احمدیوں کی “جنت دوزخ” میں ابھی کچھ جگہ باقی ہے؟


تقریباً بائیس سو اکسٹھ مربع میل پر پھیلا ہوا پاکستان کا تیسرا بڑا شہر اور ضلع فیصل آباد میری جائے پیدائش ہے۔ فیصل آباد کی وجہ شہرت میری جائے پیدائش ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا ایک بڑا کاروباری شہر ہونا بھی ہے۔ اس شہر میں کپڑا بنانے کے سب سے زیادہ کارخانے موجود ہیں جو کبھی دن رات چلتے تھے مگر اب نہ جانے کیوں مرجھائے مرجھائے سے رہتے ہیں۔

فیصل آباد کو 1979 میں کلمہ پڑھوا کر اسلام قبول کروا دیا گیا تھا۔ اہالیان شہر آج تک اس شہر کی رسم ختنہ ادا کرتے چلے آ رہے ہیں۔ قبل از ہدایت اس شہر کا پرانا نام لیال پور یا لائل پور تھا۔ اس شہر کی بنیاد 1880 میں پنجاب کے اس وقت کے لیفٹیننٹ گورنر سر جیمز براڈ ووڈ لیال نے رکھی تھی۔ سر جیمز براڈ۔ووڈ لیال کے نام پر ہی اس شہر کا نام لیال پور یا لائل پور رکھا گیا تھا۔

فیصل آباد سے شمال کی جانب لگ بھگ نوے کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستان کا گیارہواں بڑا شہر سرگودھا واقع ہے۔ فیصل آباد کو سرگودھا سے ملانے والی سڑک سرگودھا۔فیصل آباد روڈ کہلاتی ہے۔ فیصل آباد سے اس سڑک پر سرگودھا کی جانب سفر کریں تو لگ بھگ تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک تاریخی شہر چنیوٹ آتا ہے۔ اس شہر کی وجہ شہرت لکڑی کا شاندار فرنیچر بھی ہے۔ چنیوٹی فرنیچر پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی اپنا ایک نام رکھتا ہے۔ شہر اور اب ضلع چنیوٹ دریائے چناب کے کنارے واقع ہے۔ فیصل آباد سے سرگودھا جانے والوں کو یہ دریا عبور کرنا پڑتا ہے۔ اس دریا پر انگریزوں کی نشانی لوہے کے دو پل ہیں جو دریائے چناب کے دو آبے کے اوپر تعمیر کیے گئے تھے۔ کسی زمانے میں ان پلوں کے اوپر والے حصے سے سڑک اور نچلے حصے سے ریل گذرتی تھی۔ اب صرف ریل گذرتی ہے۔ ان پلوں کے متوازی 1992 میں ایک نیا اور طویل پل تعمیر کیا گیا تھا جو گاڑیوں وغیرہ کی آمدورفت کے لیے مخصوص ہے۔

جہاں یہ پل ختم ہوتا ہے عین اسی جگہ سے پاکستان کے آئینی غیر مسلموں یعنی احمدیوں کا علاقہ شروع ہوتا ہے۔ سرکاری طور پر اس علاقے کا نام چناب نگر ہے۔ مگر اس علاقے کے رہائشی چناب نگر کے بجائے اس علاقے کو ربوہ کہتے ہیں۔ ربوہ کا مطلب اونچی جگہ ہے۔ یہ علاقہ خشک پہاڑیوں میں گھرا ہوا ہے اور ارد گرد کے علاقوں سے نسبتاً اونچا ہے۔ یہیں پر آئینی غیر مسلموں کے مشہور زمانہ  “جنت دوزخ” قبرستان بھی واقع ہیں۔

جوں جوں سڑک آگے بڑھتی ہے توں توں اطراف میں درخت اور پودے نظر آنا شروع ہوتے ہیں۔ کسی زمانے میں یہ جگہ بے برگ وبار تھی۔ یہاں کی زمین کلر زدہ تھی جس کی وجہ سے یہاں پر سبزہ اگانا ناممکنات میں سے سمجھا جاتا تھا۔ مگر پچاس برس کی مسلسل کوششوں سے اب یہ علاقہ سر سبز و شاداب دکھائی دیتا ہے۔ دریائے چناب عبور کر کے جب سرگودھا کے طرف بڑھیں تو تقریبا دو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مختصر سا پہاڑی درہ آتا ہے۔ سڑک بل کھاتی ہوئی اس پہاڑی درے پر سے گذرتی ہے اور جوں ہی سڑک سیدھی ہوتی ہے نگاہیں دائیں طرف بل کھا جاتی ہیں۔ ایک وسیع و عریض قبرستان پر نظر پڑتی ہے جس میں دور دور تک بے شمار قبریں موجود ہیں۔

ان قبروں میں ہر کچھ عرصہ کے بعد کچھ ایسی قبروں کا اضافہ ہو جاتا ہے جن کے آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیئے گئے مکین اپنی طبعی موت نہیں مرتے بلکہ آئینی کلمہ گو ان کے بوجھ سے پاک دھرتی کو پاک کر دیتے ہیں۔ آج سے آٹھ برس قبل 28 مئی 2010 کو اس قبرستان میں ایک ہی دن میں چھیانوے قبروں کا اضافہ ہوا تھا۔ اس دن سے پہلے اور اس دن کے بعد بھی ایسا اضافہ رکا نہیں بلکہ جاری ہے۔ آئینی کلمہ گو اس قبرستان کو دوزخ سمجھتے ہیں اور گاہے بگاہے اپنے تئیں آئینی غیر مسلموں کو دوزخ کے پروانے تھما کر اپنے لیے جنت کا ٹکٹ پکا کر لیتے ہیں۔

1948  میں اس شہر کے قیام سے لے کر اب تک یہ قبرستان مکمل طور پر نہیں بھر سکا۔ آج سے تیس سال پہلے تک اس میں بہت ساری جگہ خالی تھی تاہم اب اس قبرستان کا غالب رقبہ آباد ہو چکا ہے۔ گذشتہ ہفتے میرا گذر وہاں سے ہوا جب ہمارے خاندان میں اوپر تلے دو قریبی عزیزوں کی وفات ہو گئی۔ وہاں سے گذرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ اس وسیع و عریض قبرستان میں ابھی کچھ جگہ خالی ہے۔ مگر مجھے امید ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مولانا خادم رضوی، کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر اور ان جیسے بے شمار مجاہدین کی خلوص نیت سے کی جانے والی کاوشوں کی بدولت یہ خالی جگہ بھی بہت جلد بھر جائے گی۔

غالباً اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ طبعی موت مرنا بھی ہر انسان کا آئینی حق ہے۔ المیہ مگر یہ ہے کہ آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیئے جانے والی اس اقلیت سے محض ان کے عقیدے کی بنیاد پر دیگر حقوق کے ساتھ ساتھ طبعی موت مرنے کا حق بھی اکثر چھین لیا جاتا ہے۔ کیا ہم صرف اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ ان لوگوں کو طبعی موت مرنے کا حق دے دیں؟

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 70 posts and counting.See all posts by awais-ahmad