کیا آپ دن رات کڑھتے رہتے ہیں ؟


کیا آپ چھوٹی چھوٹی باتوں سے ناراض ہو جاتے ہیں ؟

کیا آپ دن رات کڑھتے رہتے ہیں؟

کیا آپ کئی کئی دن تک اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے بات نہیں کرتے؟

اگر آپ اکثر ایسا کرتے ہین تو عین ممکن ہے کہ آپ کی شخصیت حد سے زیادہ حساس ہو۔ اگر ایسا ہے تو آپ اکیلے نہیں ہیں اس دنیا میں آپ جیسے سینکڑوں ہزاروں اور لوگ بھی ہیں جو حد سے زیادہ حساس ہیں۔ ان میں سے بعض تو اپنی حساس شخصیت کی وجہ سے نفسیاتی اور سماجی مسائل کا شکار بھی ہیں۔

جب میں سکول میں پڑھتا تھا تو میں بھی حد سے زیادہ حساس تھا۔ میں آپ کو اپنی زندگی کا ایک دلچسپ لیکن تکلیف دہ واقعہ سنانا چاہتا ہوں۔ جب میں پشاور کے ایک سکول میں نویں جماعت کا طالب علم تھا تو ایک دن ہمارے انگریزی زبان کے استاد نے سب طالب علموں کا ہوم ورک چیک کرنا شروع کیا۔ جب وہ میرے قریب آئے تو میں نے اپنے بیگ میں اپنی انگریزی کی کاپی‘جس میں میں نے ہوم ورک لکھا تھا‘ تلاش کی لیکن وہ نہ ملی۔

جب میرے استاد نے پوچھا ’سہیل ! کیا آپ نے ہوم ورک کیا ہے؟‘

تو میں نے کہا ’جی ہاں کیا ہے؟

’’کاپی کہاں ہے؟‘

’وہ تو میں گھر بھول آیا ہوں‘

میرے استاد بہت برہم ہوئے اور کہنے لگے ’تم جھوٹ بولتے ہو۔ تم نے کام نہیں کیا۔ اب تمہاری سزا یہ ہے کہ سارا پیریڈ کھڑے رہو‘

میں کھڑا ہو گیا۔ میرے استاد آگے بڑھ گئے اور میری انکھوں سے دو آنسو میرے گالوں پر ڈھلک پڑے۔مجھے دکھ اس بات کا تھا کہ میرے استاد نے مجھے جھوٹا کہا تھا۔ اس دن میری عزتِ نفس بہت مجروح ہوئی تھی کیونکہ میں جانتا تھا کہ میں نے ہوم ورک کیا تھا۔

اس شام جب میں گھر آیا تو میں نے اپنے آپ سے کہا ’سہیل ! تم حد سے زیادہ حساس ہو۔ یہ تمہارا نفسیاتی مسئلہ ہے۔ تمہیں اس کا حل تلاش کرنا چاہیے‘

چنانچہ اگلے دن میں لائبریری گیا اور میں نفسیات کے سیکشن سے ڈیل کارنیگی کی کتاب گھر لے آیا۔ اسے پڑھنے کا مجھے بہت فائدہ ہوا۔ آہستہ آہستہ میں نے اپنی حد سے زیادہ حساس طبیعت پر قابو پانا شروع کر دیا۔

پچھلے تیس برس میں میں نے جب ان مریضوں کا نفسیاتی تجزیہ کیا جو حد سے زیادہ حساس تھے اور دن رات کڑھتے رہتے تھے تو مجھے ان کی شخصیت میں ایک چیز کی کمی اور ایک چیز کی زیادتی دکھائی دی۔

ان مردوں اورعورتوں کی شخصیت میں اعتماد کی کمی تھی۔ ان کی زیادہ تر توجہ اپنی خوبیوں کی بجائے اپنی خامیوں پر رہتی تھی۔

وہ لوگ دوسروں کی رائے کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ ایسے مریضوں کے لیے ’ لوگ کیا کہیں گے‘ ایک بڑا نفسیاتی مسئلہ بن جاتا تھا۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ہم سب کو ہمیشہ خوش نہیں رکھ سکتے۔ میں ایسے مریضوں کو مندرجہ ذیل مشورے دیتا ہوں۔

پہلا مشورہ یہ کہ وہ اپنی عقل‘ اپنے شعور اور اپنے ضمیر کی آواز پر اعتماد کریں۔

دوسرا مشورہ یہ کہ وہ ایسے دوستوں کا حلقہ بنائیں جو ان کی رائے کا احترام کرتے ہوں۔

ایک دن ایک خاتون سے‘ جن کے شوہر ان کی ہمیشہ تذلیل کرتے تھے اور وہ دن رات کڑھتی رہتی تھیں‘ میں نے کہا ’آپ سونا ہیں۔ آپ کو ایک سنار سے شادی کرنی چاہیے تھے۔ آپ نے ایک لوہار سے شادی کر لی۔ لوہار تو سونے کی اہمیت‘ قیمت او وقعت نہیں جانتے‘

میں اپنے مریضوں کو یہ بھی مشورہ دیتا ہوں کہ وہ چند مہینوں کے لیے ایک ڈائری رکھیں اور جب وہ زود رنجی کا شکار ہوں تو ڈائری میں اس واقعے کی تفصیل لکھیں اور پھر اس ڈائری کے ورق کو ایک ہفتے اور ایک مہینے کے بعد پڑھیں۔ کئی مریضوں نے جب ایسا کیا تو انہیں خود اندازہ ہو گیا کہ وہ جس بات پر ناراض ہوئے تھے وہ اتنی اہم نہ تھی۔ میں جب ان سے پوچھتا ہوں ’کیا آپ کو یہ واقعہ ایک سال کے بعد یاد رہے گا تو اکثر کہتے ہیں ’نہیں‘۔

میں ان سے یہ بھی کہتا ہوں کہ اگر آپ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہو جائیں گے تو جب آپ کسی بڑی بات پر ناراض ہوں گے تو آپ کے دوست اور رشتہ دار چھوٹی اور بڑی باتوں میں فرق نہ کر پائیں گے۔

میرے وہ مریض جو فنکار ہیں جو ادیب‘ شاعر اور دانشور ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ اپنے تجربے کا تخلیقی اظہار بھی کر سکتے ہیں۔ میرے کئی مریضوں سے جب زندگی الجھتی ہے تو وہ ان تجربات کو اپنی غزل‘ نظم ‘افسانے یا پینٹنگ میں ڈھال لیتے ہیں۔ ہم اپنے ذہنی مریضوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اسی لیے ہم نے اپنے کلینک کا نامCREATIVE PSYCHOTHERAPY CLINIC رکھا ہے۔

جہاں تک میری اپنی ذاتی زندگی کا تعلق ہے اب میں اپنے ضمیر کی آواز سنتا ہوں اور اگر کوئی مجھ سے محفل میں الجھنا چاہے تو میں مسکرا دیتا ہوں۔ اور اگر کوئی ناراض ہو تو معذرت کر لیتا ہوں۔ جہاں تک میرے اپنے من کا تعلق ہے میں اپنے آپ کو اپنے شاعر چچا عارفؔ عبدالتین کا شعر سناتا ہوں

بس ایک ثبوت اپنی وفا کا ہے مرے پاس

میں اپنی نگاہوں میں گنہگار نہیں ہوں

میری نگاہ میں اپنے شعور اور اپنے ضمیر کا احترام کرنا اور اپنے ارد گرد مخلص دوستوں کا حلقہ بنانا ہمیں زندگی میں خوش رہنے میں بہت مدد کرتا ہے۔ ناراض ہونے یا کڑھنے سے پہلے ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے ’کیا یہ واقعہ ہمیں ایک سال بعد یاد رہے گا؟‘

بے حس ہونے سے حساس ہونا زیادہ بہتر ہے لیکن حد سے زیادہ حساس ہونا اور کڑھتے رہنا بھی ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور ہمیں جسمانی اور ذہنی مسائل میں الجھا سکتا ہے۔

اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنا اور ایک خوشحال‘ صحتمند اور پر سکون زندگی گزارنا ہم سب کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم خود خوش نہین رہیں گے تو ہم اپنے عزیزوں کو خوش رکھنے میں کیسے مدد کرسکیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 137 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail