئے بندوق نہ اٹھائے؟ وہ کیا اسباب ہیں جنہوں نے طالبان جیسے عفریت کو جنم دیا۔؟ کون ان کا دودھ شریک بھائی ہے تو کس نے انہیں انسانی لہو پینا سکھایا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہمارے دانشورانہ مکالمہ کا بنیادی موضوع ہوتے اور یہ وہ بنیادی مسئلہ ہے جس کی بنیاد پر قومی سلامتی کے پالیسی سازوں کا قوم احتساب کرتی۔ مگر وہ میڈیا جو طالبان کے ڈر سے ان کی رپورٹنگ نہیں کرتا تھا وہ میڈیا اب بھی ان سوالات کو اپنے ٹاک شوز سے باہر رکھے ہوئے ہے۔ ہمارے نئے یا پرانے قومی بیانیہ کی ضرورت پر زور دینے والے دانشور بھی اسی ہزار سے زائد معصوم شہریوں کے قتل کو یوں فراموش کئے بیٹھے ہیں کہ ان کے نزدیک یہ سب محض کھیل تماشا تھا، اصل کام تو مفروضہ نظریے کا لولی پاپ چوسنا ہے۔

کیا ہم نہیں جانتے کہ سیاسی سماجی اور معاشی طور پر ہم پر ان ریاستی اداروں نے بالادستی جما رکھی ہے جنہوں نے چند جاگیرداروں، سیٹھوں، ملاوں، موقع پرست سیاستدانوں اور سرکاری نمک حلال دانشور مؤرخین کو اپنے ساتھ یوں ملا رکھا ہے کہ آپ نظریاتی طور پر کوئی بھی بیانیہ منوا لو، نفاذ صرف اس بیانیہ کا ہو گا جسے ہیئت مقتدرہ چاہے گی۔

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں مغرب کا کٹر آزادی پسند دانشور بھی بادشاہ اور امراء کی پارلیمان کے درمیان سیاسی محاذ آرائیوں میں پارلیمان کے ساتھ ہوتا تھا کیونکہ اسے پتا تھا کہ جمہوریت سے پارلیمان کے مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں، یہ وہ راستہ ہے جہاں سے بہترین مستقبل کے امکانات کے در کھلیں گے جبکہ بادشاہ ہمیشہ رجعت پسندی کا سرپرست رہے گا، اس کی سیاسی و نظریاتی مدد دراصل دورغلامی میں واپسی کا راستہ ہے۔ وہ اپنی بصیرت میں کامیاب ہوئے اور ہم ہنوز دور اندیشی کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر سترھویں اٹھارویں اور انیسویں صدی میں بھی برطانیه کے پاس ہمارے جیسے دانشور ہوتے تو یقین کریں برطانیه کبھی جمہوریت کی ماں نہ بن سکتا۔ آج جو ہمیں برطانوی پارلیمان کی ویڈیوز دکھاتے ہیں انہیں یاد نہیں کہ برطانیه میں جمہوریت کی تاریخ پانچ سے زائد صدیوں پر محیط ہے اور ہم ابھی تک نوآبادیاتی دور کے بداثرات سے بھی نہیں نکل پائے۔ قیام پاکستان سے پہلے ہماری کوئی جمہوری تاریخ نہیں اور ہم ہیں کہ ایتھنز، رومن لاء، اور آزاد شہری ریاستوں کی وراثت سے اپنا موازنہ کر تے ہیں۔

اور اب کرپشن کی من پسند تعریف کی مدد سے کسی نئے احتساب کی نوید سنائی جا رہی ہے یہ بتائے بغیر کہ حضور 1949 کے پیروڈا قانون سے لے کر نیب کے قیام تک تقریبا آٹھ بار اس ملک میں احتساب کے نام پر جو قانون بنائے گئے یا کارروائیاں کی گئیں ان کا اب تک کیا نتیجہ برآمد ہوا ہے سوائے اس کے کہ آپ کی ریاست پر اجارہ داری اور مضبوط ہوئی ہے؟ احتساب ہونا چاہئے اور ضرور ہونا چاہئے۔ ٹیکس بذات خود ایک ظلم ہے، میں دن رات محنت کروں اور جب سو روپے کما لوں تو ریاست کہے مجھے اس میں سے 37 روپے صرف اس لئے دے دو کہ اس طرح تم پاکستانی کہلوانے کا حق حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ صورتحال اس وقت ہوتی ہے جب آپ ان پیسوں کو ضائع ہوتے دیکھو۔ جو شہریوں کی تعمیر و ترقی پر خرچ ہونے کے بجائے گولہ بارود اور جنگ و جدل میں خرچ ہو جائیں یا سیاستدان اپنے ووٹ بنک کو مضبوط بنانے کے لیے اسے پانی کی طرح بہائیں۔

ہماری آرزو ہے کہ احتساب اول عوام کریں اپنے ووٹوں سے، جمہوریت سے، اپنے حق انتخاب سے، اپنے اقتدار اعلیٰ سے کہ ایک جمہوریت میں اقتدار و اختیار کے تمام سوتے صرف عوام سے پھوٹتے ہیں، عوام کے سوا باقی سب دعوے دار آمریت کے نظریاتی محافظ ہیں۔ کیا یہ عوام کے حق انتخاب پر شب خون نہیں کہ جسے عوام منتخب کریں اسے آپ محبوس کریں، پھانسی پر چڑھا دیں یا جلاوطن کریں اور پھر آپ ملک پر ایسے قبضہ کر لیں کہ جنہیں آپ کرپٹ سمجھتے تھے ان کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں۔ سچائی کی قسم، عوام کے حق انتخاب پر ڈاکہ ایک مہذب سماج میں سب سے بڑا دھوکہ اور رذیل ترین کرپشن ہے۔

ہماری آرزو ہے کہ احتساب سسٹم کرے۔ اور یہ سسٹم اس وقت تک اس کے قابل نہیں ہوتا جب تک یہاں ادارے مضبوط نہیں ہوتے، اور اداروں کی مضبوطی کسی ایک شب کا خواب نہیں کہ صبح اٹھے تو دیکھا ادارے سیمنٹ و سریوں کی طرح مضبوط ہیں۔ ادارے اپنی مضبوط روایات، اقدار، اور کلچر سے مضبوط ہوتے ہیں جنہیں پنپنے میں وقت لگتا ہے۔ ہندوستان کا مسلم عہد زرعی عہد کے مخصوص اداروں کا حامل تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی راج نے گو جدید ادارے قائم کئے مگر ان کی بنیادی فطرت استعمار دوستی تھی، ہندوستانی باشندوں کا استحصال تھا۔ ان اداروں میں وہ ادارہ بھی شامل تھا جو اوپر سے لے کر نیچے تک استعمار کا عسکری محافظ تھا۔ اور جب عوامی تحریک کی آئین دوست جدوجہد کے نتیجے میں یہ ملک وجود میں آیا تو سلطنت برطانیہ کے اہل کار مملکت پاکستان کے نظریاتی محافظ بن بیٹھے۔

کرپشن کا احتساب ہو اور ضرور ہو مگر ہم حیران ہیں کہ احتساب کا عزم کون بیان کرنا ہے جس نے عشروں تک ساٹھ فیصد سے زائد بجٹ اپنے مہم جو عزائم پر خرچ کیا اور لاکھوں لوگوں کو اپنی کوتاہ اندیش پالیسیوں کی بھینٹ چڑھایا۔ افغان و پاکستانی طالبان، کشمیری مجاہدین، سٹریٹجک اثاثوں اور امن دشمن عسکریت پسند گروہوں کے سرپرست احتساب کے نام پر جمہوری اداروں کی دیوار پھلانگنا چاہتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ قوم سے پہلے اس دھوکہ دہی کی معافی مانگی جاتی جس کی بدولت ہیئت مقتدرہ نے اس قوم کا مالی، اخلاقی، سیاسی اور سماجی استحصال کیا ہے، اس ملک کے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔

جس ملک میں تعلیم و صحت پر جی ڈی پی کا محض دو فیصد خرچ ہو اور دفاع پر ساڑھے تین فیصد سے زائد، مگر نتیجہ یہ کہ انسانی ترقی کے اعتبار سے کمزور ترین ملک کی سپاہ سیاسی اداروں کو کرپشن سے پاک کرنا چاہتی ہو، ایسا حیران کن نمونہ بھی دنیا میں کسی اور نے دیکھا یا ہم دیکھ رہے ہیں؟ ہم دنیا میں خطرناک ممالک کی صف میں سرفہرست ہیں آخر کیوں؟ اس وسیع بجٹ کا آخر مصرف کیا ہے؟۔ایک ایسا ادارہ جو اپنے بجٹ کا آزاد آڈٹ نہیں کرواتا، اس کی ایجنسیاں اپنے اخراجات میں کسی کو جوابدہ نہیں، وہ ادارہ پوری قوم کے نمائندہ اداروں کے احتساب کے لئے بے چین ہے۔

آپریشن ضرب عضب کا آغاز پندرہ جون دو ہزار چودہ کو ہوا اس وقت سے لٹے پٹے آئی ڈی پیز بے گھر ہیں،ان کو ان کے گھر بسانا کن کی ذمہ داری ہے؟ ہمارا میڈیا جس کے اینکر حضرات ایان علی کے پیٹ میں بچے کی عمر کا تعین کرنے کا دعوی کرتے ہیں، جو جانتے ہیں کہ قیامت کب آنی ہے، جنہیں لبرلز میں فاشزم نظر آتا ہے،جو قندیل بلوچ کے فیس بک پر مشہور ہونے سے پریشان ہیں، جنہیں معلوم ہے کہ کونسا مہینہ فلاں صوفی کے نزدیک ملک کے لئے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے، ان سب کو اگر کچھ نظر نہیں آتا تو وہ مظلوم و بے سہارا آئی ڈی پیز ہیں۔

جبرل مشرف بیماری کے بہانے پاکستان سے نکل لئے، ہم سب جانتے ہیں کہ ایسا کیونکر ممکن ہو پایا ہے۔ کیا وہ کرپشن کی کسی تعریف کی رو سے کرپٹ نہیں تھا؟ کیا ملک کے آئین کو جوتوں تلے روندنا اور اپنی آئینی حدود سے انحراف کرنا کرپشن نہیں؟ ملک میں عوامی حکومتیں توڑنا، پھر بنانا اور پھر سے انہیں توڑنا کیا کرپشن نہیں؟

اس ملک کو نہ کسی نظریاتی محافظ کی ضرورت ہے اور نہ ہی کرپشن کے نام نہاد احتساب کے لئے کسی خدائی فوجدار کی حاجت ہے۔ ہمیں عوام کی حکمرانی کی ضرورت ہے۔ ادارے جب تک مضبوط نہیں ہوں گے قانون کی حکمرانی کا خواب محض سراب ہے، اور جب تمام ادارے مضبوط ہو گئے تو کسی ایک چوکیدار ادارے کے لئے اپنی اجارہ داری قائم رکھنا آسان نہ ہو گا اس سے ہیئت مقتدرہ بھی واقف ہے اور اس کے مددگار بھی۔ یہی سبب ہے کہ یہاں ایک آزاد عمل سے نہ سیاست کو پنپنے دیا گیا ہے نہ معیشت کو اور نہ ثقافت کو، بلکہ اپنی اجارہ داری سے اپنے من پسند پودے اگائے گئے ہیں، ان کی آبیاری کی جاتی ہے، اس کی چھاؤں کو خدا کی رحمت قرار دیا جاتا ہے، اور جب ان میں سے ہی کوئی شجر عوام کی جانب جھکتا ہے تو اسے کاٹ کر ایک نیا پودا اگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہاں کے آمریت پسند عوام سے خوفزدہ ہیں، انہیں آزادی مساوات اور انصاف نام کے تصورات سے عداوت ہے۔ خدارا اس ملک کی عوام کو آزاد کر دو۔ سیاست معیشت اور ثقافت میں اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ ہمیں کسی نظریاتی محافظ کی ضرورت ہے اور نہ کسی خدائی فوجدار گروہ کی، ہمیں آزاد کر دو۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

5 thoughts on “خدارا!  ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو

  • 21-04-2016 at 11:20 am
    Permalink

    بہت خوب. ادارے مضبوط تبهی ہوں گے جب پارلیمان مضبوط ہوگی. فوج فیصلے کرتی رہی تو اس کا فیصلہ وہی ہوگا کہ کوئی ادارہ مضبوط نہ ہو تا کہ وہی وارث بنے رہیں.

  • 21-04-2016 at 12:00 pm
    Permalink

    محترم جناب ذیشان صاحب نے بہت اچھوتے انداز سے معاشرے میں پھیلے ہوئے دکھ، درد اور خرابیوں کو بیان کیا ہے، لیکن ساتھ ساتھ ایسا لگا کہ ان کا غصہ صرف ایک ادارے کے گرد گھومتارہا،گھما پھرا کر وہ اسی طرف اشارے فرماتے رہے،’’ جمہوری ادارے‘‘ مضبوط نہیں ہونے دئیے جا رہے’’خدا ئی فوجدار‘‘ وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ کچھ ان جمہوریت کے نام نہاد چیمپئینز سرمایہ داروں، جھوٹے اور کرپٹ سیاستدانوں کے بارے میں بھی چند لائنیں شامل کر لیتے تو ، مزید سمجھ میں آ جاتا کہ اس پورے نظام کی خرابی میں کوئی ایک فریق ذمہ دار نہیں ہے،اگر ایک ادارے کو ایک’’ خدائی فوجدار ادارہ‘‘ بنایا گیا تو اس میں بے شعور عوام، کرپٹ سیاستدان، کرپٹ بیورو کریسی، صحافی، دانشور، میڈیا سب شامل ہیں۔تقریری انداز کے ساتھ ساتھ کوئی عملی تجویز بھی سامنے آ جاتی کہ ان خدائی فوجداروں سے، عوام کو آزادی دلانے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟
    درا صل ہمارے ہاں اب فیشن بن گیا ہے کہ زیادہ جمہوریت پسند دانشور ہونے کی علامت یہ ہے کہ آپ اپنی صحافتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نصف صدی کی تمام بربادیوں ، خرابیوں کی ذمہ داری فوج پہ ڈال دیں، حالانکہ اس تمام خرابی کی ذمہ داری مجموعی طور پہ سرمایہ دار، جاگیردار اور بیورو کریسی کے ترتیب دئیے ہوئے اس کرپٹ اور استحصالی نظام کی وجہ سے ہے، جزوی طور پہ کسی ایک ادارے کو لعن طعن کرنے کی روش عام ہے۔آپ نے صحیح لکھا کہ’’ہمارا دانشور ابھی اس سے سبق سیکھنے اور امن پسند وجمہوریت پسند بیانیہ قائم کرنے سے قاصر ہے‘‘ میری ناقص رائے میں نظام کی خرابی کاحقیقی شعور اور اس کے عملی حل کے لئے حکمت عملی کی طرف درست رہنمائی’’ امن پسند وجمہوریت پسند بیانیہ قائم کرنے کا باعث بن سکتا ہے‘‘ ورنہ یہ زہنی عیاشی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

    • 21-04-2016 at 3:15 pm
      Permalink

      Dear Muhammad Javed, the groups you are blaming for our plight were always junior partner of the institution you are trying to defend. Why do you want to not mentioning of the senior and Managing Partner.

  • 21-04-2016 at 5:53 pm
    Permalink

    عمدہ

  • 21-04-2016 at 11:47 pm
    Permalink

    great sir g ………………………..

Comments are closed.