قدیم بھارتی معاشرے میں ہم جنس پرستی کی روایت ملتی ہے


مصنف اور مزاح نگار شوون چوہدری نے بھارت میں ہم جنس پرستی سے متعلق ایک حالیہ اشتہار پر اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اس پر حیران نہیں ہونا چاہیے کیونکہ قدیم بھارت کی روایات بہت آزاد خیال تھیں جس میں ہر طرح کے جنسی رشتوں اور جنسی رویوں کو قبول کیا جاتا تھا۔

میرے ایک دوست نے کہا کہ ہم جنس پرستی پر مبنی خواتین کے کپڑوں کا ایک اشتہار آیا ہے جس میں دو خواتین کو عشق میں مبتلا دکھایا گیا ہے۔

میرے خیال میں یہ اشتہار بہت اچھے انداز میں بنایا گیا تھا۔ تو کیا یہ ایک بہت بڑا قدم تھا؟ میرے خیال میں یہ ایک بڑا قدم ہے۔ اس اشتہار کو دیکھ کر پروین بابی کی یاد آئی جنھوں نے بھارتی نوجوانوں کے دماغوں کو روشن کرنے کے ساتھ ساتھ ٹائم میگزین کے صفحۂ اول پر آ کر ملک کا نام بھی روشن کیا۔

ہم جنس پرستی بھارت کے لیے نئی نہیں ہے۔ 1983 میں بنائی گئی ’فلم رضیہ سلطان‘ میں ہیما مالنی اور پروین بابی کے درمیان اسی طرح کے جذبات اور مناظر عکس بند کیے گئے تھے۔

دو ہزار سال پہلے بننے والے قوانین میں ہر چیز کے ضابطے تھےاور اس قانون کے تحت ہم جنس پرستی کی سزا محض اتنی تھی کہ ایسے لوگوں کو کپڑوں کے ساتھ غسل کرنا پڑتا تھا جس کے بعد انھیں پاک تصور کیا جاتا تھا۔

اس منظر میں دونوں کے درمیان ہونے والے بوسے کو پروں سے چھپا دیا گیا تھا۔ اس زمانے میں اس طرح کے مناظر کو ایسے ہی کبھی پھولوں اور کبھی دوپٹے کے پیچھے سے دکھایا جاتا تھا یہ ایک طرح سے پردہ ڈالنے کی کوشش ہوتی تھی۔

موجودہ دور کے ٹی وی اشتہار میں اسی چیز کو ایک نئے اور جدید انداز میں پیش کیا گیا ہے جس میں نہ پردہ ہے اور نہ پھول۔

بدلتے زمانے کے ساتھ ٹی وی ایک بڑا میڈیم بنتا گیا اور ٹی وی کا مطلب ہے زیادہ سے زیادہ اشتہار۔ فلموں کے ساتھ ساتھ اشتہار بھی سماجی موضوعات اور تبدیلیوں کی عکاسی کے ساتھ پیغام پہنچانے کا کام بھی کرتے ہیں ان میں نہانے، دانتوں کو صاف رکھنے جیسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے لے کر بڑے بڑے موضٰوعات کو بھی چھوئے جاتے ہیں۔

اسی دوران ایسا دور آیا جب میں نے پہلی مرتبہ لِرل صابن کے ایک اشتہار میں ایک ماڈل کو بکنی میں دیکھا۔ سماج میں اسی طرح تبدیلیاں آتی ہیں۔ اگلے مرحلے میں عورتوں نے اہم کردار ادا کیا۔ اشتہارات میں عورتیں بہت کچھ کرتی نظر آئی ہیں۔ اب وہ خود ہی کپڑے خریدتی ہیں، ان کا اپنا کریڈٹ کارڈ ہوتا ہے اور وہ مہنگی کاریں بھی چلاتی ہیں۔

آب اس دور میں کمرشل میڈیا سماجی طور پر بیدار ہے اور حساس مسائل کو بھی اجاگر کر رہا ہے جن میں سے ایک عورتوں کے درمیان جنسی کشش کا موضوع بھی شامل ہے۔ لیکن عورتوں کے درمیان جنسی کشش پر آج اتنا شور کیوں مچایا جا رہا ہے؟ کیا یہ عورتوں کے خلاف ایک سازش ہے؟ کیا کاما سوترا میں اس کا ذکر نہیں ہے؟

کیا بھارتی سماجی اور روایتی طور پر ایسے لوگوں کے خلاف تھا؟ نہیں۔ دو ہزار سال پہلے بننے والے قوانین میں ہر چیز کے ضابطے تھےاور اس قانون کے تحت ہم جنس پرستی کی سزا محض اتنی تھی کہ ایسے لوگوں کو کپڑوں کے ساتھ غسل کرنا پڑتا تھا جس کے بعد انھیں پاک تصور کیا جاتا تھا۔ جبکہ ریپ کی سزا کے تحت قصوروار کی ہاتھ کی دو انگلیاں کاٹ دی جاتی تھیں۔

2000  سال پہلے بننے والے قوانین میں پر چیز کے ضابطے تھےاور اس قانون کے تحت ہم جنس پرستی کی سزا محض اتنی تھی کہ ایسے لوگوں کو کپڑوں کے ساتھ غسل کرنے کی سزا دی جاتی تھی جس کے بعد انھیں پاک تصور کیا جاتا تھا۔ تو پھر ایسا کیا ہوا کہ اس جانب لوگوں کا رویہ اور نظریہ تبدیل ہو گیا؟

اس کی ایک وجہ برطانوی راج ہے اور 1857 کی بغاوت کے بعد 1861 میں نافذ ہونے والا انڈین پینل کوڈ ہے، اس کے تحت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی تھی کہ غلام ملک کے لوگ دوبارہ اپنا سر نہ اٹھا سکیں۔ اتنا ہی نہیں، اس قانون کو بنانے والوں نے غلام ملک کے عوام کی نجی خواہشات پر بھی قدغنیں لگا دیں۔ اس میں مشنری پوزیشن کے علاوہ کسی بھی طرح کی جنسی روایت کو جرم قرار دے دیاگیا۔

آزادی کے 75 سال بعد بھی ہم اس غلام ذہنیت سے آزاد نہیں ہو سکے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6399 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp