آپ ہی خیال کر لو مائی باپ


ہر ریاست اور سماج کا فرض ہے کہ وہ وطن کے لیے جان دینے والوں کو یاد رکھے اور ان کے ورثا کا پورا خیال رکھے۔ اس تناظر میں سندھ حکومت کا یہ فیصلہ مستحسن ہے کہ ضلع شکار پور میں نو ہزار چھ سو ایکٹر جنگلات کی اراضی مسلح افواج کے پانچ سو شہدا کے ورثا کے لیے منظور کر لی گئی تاکہ وہ کھیتی باڑی کے ذریعے اپنی زندگی سہل بنا سکیں۔

آرمی سنہ 2001 سے کوشاں تھی کہ شکار پور میں 35 ہزار ایکڑ زمین مل جائے۔ صدر اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف نے جانے کیوں اس مطالبے پر توجہ نہیں دی اور بعد کی حکومتیں بھی یہ معاملہ ٹالتی رہیں۔ بالاخر وزیرِ اعلی قائم علی شاہ نے 14 برس بعد یہ مسئلہ جزوی طور پر نمٹایا۔

فوجی افسروں اور جوانوں کو ان کی خدمات اور بہادری کے عوض زمین الاٹ کرنے کا کام سنہ 1900 کے آس پاس برطانوی دور میں شروع ہوا لیکن اس الاٹمنٹ کی وجوہات ، مقاصد اور الاٹی کا ریکارڈ بھی رکھا جاتا تھا۔ زمین کا مالک صوبہ تھا اور فوج کو لیز پر زمین طے شدہ مقاصد کے لیے دی جاتی تھی اور یہ مقاصد اصل مالک ( صوبے ) کی مرضی کے بغیر تبدیل نہیں ہوسکتے تھے۔ بصورتِ دیگر مجاز الاٹی اتھارٹی لیز منسوخ کرنے کی مجاز تھی۔

مگر پاکستان بننے کے بعد فوج کو زمین کی الاٹمنٹ اور اس کی تفصیلات کا معاملہ بھی حساس قومی معاملات کی فہرست میں ڈال دیا گیا اور اس بابت کبھی فوج یا ریاست کی جانب سے کوئی جامع باضابطہ تفصیلات سامنے نہ آسکیں۔ ( تاہم پارلیمنٹ اگر چاہے تو تفصیلات طلب کرسکتی ہے )۔

محققین نے اپنے طور پر تفصیلات جمع کرنے کی کوشش ضرور کی۔ پھر بھی شائد کبھی ٹھیک ٹھیک پتہ نہ چل سکے کہ کون سی زمین کس قیمت پر کیا کہہ کے کتنی مدت کے لیے الاٹ ہوئی اور پھر اس کا حقیقی استعمال کیا ہوا اور متبادل استعمال کی رسمی اجازت کس سے لی گئی۔

ڈی ایچ اے – لاہور

اب انگریز دور کی لاہور چھاؤنی کو ہی لے لیجئے۔ یہ زمین فوج کو اے ون کیٹیگری میں لیز ہوئی تھی۔ یعنی اسے صرف بیرکوں ، قلعہ بندی ، اسلحہ خانہ ، فضائی پٹی ، پریڈ میدان ، فوجی رہائش گاہوں ، فائرنگ رینج ، گراس اینڈ ڈیری فارمز ، ہسپتال اور جوانوں کی تفریحی سہولتوں اور پارکس وغیرہ کے لیے ہی استعمال کیا جا سکتا تھا۔

آج آپ کو کنٹونمنٹ کے 80 فیصد رقبے پر بڑے بڑے گھر، کمرشل مراکز ، پلازے ، سینما ، شادی ہال ، بیکریاں اور چکن تکے نظر آئیں گے۔ پھر بھی یہ کنٹونمنٹ ہی کہلاتی ہے۔ سابق کور کمانڈر لاہور لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ ہمایوں خان بنگش نے اپنے ایک مقالے میں اے ون کیٹگری زمین کے کمرشل استعمال کو ناپسند ضرور کیا مگر یہ بھی کہا کہ کمرشل استعمال سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی آخرِ کار فوجیوں کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوتی ہے۔

مشرف دور میں جب اوکاڑہ ملٹری فارمز کے کسان ایجی ٹیشن کررہے تھے تو فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل شوکت سلطان نے اس بابت ایک سوال کا یہ جواب دیا کہ پانچ ہزار ایکڑ ہو کہ 17 ہزار ایکڑ۔ آرمی کو ان کا کیا کرنا ہے یہ آرمی کے علاوہ کون طے کرے گا۔ ایک اور موقع پر انھوں نے کہا ہم سرکاری زمینوں پر نہیں آرمی کی زمین پر گھر اور پروجیکٹس بناتے ہیں۔ ( ہائے بے چارہ انگریز جو لیز شدہ زمین کے استعمال کی اجازت کے لیے بھی صوبے کے رحم و کرم پہ تھا)۔

DHA Karachi

اس پر مجھے سن 50 کے عشرے کا وہ قصہ یاد آ گیا جب یہ بات پھیلی کہ سندھ کی جو بیراجی زمین فوج کو الاٹ ہوئی ہے اس کی ڈویلپمنٹ امریکی فوجی گرانٹ سے ہوئی ہے۔ اس پر پنجاب کے وزیرِ خزانہ نواب افتخار حسین نے کہا کہ فوج مجاز ہے کہ وہ اپنے پیسے کو جہاں بھی استعمال کرے۔

جانے نوشہرہ میں جو زمین کبھی فائرنگ رینج کے لیے الاٹ ہوئی ہوگی وہ آہستہ آہستہ پھل دار باغات میں کب بدل گئی۔

کوئی بتائے گا کہ ڈی ایچ اے کراچی کی زمین 70 کے عشرے میں سندھ بورڈ آف ریونیو نے کس نرخ پر الاٹ کی اور کس نرخ پر آگے فروخت ہوئی۔ کوئی بتائے گا کہ 1982۔ 1983 میں لیہ کے علاقے رکھ کونا اور رکھ جدید میں 20500 ایکڑ زمین 146 روپے فی ایکڑ کے حساب سے 20 برس میں رقم کی ادائیگی کی سہولت کے ساتھ الاٹ ہوئی تھی یا یہ بھی کوئی بے بنیاد مفروضہ ہے۔

جانے نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے پیچھے کرکٹ کنٹرول بورڈ کی زمین کب کنٹونمنٹ بورڈ کی تحویل میں آ گئی اور کب آرمی آفیسرز کالونی بن گئی اور کب چھ لاکھ کا پلاٹ تین ماہ میں ڈیڑھ کروڑ کا ہوگیا۔ کب جنرل توقیر ضیا کرکٹ بورڈ کے سربراہ بنے اور کب چلے گئے۔

کوئی تصدیق کرے گا کہ اسلام آباد کے ای سیکٹر میں دو ہزار پانچ میں نئے جی ایچ کیو کے لیے حاصل کی جانے والی3375 ایکڑ زمین کا ریٹ 40 روپے مربع گز طے ہوا۔ یا یہ بھی کسی نے بے پر کی اڑائی ہے ؟

جانے اس کی مارکیٹ ویلیو تب کیا تھی اور اب کیا ہے ؟ اس بارے میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے کچھ پوچھنا اس لیے زیادتی ہے کہ وہ تو چک شہزاد کے زرعی فارم ہاؤسز میں سبزیوں کی جگہ محلوں کی کاشت تک نہ رکوا سکی۔

جنوبی پنجاب اور سندھ میں سن 50 کے عشرے سے جو ہزاروں ایکڑ زرعی مقاصد کے لیے الاٹ ہوئے ان میں سے اکثر کے مالک غیر حاضر کیوں ہیں اور ان کی زمینیں سویلین زمیندار کرائے پر کیسے استعمال کررہے ہیں اور جن چھوٹے کاشتکاروں کو پیڑھی در پیڑھی زرعی محصولات کی وصولی کے باوجود بے دخل کیا گیا ان میں سے اکثر اپنی بوسیدہ محصولاتی فائلیں اٹھائے ادھر سے ادھر جوتیاں کیوں چٹخا رہے ہیں یا پھر نازل مالکان کی زمینوں پر ہاری کیوں بن گئے۔ کیا آپ نے چولستان میں380 روپے ایکڑ پر زمین الاٹ کروانے والے کسی پرویز مشرف یا خالد مقبول کو اپنے ہی رقبے پر کبھی ٹریکٹر چلاتے دیکھا ؟

جنوری 1988 میں پنجاب اسمبلی کو بتایا گیا کہ 1977۔ 1985 تک چولستان سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں5578 عسکری اہلکاروں کو ساڑھے چار لاکھ ایکڑ زمین الاٹ ہوئی۔

اس بابت سنہ 2002 میں لاہور ہائی کورٹ میں ایم ڈی طاہر نے چولستان میں انتہائی سستے نرخ پر الاٹمنٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تو پنجاب بورڈ آف ریونیو کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ 1981۔ 2000 کے عرصے می62 سینئر اور 56 جونئیر افسروں کو چولستان اور دیگر اضلاع میں جی ایچ کیو کی ہدایات پر زمین الاٹ کی گئی۔ اس کی تفصیلات جی ایچ کیو ہی بتا سکتا ہے۔

جی ایچ کیو کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ زمین کی الاٹمنٹ جیسے موضوعات سروس معاملات میں آتے ہیں اور سروس معاملات آرمی ایکٹ کے دائرے میں ہیں۔ لہذا آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے کے تحت حاصل تحفظ کے سبب انھیں کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں سنہ 2001 میں تینوں مسلح افواج کے شہدا اور ریٹائرڈ فوجیوں کے لیے17758 ایکڑ زمین الاٹ ہوئی۔ تین برس بعد اس میں سے بارہ سو کنال زمین ایڈجوٹنٹ جنرل ویلفیئر کے دفتر سے دو بااثر سیاسی شخصیتوں کو الاٹ کردی اور اچانک ہی مشرف صاحب کے وردی اتارنے کے سوال پر ان شخصیات کا موقف حلوہ ہوگیا۔ جبکہ نیوی کے شہدا کے کوٹے میں جو زمین آئی اس میں سے ڈیڑھ سو کنال خیبر پختون خواہ کے ان ریونیو افسروں کو بطور تحفہ بخش دے دی گئی جنہوں نے زرعی زمین کو کمرشل کیٹگری میں بدلوایا۔ یہ مقدمہ سنہ 2001 سے نیب کے پاس ہے۔ کچھ فیصلہ ہوا ؟

پچھلے 68 برس میں لگ بھگ پندرہ سے بیس ہزار جوانوں اور افسروں نے وطن پر جان قربان کی اور اس وقت تقریباً تیرہ لاکھ کے لگ بھگ پنشن یافتہ فوجی موجود ہیں۔ ان سب کو رہائش اور زندگی کی باوقار سہولتیں فراہم کرنا ریاست کا فرض ہے مگر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹیز سمیت تقریباً ستائیس فوجی رہائشی اسکیموں میں پچھتر فیصد پلاٹ اور گھر سویلینز کے پاس کیوں ہیں ؟ جبکہ چاروں صوبوں میں 93 لاکھ ایکڑ سرکاری زمین میں سے لگ بھگ دس لاکھ ایکڑ سرکاری زمین فوج اور اس کے ذیلی اداروں کے زیرِ استعمال ہے۔ اس میں سے سات لاکھ ایکڑ زمین زرعی نوعیت کی بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ فوج کے ریٹائرڈ افسروں اور جوانوں کی دیکھ بھال کے لیے متعدد فلاحی اداروں کا ایک موثر ڈھانچہ بھی ہے۔

60 لاکھ بے مکان شہری اور تین کروڑ بے زمین کسان تو رہے ایک طرف مگر مائی باپ اسی وطن میں پولیس اور نیم فوجی اداروں کے ہزاروں شہدا کے تھوڑے بہت ورثا بھی تو رہتے ہیں۔ یہ نا اہل ، کرپٹ ، سفاک ، مشکوک سویلینز تو کبھی بھی ان کے لیے کچھ نہیں کریں گے۔ آپ ہی کچھ خیال کرلو مائی باپ۔۔۔۔

(21 جون 2015)

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں