احمدیت: برداشت سے عدم برداشت تک


مسلم تاریخ و ثقافت میں ایک پرانا مسئلہ نبوت کے دعوے داروں کا ہے تاہم نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد ہونے والے واقعات کے علاوہ عموماً اسے کوئی سنجیدہ مسئلہ نہیں سمجھا گیا۔ اس وقت بھی یہ مسئلہ مذہبی سے زیادہ سیاسی تھا، یعنی اسے مسلمانوں کی نئی نئی قائم ہونے والی حکومت کے خلاف بغاوت شمار کیا گیا اور اسی طرح اس کے ساتھ نمٹا گیا۔ بعد ازاں عباسی دور کی تاریخ میں ہمیں بہت سے مدعیان نبوت کا سراغ ملتا ہے جو لطائف و ظرائف کا عنوان بن گئے۔ ان سے نہ معاشرے کوکوئی تشویش لاحق ہوئی نہ کسی نے یہ محسوس کیا کہ ختم نبوت کے عقیدے کو کوئی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

عربی زبان میں جو لطائف و ظرائف پائے جاتے ہیں ان کا زیادہ تر تعلق نبوت کے انھی دعوے داروں کے ساتھ ہے ۔ ایسا ہی ایک لطیفہ یاد آ رہا ہے جو سکول میں میٹرک کی عربی کی کتاب میں پڑھا تھا۔ ایک شخص نے عباسی خلیفہ کے دربار میں آ کر یہ دعویٰ کیا کہ وہ نبی ہے۔ دستور زمانہ کے مطابق اس سے پوچھا گیا کہ اگر وہ نبی ہے تو اس کا معجزہ کیا ہے۔ اس شخص نے جواب دیا کہ اس کے پاس کنکریاں ہیں، وہ ان کو پانی میں ڈالے گا اوروہ حل ہو جائیں گی۔ ایک لگن میں پانی منگوایا گیا۔ اس نے پانی میں کنکریاں ڈالیں اور وہ حل ہو گئیں۔ اس پر ایک وزیر نے کہا تم نے فراڈ کیا ہے۔ میں تمھیں اپنے پاس سے کنکریاں دیتا ہوں تم انھیں پانی میں حل کرکے دکھاو¿۔ اس مدعی نبوت نے جواب دیا نہ میں نبوت میں موسی علیہ السلام سے بڑا ہوں اور نہ تم انکار میں فرعون سے بڑے ہو۔ یہ بات تو فرعون نے بھی موسی علیہ السلام سے نہیں کہی تھی کہ میں اپنے پاس سے ڈنڈا دیتا ہوں تم اس کا سانپ بنا کر دکھاو¿۔ اس پر دربار میں سب لوگ ہنس پڑے اور اس شخص کو کچھ انعام دے کر رخصت کر دیا گیا۔

ان دنوں ختم نبوت کا معاملہ ایک بار پھر اس قدر اہمیت کا حامل ہو گیا ہے کہ ہم اس کی بنا پر ہمہ دم گردنیں مارنے کو تیار رہتے ہیں۔ برصغیر میں یہ مسئلہ انیسویں صدی میں مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے کچھ دعاوی سے پیدا ہوا اور روزبروز گھمبیر ہوتا چلا جا رہا ہے۔

گزشتہ صدی کی تیس کی دہائی میں میرے دادا جان نے کئی برس تک مجلس احرار کے ساتھ کام کیا تھا اس لیے بچپن میں سید عطا اللہ شاہ بخاری، مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی اور مولانا محمد علی جالندھری کا ذکر بہت سننے کو ملا۔ جب 1953میں احراریوں نے ختم نبوت کی تحریک شروع کی تودادا جان نے بھی گرفتاری دی۔ اس وقت نانا جان بھی تقریر کرنے کی بنا پرگرفتارہوئے اور ایک مہینہ سے زیادہ جیل میں رہے تھے۔

اس خاندانی پس منظر کی بنا پر احمدیوں کے متعلق لطائف وظرائف تو سننے میں آتے تھے لیکن اس سے زیادہ کبھی ان کے بارے میں جاننے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ کالج کے زمانے میں بعض ہم جماعت احمدی بھی تھے۔ ان کے ساتھ بڑے اچھے دوستانہ مراسم رہے لیکن نہ انھوں نے کبھی اس مسئلے پربات کی نہ ہمیں کچھ کھوج کرید لگانے کا کوئی خیال آیا۔کالج کے زمانے میں ہی ایک بار مرزا صاحب کا ایک مجموعہ کلام نظر سے گزرا۔ بہت زیادہ بے لطف اور خراب شاعری کا نمونہ تھا۔

1974میں ہم ایم اے کے امتحانات کی تیار ی میں مشغول تھے جب ایک بار پھر قادیانیوں کے خلاف ہنگامے شروع ہوئے اور انھیں غیرمسلم قرار دیے جانے کے مطالبات فضا میں بلند ہونے لگے۔ بالآخر اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی منشا اور اشیرباد سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا اور بھٹو صاحب نے یہ اعلان کیا کہ انھوں نے نوے برس پرانا یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کر دیا ہے۔

مذہبی مسائل کا لیکن خاصہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی ہمیشہ کے لیے حل نہیں ہوا کرتے اور وقتاً فوقتاً مختلف ضروریات کے تحت سراٹھاتے رہتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے ملک میں بھی تقریباً ہر عشرے کے بعد اس ضمن میں کسی نئی قانون سازی کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ آج کل ختم نبوت کا مسئلہ ایک بار پھر زوروں پر ہے۔گزشتہ دنوں چند کتابیں نظر سے گزریں تو اندازہ ہوا کہ مرزا غلام احمد اور ان کے پیروکاروں کے متعلق ہمارے علما اور صحافیوں کے رویے میں تبدیلی آئی ہے۔سنہ 1935 ءسے پہلے یہ رویہ برداشت کا تھا جو بعد ازاں بتدریج عدم برداشت میں ڈھلتا چلا گیا۔

مولانا ظفر علی خان

اگر ہم احمدیوں کے بارے میں آرا کی تبدیلی کو جاننا چاہیں تو مولانا ظفر علی خان کے اخبار ، زمیندار، سے بہت رہنمائی مل سکتی ہے۔ مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کا بھلا ہو کہ وہ مولانا کے اداریوں اور شذرات پر مشتمل تحریروں کی کتابی صورت میں اشاعت کا اہتمام کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ محترمہ اختر النسا کی مرتب کردہ کتاب” اقبال اور زمیندار“ سے بہت اہم معلومات ملتی ہیں۔ آئیے پروفیسر احمد سعید کی مرتبہ زمینداراخبار کے جنوری تا اپریل 1923 کے اداریوں اور شذرات پر مشتمل جلد سے آغازکرتے ہیں۔

یہ شدھی کی تحریک کا زمانہ تھا۔ یو پی کے اضلاع آگرہ، میرٹھ، دہلی اور دیگر نواحی مقامات میں ایک راجپوت قوم آباد تھی، جو مذہباً تو مسلمان تھے لیکن ان کا رہن سہن، رسم و رواج اوربہت کچھ ہندووں سے ملتا تھا۔ اس قوم کو دوبارہ ہندو بنانے کے کام کاآغاز کیا گیا اور ہندووں کی طرف سے اس امید کا اظہار کیا گیا کہ صدیوں کے بچھڑے بھائی ایک بار پھر آن ملیں گے اور اپنے قدیم مذہب کی آغوش میں آرام کریں گے۔

زمیندار اخبار نے شدھی کی اس تحریک کو فتنہ ارتداد کا نام دیا اور اس پر مسلسل اداریے اور شذرے تحریر کیے جن میںہندوستان کے ’حلقہ بگوشان دین حق کی حمیت اورداعیہ عمل‘ کوللکارا اور مسلمانوں کے تمام فرقوں کی توجہ اس طرف دلائی کہ وہ اس علاقے میں جاکر تبلیغ کریں اور اپنے مسلمان بھائیوں کو ارتداد سے بچائیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں:”بلا شبہ حلقہ ارتداد میں بعض غیرت مند اور پرجوش جماعتیں پہنچی ہوئی ہیں اوروہ اپنی بساط کے مطابق ضروری کام کر رہی ہیں مثلاً انجمن ہدایت اسلام دہلی،انجمن رضائے مصطفی بریلی، احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور، جمعیت دعوت و تبلیغ لاہور، مبلغین دارالعلوم دیوبند، ۔۔وغیرہ “۔ (ص 288)

ظاہر ہے جب مختلف فرقوں کے لوگ تبلیغ کرتے تھے تو ان کے باہمی فرقہ وارانہ مناقشات بھی سر اٹھاتے تھے۔ اس پر ان سب فرقوں کو ان الفاظ میں نصیحت کرتے ہیں:” انجمن ہدایت اسلام ہو یا جماعت رضائے مصطفی ہو، احمدیہ انجمن اشاعت اسلام ہو، یا جمعیت دعوت و تبلیغ ہو، مسلم راجپوتان ہند کے مبلغین ہوں یا جمعیت العلمائے ہند کے مناد ہوں، سب کو چاہیے کہ ایک جگہ جمع ہو کر اپنے طریق کار کے متعلق باہمی تصفیہ و مفاہمت کرلیں ۔۔۔آپس میںکسی قسم کا اختلاف رونما نہ ہونے دیں۔“ (ص 268)

مولانا محمد علی (لاہوری جماعت)

17مارچ 23 19 کے شذرے ”فتنہ ارتداد اور مسلمانوں کا فرض“ میں اس خبر کا تذکرہ ملتا ہے: ”احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کے مبلغ حلقہ ارتداد میں کام کر رہے ہیں۔۔۔کل یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ قادیانی جماعت نے بھی تیس مبلغین کی پہلی قسط حلقہ ارتداد میں بھیج دی ہے۔ ۔۔لیکن گولڑہ شریف، علی پور شریف، سیال شریف اور اس قسم کے دوسرے مقدس حلقوں سے اب تک کوئی دعوت عمل بلند نہیں ہوئی۔“

اسی شذرے میں آگے چل کر لکھتے ہیں: ”اس وقت حلقہ ارتداد میں مختلف جماعتیں کام کر رہی ہیں جو اپنے بعض عقائد و اعمال میں ایک دوسرے سے متفاوت ہیں۔ ان میں اہل حدیث ہیں، عام حنفی ہیں، دیوبندی ہیں، شیعہ ہیں، احمدیوں کی دونوں جماعتیں ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ تمام جماعتیں ایک دوسرے سے مناظرے، مباحثے، مجادلے اور مناقشے کرتی رہتی ہیں لیکن اگر وہ حلقہ ارتداد میں بھی اپنا یہ طریقہ قائم رکھنا چاہتی ہیں تو پھر بہتر یہی ہو گا کہ وہ خاموشی کے ساتھ گھر میں آ کر بیٹھیں۔۔۔ پیش نظر فتنہ، وہابیت، حنفیت، دیوبندیت اور احمدیت کا سوال نہیں ہے اسلام کا سوال ہے۔۔۔جب ان کے دائرہ اسلام میں قیام کا مسئلہ حل ہو جائے تو اس کے بعد ۔۔۔راجپوتوں کو احمدیت کی دعوت دے لیں یا وہابیت کی، انہیں ہدایت الاسلام اور رضائے مصطفی کے طریقوں کا پابند بنا لیں یا دیوبندیوں کے نقش قدم پر چلا لیں، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔“

اسی شذرے میں وہ جمعیت العلما کے صدر، ناظم اور ارکان سے یہ اپیل بھی کرتے ہیں کہ ” وہ قادیانی احمدیوں، لاہوری احمدیوں،جمعیت دعوت و تبلیغ ، ہدایت الاسلام، رضائے مصطفی ، د یوبندی، شیعہ،ا ہل حدیث، حلقہ ہائے تصوف غرضیکہ تمام جماعتوں کے مقتدر رہنماوں کو کسی موزوں مقام پر دعوت دیں اور باہم مشورہ اور اتفاق سے ایک دستورالعمل بنائیں جس کے ماتحت تمام مبلغین بلا اختلاف کام کریں۔“ (ص 318-20)

یکم اپریل 1923 کے شذرے میں بالآخر اتحاد بین المسلمین کا ذکر ہوتا ہے:” ہم نہایت مسرت سے اعلان کرتے ہیں کہ پنجاب میں انسداد ارتداد اور تبلیغ و اشاعت اسلام کے مقاصد کی تکمیل کے لیے ایک جمعیت قائم کر دی گئی ہے جس میں ہر طبقے ہر عقیدے اور ہر سیاسی خیال کے مسلمان شامل ہیں۔۔۔اس جمعیت میں شیعہ، حنفی اہل حدیث، احمدی سبھی شامل ہیں۔“ ص380

6اپریل 1923کے شذرے میں مرزا بشیر الدین محمود، امام جماعت قادیان، کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے:” جناب ممدوح نے اب تک انسداد ارتداد کے لیے جو وقیع، گراں قدر، اور سچا اسلامی کام کیا ہے وہ ایسا ہے کہ ہر مسلمان اسے اپنے لیے قابل تقلید نمونہ تصور کرے گا۔“ (ص 395)

اس کے تین برس بعد جب لاہور میں علامہ اقبال نے پنجاب اسمبلی کے انتخاب میں حصہ لیا تو اس وقت بھی زمیندار اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ مختلف مذہبی حلقوں سے سید علی حائری، خواجگان نارووال، احمدیان قادیان و احمدیان لاہور نے علامہ ممدوح کی تائید میں اعلانات کیے، اہل حدیث حضرات نے علامہ ممدوح کو ہی ووٹ دیے۔ (اختر النسا۔ اقبال اور زمیندار، ص 176 )

خواجہ کمال الدین

اختر النسا کی کتاب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں لاہور میں مسلمانوں کے مختلف مسائل پر جو بھی جلسے جلوس ہوتے تھے ان میں احمدیان قادیان و احمدیان لاہور بھی شریک ہوتے تھے۔ کتنے ہی جلسوں میں لاہوری جماعت کے امیر مولانا محمد علی بھی دوسرے جید علما کے ساتھ جلسوں سے خطاب کرتے تھے۔ خواجہ کمال الدین کو مبلغ اسلام قرار دیا جاتا تھا۔ زمیندار اخبار بڑے اہتمام سے ان جلسوں کی خبریں چھاپتا تھا۔ ان علما کو اس وقت کبھی اعتراض نہیں ہوا تھا کہ ایک احمدی مسلمانوں کے جلسے میں شریک ہوتا اور خطاب کرتاتھا۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہمارے زعمائے ملت کو یہ سمجھنے میں اتنی دیر کیوں لگی کہ احمدی غیر مسلم ہیں۔ مرزا غلام احمد صاحب 1908ءمیں وفات پا گئے تھے۔ ظاہر ہے انھوں نے جو بھی دعوے کیے ہوں گے اپنی زندگی میں ہی کیے ہوں گے کیونکہ بعد از وفات دعوے کا کوئی امکان تو ہونہیںسکتا۔اس کے باوجود امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزاد سفر کرکے گئے اور مرزا صاحب کے جنازے میں شریک ہوئے۔ علامہ اقبال نے اسی زمانے میں فرقہ قادیانی کو اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ قرار دیا تھا۔

مولانا ظفر علی خان کی دینی عصبیت اور حمیت کے بارے میں دو آرا نہیں ہو سکتیں۔ انھیں ظفر الملت والدین کا لقب دیا جاتا تھا۔ ان کی دینی حساسیت کا عالم دیکھنا ہو تو ولیم ڈریپر کی کتاب” معرکہ مذہب و سائنس“ کا ان کا ترجمہ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ جہاں کہیں مصنف نے اسلام کے متعلق کسی دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا ہے انھوںنے حاشیے میں اس کا دندان شکن جواب دیا ہے۔ جب قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے مطالبے کا آغاز ہوا تو اس کے بعد ان کا قلم نظم و نثر دونوں اصناف میں قادیانیوں کے خلاف شمشیر براں بن گیا۔ لیکن اس کے باوجود حیرت ہوتی ہے کہ تقریباً 1930 تک یعنی مرزا صاحب کی وفات کے بائیس برس بعد بھی دعوائے نبوت کی ا ن کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں تھی اور وہ احمدیان قادیان اور احمدیان لاہور کا شمار مسلمانوں کے فرقوں میں کرتے تھے ۔

البتہ تیس کی دہائی میں کچھ واقعات ایسے رونما ہوئے جن سے ہمارے اخبار نویسوںاور مولویوں کو یہ احساس ہوا کہ احمدیوں کا شمار مسلمانوں میں نہیں ہونا چاہیے۔ 1932ءمیں چودھری ظفر اللہ خان کو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کا رکن نامزد کیا گیا جس پر زمیندار اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی کہ اس نامزدگی پر مسلمانوں نے ہنگامہ خیز احتجاج کیا ہے۔ واضح رہے یہ وہی کونسل تھی جس کے مقاطعے کوچند برس قبل، تحریک خلافت کے زمانے میں، دینی فریضہ قرار دیا جا رہا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ اصل مسئلہ مرزا صاحب کے الہامات سے نہیں بلکہ چودھری ظفر اللہ خاں کی دنیاوی ترقی سے تھا۔ دوسری وجہ مرزا بشیر الدین محمود کا رویہ تھا۔ انھوں نے بہت جارحانہ انداز میں احمدیت کی تبلیغ شروع کر رکھی تھی اور اس بات کو بالاصرار بیان کرنا شروع کر دیا تھا کہ جو مرزا صاحب کی نبوت پر ایمان نہیں رکھتا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔تاریخی طور پر یہ بات شاید درست ہو کہ دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے کا آغاز احمدیوں کی طرف سے ہوا تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں