پانامہ دستاویزات کا تھیٹر


 kaleemگزشتہ کافی دنوں سے آف شور کمپنیوں کا نام لے کراخبارات اور ٹی وی سٹوڈیوز کے خوشنما سیٹوں پر پرجاری”پانامہ تھیٹر “ کافی رش لے رہا ہے۔ عمران خان کا رویہ جو عموما جارحانہ ہی رہتا ہے وہ مزید جارحانہ ہو گیا ہے اور وہ ایک بار پھر وزیراعظم کے استعفے کی ضد لے بیٹھے ہیں۔ گو کہ پانامہ دستاویزات میں کسی ایک ملک یا شخصیت کو خاص طور پر نشانہ نہیں بنا یا گیا لیکن امریکہ کے بارے میں مکمل خاموشی اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ دال میں کچھ کالا ہو سکتا ہے۔ انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلزم کی ساکھ اپنی جگہ لیکن یہ دیکھنا لازمی ہے کہ فورڈ فاؤنڈیشن، اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن، راک فیلر فیملی فنڈ اور کیلاگ فاؤنڈیشن جیسے اداروں کے مقاصد اور دلچسپیاں کیا ہیں کیونکہ یہ ہی وہ ادارے ہیں جو آئی سی آئی جے کو فنڈز فراہم کرتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان میں جو طوفان بدتمیزی برپا ہے اس کا نشانہ خاص طور پر وزیراعظم میاں نواز شریف کی ذات ہے کیونکہ پانامہ دستاویزات میں ان کے بچوں کے نام شامل ہیں۔ کوئی بھی سیاسی جماعت یا دانشور وزیراعظم کے علاوہ دو سو سے زائد ان پاکستانی شخصیات کے نام لینے کی جرات نہیں کر رہا جن کے نام پانامہ دستاویزات میں موجود ہیں شاید اس لیے کہ اس سے کچھ لوگوں کی نوکریوں کو بھی خدشہ لاحق ہے کیونکہ اس میں ذرائع ابلا غ کے بڑے بڑے نام، ریٹائرڈ اورحاضر سروس جج بھی شامل ہیں۔ میاں نواز شریف چونکہ وزیراعظم ہیں اور پاکستان میں سب سے آسان کام سیاسی حکمرانوں پر تنقید ہے اس لئے  طوفان کا رخ ان کی طرف ہے حالانکہ پانامہ دستاویزات کے مطابق پاکستان کے ایک معروف سیاسی خانوادے” سیف اللہ فیملی“ کے نام پر چونتیس آف شور کمپنیاں قائم ہیں۔ لیکن پارلیمنٹ میں جتنا بھی شور شرابا ہوا اس میں خاص طور پر اس بات کا خیال رکھا گیا کہ سابق وزیرداخلہ رحمان ملک، بینظیر بھٹو یا سیف اللہ خاندان کا نام بھولے سے بھی زبان پر نہ آئے۔ خیر رحمان ملک تو اسے” را“ کی سازش قرار دیتے ہیں۔ واہ سبحان اللہ! پارلیمنٹ میں ایک آواز آئی آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے۔

اگر ”را“رحمان ملک کے خلاف سازش کر سکتی ہے تو وزیراعظم پاکستان کے خلاف تو اسے ضرور سازش کرنی چاہیے تھی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ آف شور کمپنیاں کیوں قائم ہو ئیں ہیں یا بیرون ملک کاروبار کرنے پر کوئی قدغن ہے۔ دنیا بھر میں پچاس کے قریب ریاستیں آف شور کمپنیاں قائم کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں جس کا بنیادی فائدہ ٹیکس نہ دینے کہ سہولت ہے بعض صورتوں میں یہ ٹیکس بہت ہی معمولی بھی ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے کسی بھی سرمایہ کار کے لئے یہ ایک پرکشش موقع ہوتا ہے اور قانون کے دائرے میں کاروبار کرنا ہر ایک کا حق ہے چاہے وہ وزیراعظم یا اس کی اولاد ہی کیوں نہ ہو۔ مجھے سخت الجھن ان دانشوروں سے ہوتی ہے جو خلافت راشدہ کی مثالیں دے کر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ حکمرانوں کو کاروبار نہیں کرنا چاہیے۔ میراخیال ہے اس مطالبے کی آڑ میں وہ حکمرانوں کو کرپشن کی راہ دکھانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ دنیا میں بوریا نشین حکمران میں نے تو موجودہ دور میں کوئی دیکھا سنا نہیں تو پھر اگر حکمران ذاتی کاروبار بند کردیں تو اپنے اور اہل خانہ کے ذاتی خرچ کہاں سے چلائیں۔ ساری دنیا میں حکمران کام کرتے ہیں تو پاکستان میں کیوں برا ہے۔ اصل بات جس پر زور نہیں دیا جاتا کہ حکمرانوں کے کاروبار کواس طرح شفاف ہونا چاہیے کہ ان کے اثرو رسوخ کی وجہ سے کوئی معاشی بگاڑ نہ پیدا ہو۔ لیکن اس معاملے میں سارے کا سارا ملبہ میاں نواز شریف پر ڈالنے کی کوشش ہ ورہی ہے جس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ہمارے دیہات میں کوئی لڑائی ہو تو پرچہ کٹواتے ہوئے فریق مخالف کے سارے ”ٹبر“ کے نام لکھوا د یئے جاتے ہیں اور اس چکر میں بعض اوقات اصل ”بندہ “ صاف بچ جاتا ہے۔ ٹی وی سکرینوں، اخبارات کے اداریوں، کالموں اور تجزیوں کا سار ا زور ”دِکھتی ہے تو بکتی ہے“ کے اصول پر چل رہا ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی بولی بول رہا ہے، حد تو یہ ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کے لئے اپوزیشن بھی ایک نقطے پر متفق نہیں۔ عمران خان جو پینتیس پنکچر کی ” کاناپھوسی “ کے بعد کنٹینر پر ایک سو چھبیس دن تک روزانہ ایمپائرکی انگلی کے انتظار میں لن ترانیاں کرتے رہے، اب ایک بار پھروزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ لے کر رائے ونڈ کے گھیراؤ کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ حالانکہ اب تک وہ یہ فیصلہ ہی نہیں کر پائے کہ پانامہ دستاویزات کی تحقیقات سپریم کورٹ سے کرانی ہیں یا شعیب سڈل سے، رات کو جیسی پھونک کوئی کان میں مار دیتا ہے صبح ویسا ہی بیان داغ دیتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی باہمی لڑائی کی وجہ سے ذہنی خلفشار کا شکا رہیں شاید  اس لیے۔ کوئی خان کو بتائے کہ رہنما سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں اور پھر اس پر قائم رہتے ہیں۔ لیکن قائد اعظم جیسی دانش !…

اب اسے ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

تحریک انصاف اور عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی صورت ایوان اقتدار اس کے ہتھے چڑھ جائے، (خاکسار کی رائے میں جس کا دور دور تک ابھی کوئی امکان نہیں)، کچھ بعید نہیں کہ عمران خان کل کو یہ مطالبہ بھی کردیں کہ وزیراعظم ہاؤس چونکہ عوام کے پیسوں سے بنا ہے اس لیے وہاں میرے رہنے کے انتظامات بھی کئے جائیں کیونکہ میں نے اتنے لاکھ ووٹ لئے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ کچھ اور کہہ رہے ہیں لیکن اعتزاز احسن قانونی موشگافیوں سے اپنے تئیں وزیراعظم کو مجرم ثابت کر کے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپنی طرز کی ورسٹائل خطیب شازیہ مری بھی وزیراعظم کے استعفے سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہیں۔ رہی جماعت اسلامی اور ایم کیوایم تو ان بیچاروں کے مسائل ہی اور ہیں جبکہ جے یو آئی کے سربراہ اپنی تاریخ کی روشنی میں حکومت مخالف سوچ کو”آئین کے تناظر“ میں حرام سمجھتے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ اپوزیشن بنچوں سے پانامہ دستاویزات کی سنجیدہ، آزاد اور شفاف تحقیقات کے لئے کوئی مشترکہ موقف اب تک سامنے نہیں آیا۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جب حکومت معاملے کی تحقیقات پر راضی ہے تو ساری اپوزیشن کو متحد ہوکر حکومت کو ایک ایسے بااختیار تحقیقاتی کمیشن کے قیام اور اس کے قواعد وضوابط طے کرنے پر مجبور کردینا چاہیے جو پانامہ دستاویزات میں سامنے آنے والے تمام پاکستانی ناموں سے متعلق آ ف شور کمپنیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیق کرے لیکن مجھے خدشہ ہے کہ ایسا ہو نہیں پائے گا شاید اس لئے کہ بقول محمود خان اچکزئی اس حمام کے بارے میں سب ہی جانتے ہیں۔

دوسری طرف عالمی منظر نامہ دیکھا جائے تو پاکستان کی ہرمشکل میں کام آنے والے سعودی عرب سے بھارت کی دوستی اور تجارتی تعلقات تاریخ کی نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ یہ صورت حال ان دانشوروں کی عقل پر ماتم کےلئے کافی ہے جو سعودی عرب کو ”برادرمسلم ملک “ قرارد یتے ہیں۔ ایک اور ”برادرملک“ ایران بھی ہے جس کے ساحلی شہر چاہ بہار سے ”را“ کا حاضر سروس اعلیٰ افسر پاکستان میں دوستی کے تحفے ارسال کر رہا تھا۔ اسی گرفتاری کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان امن عمل ” ایک بار پھر“ معطل ہو چکا ہے۔

لے دے کے ایک چین ہے جو خطے میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے لیکن ہم صورت حال کو سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں۔ گیارہ اپریل پیر کے دن عالمی بنک کی تازہ ترین معاشی رپورٹ ” ساؤتھ ایشیا اکنامک فوکس“ میں جنوبی ایشیا کو تیز ترین معاشی ترقی کرنے والا خطہ قراردیا گیا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ پاکستان سمیت خطے کے دوسرے ملکوں میں اضافی سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے استحکام کو قرار دیا گیا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں اضافی سرمایہ کاری چین کر رہا ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف اور چینی قیادت کی مشترکہ بصیرت سے پاک چین اقتصادی راہداری اورمیری ٹائم سلک روٹ کا جو عظیم منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوششیں ہورہی ہیں بہت سے طاقتیں ا س منصوبے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اس مرحلے پر پانامہ دستاویزات کا منظر عام پر آنا بہت سے شکوک و شبہا ت کو جنم دیتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “پانامہ دستاویزات کا تھیٹر

  • 22-04-2016 at 1:59 pm
    Permalink

    کالم نگار کی بہت سی باتوں سے اتفاق کرنا پڑے گا لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ وزیر اعظم اور بہت سے دوسرے اہم عہدوں کی توقیر پہلے سے نہیں رہی۔ یہہ بھی حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کے کرتوتوں ہی کی بدولت ہے۔ یہ درست بات ہے کہ جس جس پر حرف آیا ہے سب پر بات ہونی چاہیے اور اصل حقائق عوام تک آنے چاہیں لیکن جو روایات یہاں قدیم سے چلی آتی ہے کہ کیچڑ اچھالوں، سیاست جمکاؤ۔۔۔؛ سو اب بھی یہی ہو رہا ہے۔ اب کے بھی یہ معاملہ منطقی انجام تک پہنچتا دیکھائی نہیں دیتا

Comments are closed.