جو بولے سو نہال ……..


editرہے نام اللہ کا! جس قدر اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ اس قوم کے لیڈروں نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی آواز میں آواز ملانے کے لئے کیا ہے، پاکستان تو کیا کئی ملکوں کی تاریخ اور ادوار میں اس کی مثال تلاش کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ وزیر دفاع سے لے کر وزیر اطلاعات، باغی لیڈر عمران خان سے لے کر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ تک نے نہایت فراخدلی اور مستقل مزاجی سے جنرل کی ہاں میں ہاں میں ملائی ہے اور یہ قرار دیا ہے کہ آرمی چیف کا بیان تو دراصل ہمارا منشور اور نصب العین ہے۔ کل جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ ملک میں سب کا بلاتخصیص احتساب ہونا چاہئے۔ اسی طرح ملک کی یکجہتی، سالمیت اور خوشحالی کا تحفظ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے کرپشن اور بدعنوانی کا خاتمہ ضروری ہے اور فوج ایسی کسی بھی بامقصد کوشش کا بھرپور ساتھ دے گی۔ جنرل راحیل شریف کا بیان آنے کے بعد سیاستدانوں نے اس پر آمین کہنے کے لئے یوں تیزی دکھائی گویا بیان نہ دینے والے لیڈر کا حشر اس طالب علم جیسا ہو گا جسے استاد لیٹ آنے کی صورت میں مرغا بنا دیتے تھے۔

آمین کی ان صداﺅں میں یہ تلاش کرنے کی کوشش بے سود ہے کہ کوئی شخص تو یہ کہے کہ جنرل صاحب آپ کا فرمایا ہوا درست مگر یہ آپ کا مقام نہیں ہے۔ آپ کسی اعلیٰ اخلاقی یا معاشرتی قدر و اصول کے لئے سیاستدانوں اور ملک کی جمہوری قیادت کی رہنمائی کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ یوں بھی جو مشورہ آپ 2016 میں دے رہے ہیں، اس کی عملی شکل یہ قوم اس سے قبل چار مرتبہ دیکھ چکی ہے اور طویل مدت تک ان کے اثرات کا شکار رہی ہے۔ بلکہ کسی نہ کسی طور اب تک ان غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے جو ان اصلاح پسندوں سے سرزد ہوئی تھیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ آپ نے یہ مشورہ دیتے ہوئے وہ طریقہ اختیار کرنے کی کوشش نہیں کی جو آپ کے پیشرو میرے عزیز ہموطنو …….. کے نام سے شروع ہونے والی تقریر کے ذریعے کرتے رہے ہیں۔

وہ ایوب خان ہوں یا یحییٰ خان، ضیاءالحق ہوں یا پرویز مشرف، سب نے اس عزم اور اعلان کے ساتھ آئین کو پامال اور جمہوریت کو روندنے کا اقدام کیا تھا کہ سیاستدان بدعنوان ہیں اور ملک ان کے ہاتھوں تباہی کے کنارے پہنچ چکا ہے۔ آپ کی باتیں حق بجانب ہونے کے باوجود مبہم ہیں اور سانپ کی ڈسی قوم رسی سے ڈرتی ہے، دودھ کی جلی قوم چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پینے پر مجبور ہے۔ یعنی بدعنوانی ایک ایسی اصطلاح ہے جس کی تعریف جب آپ کر رہے ہوتے ہیں تو آمنا صدقنا کے نعرے بلند ہوتے ہیں لیکن جب یہ لفظ سیاست دانوں کی زبان سے ادا ہوتا ہے تو ہشت پا کی طرح اس کے نئے نئے رموز و معانی سامنے آنے لگتے ہیں۔ پھر یہ ایک ایسا حمام ہے جس میں تقریباً سبھی ننگے ہیں۔ یوں تو حمام میں سب ہی کو کپڑے اتارنا پڑتے ہیں لیکن جو اپنی گدڑی اتار کر شاہانہ پوشاک پر ہاتھ مارنے کے لئے حمام کا رخ کرتا ہے، اس کی نیت پر شبہ لازم ہے۔

کرپشن کا خاتمہ بے حد ضروری ہے۔ اس کا تعلق ملک کی سلامتی اور استحکام سے بھی مسلمہ ہے۔ یہ بھی تسلیم کہ دہشت گردوں کی گردن ماپنے کے لئے ان ناجائز وسائل کا سلسلہ بند کرنا ضروری ہے جو اختیار کے غلط اور بے جا استعمال سے حاصل کئے جاتے ہیں۔ پھر ان کے تحفظ اور اضافہ کے لئے کبھی کسی چھوٹو کی ضرورت ہوتی ہے اور کبھی کسی ایسے ٹولے کی جو بھلے فرقہ اور اختلاف کی بنیاد پر انسانوں کو ہلاک کرتا ہو لیکن اس کا وجود بدعنوان لیڈروں اور سرمایہ داروں کے لئے بعض صورتوں میں نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ بدعنوانی کی ایک شکل چھوٹے دفتر کے بابو سے لے کر بڑے دفتر کے صاحب کی ضرورتوں کی صورت میں بھی سامنے آتی ہے اور جنہیں پورا کئے بغیر عام آدمی نہ جی سکتا اور نہ ہی اسے مرنے کی اجازت ملتی ہے۔

لیکن کیا کرپشن صرف رشوت لینا اور ہیرا پھیری سے سرکاری املاک کا سودا کرنا ہے؟ بلکہ ایسے بعض بڑے سودے کرنے والوں کو تو محسن قوم قرار دینے میں کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ ملک میں جس وقت وزیراعظم کے صاحبزادگان اور صاحبزادی کی آف شور کمپنیوں کے بارے میں ہنگامہ ہو رہا ہے، عین اسی بیچ اس ملک کے معتبر انگریزی اخبار ڈان میں بحریہ ٹاﺅن کراچی کی طرف سے غیر قانونی طریقے سے ہزاروں ایکڑ اراضی پر قبضہ کرنے اور ان دیہات اور گوٹھ میں صدیوں سے آباد لوگوں کو پولیس اور انتظامیہ کے علاوہ سیاسی لیڈروں کے رسوخ کے سبب بے گھر کرنے کی تفصیلات شائع ہوئی ہیں۔ لیکن نہ تو ملک میں بدعنوانی ختم کر کے انصاف عام کرنے کے علمبردار عمران خان اپنا دھرنا لے کر ملک ریاض کے گھر یا دفتر کا رخ کریں گے اور نہ ہی آپ کا اشارہ اس قسم کی بدعنوانی کی طرف ہو گا جو اس سماج کے گلے سڑے ڈھانچے میں کسی بدروح کی طرح اپنا مسکن بنا چکی ہے۔ اور اسے چیلنج کرنے کی نوبت یوں نہیں آتی کہ بہتی گنگا کے اس سیلاب میں ہر شخص اور ادارہ بقدر جثہ ڈبکی لگانے اور حصہ وصول کرنے میں مصروف ہے۔

دس برس تک فوج کی کمان اور 8 برس تک ملک پر حکومت کرنے والے پرویز مشرف کو آئین سے غداری کے علاوہ بے نظیر بھٹو اور لال مسجد کے رشید غازی کے قتل کے مقدمات کا سامنا ہے۔ لیکن سپریم کورٹ کو اس بات پر اعتراض نہیں تھا کہ وہ ملک سے باہر سفر کریں۔ حکومت بھی چوبیس گھنٹے سے زیادہ سپریم کورٹ کے اس حکم پر عملدرآمد موخر یا معطل نہیں کر سکی اور علاج کا نام لے کر ملک سے روانہ ہونے والے ریٹائر جرنیل نے دوبئی پہنچتے ہی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔ شاید یہ طریقہ کار اس نظام کا حصہ ہے اس لئے اسے کرپشن یا زور زبردستی یا قانون سے کھلواڑ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس ملک کے معصوم اور بے خبر لوگ بس یہ سوچتے ہیں کہ کیا متحرک اور مستعد آئی ایس پی آر اس بارے میں بھی کوئی بیان یا ٹویٹ جاری کر سکتا ہے کہ فوج بطور ادارہ کسی شخص کی قانون شکنی کا تحفظ نہیں کر سکتی۔ نہ ہی پرویز مشرف کے معاملہ سے فوج کا کوئی لینا دینا ہے۔ انہوں نے جو کیا اور ان کے ساتھ جو ہوا، وہ ان کی اپنی ذمہ داری ہے یا انہیں آزاد کرنے والے اس کے سزاوار ہیں۔ فوج ایک ادارے کے طور پر بدعنوانی اور قانون شکنی کو مسترد کرتی ہے۔ ضرور کرتی ہے لیکن پرویز مشرف جیسے معاملات میں اس کا اعلان نہیں کر پاتی۔ اس لئے لوگ یہ جاننے اور سمجھنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ فوج اپنے سابقہ آرمی چیف کی توہین برداشت نہیں کر سکتی۔ یہاں بدعنوانی کی طرح توہین کی بھی ازسر نو تشریح کرنے کی ضرورت ہے۔ کہ قانون کے سامنے جوابدہی کا عمل توہین کے زمرے میں نہیں آتا۔

اب خصوصی عدالت چلاّ رہی ہے: ” ہمارا ملزم کہاں ہے“۔ یعنی سولہ اور سترہ مارچ کو جب پوری دنیا یہ جان اور سمجھ رہی تھی کہ سپریم کورٹ کی اجازت کے بعد پرویز مشرف اڑن چھو ہونے والے ہیں تو اس خصوصی عدالت کے جج مطمئن تھے کہ پیشی کی تاریخ تو 31 مارچ ہے۔ اس وقت تک تو خود کو بہادر کمانڈو کہلوانے والا جنرل پرویز مشرف حاضری کے لئے واپس آ جائے گا۔ کیا ججوں کا یہ سوچنا لاتعلقی ہے یا قومی اور عدالتی فریضہ سے غفلت اور بدعنوانی ہے۔ اور اب ضامن کے 25 لاکھ روپے ضبط کر لینا اور پرویز مشرف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنا …….. اپنی کوتاہی پر پردہ ڈالنے کی بھونڈی کوشش ہے۔ بعض لوگ تو اسے بھی کرپشن سمجھتے ہوں گے۔ ایک کرپشن یہ بھی ہے کہ ملک کی ایک عدالت نے ایک شخص کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہوئے تھے لیکن بار بار یاد دہانی اور جج کی پھٹکار کے باوجود ملک بھر کی پولیس یہ نہ جان سکی کہ پرویز مشرف کہاں ہیں اور اس طرح عدالت کی مرضی و منشا کے مطابق سابق صدر، سابق آرمی چیف اور سابق مرد آہن اور موجودہ مفرور کو گرفتار کرکے حاضر کر سکتی۔ یا وہ وزیر داخلہ بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہے جس نے یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی سپریم کورٹ کی آڑ لے کر آئین توڑنے جیسے سنگین جرم میں ملوث اور قتل کے الزام میں مطلوب شخص کو ملک سے باہر جانے کا پروانہ جاری کیا۔

بدعنوانی کی بہت سی جہتیں ہیں۔ سب سے بڑی کرپشن اور قانون شکنی یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص صرف اس چیز کو غلط مانے جو اس کے نزدیک گناہ ہو، باقی معاملات کو آسانی سے نظر انداز کر دیا جائے۔ کرپشن یہ بھی ہے کہ اختیارات سے تجاوز کیا جائے اور جوابدہی سے انکار کیا جائے۔ بدعنوانی یہ بھی ہے کہ عوام کا ووٹ لے کر ان کا بھروسہ قائم نہ رکھا جائے۔ ان کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے کام کرنے کی بجائے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے عہدے یا پوزیشن کا فائدہ اٹھایا جائے۔ ہم اندھوں کے ہاتھ لگے ہاتھی کی طرح …….. صرف اس اس چیز کو کرپشن کہتے ہیں جو ہمارے ہاتھ آتی ہے۔ جان لینا ہو گا کہ یہ تو ہاتھی ہے بلکہ یہ ایک ایسا عفریت ہے جس نے معاشرے کو نیچے سے اوپر تک اپنے پنجوں میں جکڑا ہوا ہے۔ اس کی کون کون سی جڑ کاٹیں گے۔

آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کرنے والا کمیشن کیسے یہ کام کرے گا۔ عمران خان پر شوکت خانم ٹرسٹ کے روپے غلط جگہ انویسٹ کرنے پر طعن زنی کر کے کب تک بدعنوانی کا گلا دبایا جا سکے گا۔ ہم تو جانتے ہی نہیں کہ کرپشن کیا ہے۔ اسے ختم کرنے کی بات تو بعد میں آئے گی۔ کیا کم تولنا، بجلی چوری کرنا، رشوت لینا اور دینا، ملاوٹ کرنا، خبر کی غلط رپورٹنگ کرنا، ظلم ہوتے دیکھنا اور اس پر احتجاج نہ کرنا، قانون شکنی کو برداشت کرنا ………… کون کون سی بات کا ذکر کیا جائے۔ کیا یہ طے کر لیا جائے کہ آف شور بزنس کی اونچ نیچ سمجھنے سے پہلے ایک کمیشن بدعنوانی اور کرپشن کی پہچان کرنے کے لئے قائم ہو جائے۔

یہ قوم کچھ تو کر ہی لے گی۔ لیکن جنرل صاحب، آپ سات ماہ بعد ریٹائر ہو کر گھر جانے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اگر آپ کرپشن کے خاتمے کی باتیں کرنے لگے تو آپ کی تائید میں تحسین و آفرین کے ڈونگرے برسانے والے سارے لوگ، ان سات ماہ بعد اپنے ہر جرم اور ہر غلطی کا بوجھ آپ پر لاد دیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

3 thoughts on “جو بولے سو نہال ……..

  • 21-04-2016 at 9:43 am
    Permalink

    آپ ہمیشہ وہ لکهتے ہیں جو میرے دل کی ہوتی ہے.

  • 21-04-2016 at 11:06 am
    Permalink

    واپڈا کے چیف نے کہا ہے، کہ ہر ایک کا بلا روک ٹوک احتساب ہونا چاہیے. یہی بات ریل ویز کے چیئر مین نے بهی یونین کو پیام دیتے کہی. ادهر آئی جی سنده اور پنجاب نے بهی کچه ایسا ہی بیان جاری کیا ہے. افسوس کا مقام ہے کہ اخباری صنعت سے وابستہ کارکنان نے ان معتبر اداروں کے بیان پہ کوئی توجہ نہیں دی. نا ہی اپوزیشن نے ان بیانات کو سنجیدگی سے لیا ہے.

    بیان بازی کا یہ سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا. ملک ریاض نے پریس کانفرینس کرتے مطالبہ کیا کہ ریاست کو بچانا ہے تو احتساب کے سوا کوئی چارہ نہیں. چارے کا ذکر آیا، تو اخبارات نے اس کانفرنس کا احوال، بحریہ ٹاون کے اشتہار کے عین اوپر چسپاں کیا. ایک بے چارہ صحافی بحریہ ٹاون کے بارے میں حالیہ خبروں پہ سوال کرنے لگا، تو ملک صاحب نے کہا، احتساب اوپر سے شروع کرنا چاہیے. اوپر تو اللہ ہی ہے.

    محکمہ انہار کے چیف کیسے چپ رہ سکتے تهے. انهوں نے بهی کہا، احتساب ایسا ہو، کہ دووه کا دوده پانی کا پانی ہو جاے. اس قسم کے بیانات پہ قومی احتساب بیورو کے سربراہ نے واضح الفاظ میں کہا، احتساب کرنا ہمارا کام ہے، دیگر سرکاری محکمے اپنے اداروں کی کارکر دگی بہ تر کریں. اگر ہم واقعی احتساب کرنے لگے، تو آپ ہی نے رونا ہے. تس پہ ایک محکمے کے بڑے نے کہا، سب سے پہلے نیب ہی کا احتساب کیا جاوے.

  • 21-04-2016 at 11:11 am
    Permalink

    واپڈا کے چیف نے کہا ہے، کہ ہر ایک کا بلا روک ٹوک احتساب ہونا چاہیے. یہی بات ریل ویز کے چیئر مین نے بهی یونین کو پیام دیتے کہی. ادهر آئی جی سنده اور پنجاب نے بهی کچه ایسا ہی بیان جاری کیا ہے. افسوس کا مقام ہے کہ اخباری صنعت سے وابستہ کارکنان نے ان معتبر اداروں کے بیان پہ کوئی توجہ نہیں دی. نا ہی اپوزیشن نے ان بیانات کو سنجیدگی سے لیا ہے.

    بیان بازی کا یہ سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا. ملک ریاض نے پریس کانفرینس کرتے مطالبہ کیا کہ ریاست کو بچانا ہے تو احتساب کے سوا کوئی چارہ نہیں. چارے کا ذکر آیا، تو اخبارات نے اس کانفرنس کا احوال، بحریہ ٹاون کے اشتہار کے عین اوپر چسپاں کیا. ایک بے چارہ صحافی بحریہ ٹاون کے بارے میں حالیہ خبروں پہ سوال کرنے لگا، تو ملک صاحب نے کہا، احتساب اوپر سے شروع کرنا چاہیے. اوپر تو اللہ ہی ہے.

    محکمہ انہار کے چیف کیسے چپ رہ سکتے تهے. انهوں نے بهی کہا، احتساب ایسا ہو، کہ دووه کا دوده پانی کا پانی ہو جاے. اس قسم کے بیانات پہ قومی احتساب بیورو کے سربراہ نے واضح الفاظ میں کہا، احتساب کرنا ہمارا کام ہے، دیگر سرکاری محکمے اپنے اداروں کی کارکر دگی بہ تر کریں. اگر ہم واقعی احتساب کرنے لگے، تو آپ ہی نے رونا ہے. تس پہ ایک محکمے کے بڑے نے کہا، سب سے پہلے نیب ہی کا احتساب کیا جاوے.
    (سیل فون پہ ٹائپنگ کے مسائل ہیں. بہی اور بهی کو قبول کریں.)
    🙂

Comments are closed.