ایران کا جوہری معاہدہ: صدر ٹرمپ کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

جوناتھن مارکس - تـجزیہ نگار، دفاعی و سفارتی امور


Trump / Rouhani

EPA
ٹرمپ نے امریکہ کی سفارت کاری کو اس کے بعض قریبی اتحادیوں سے تصادم کے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قلم کی ایک ہی جنبش سے اس معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے جو چاہے اچھا تھا یا برا لیکن ایران کو اس کے جوہری عزائم سے باز رکھے ہوئے تھا۔

انھوں نے اس معاہدے کی حامیوں کو نشانہ بنایا۔

تاہم انھوں نے اس کی جگہ کوئی دوسری پالیسی پیش نہیں کی۔ انھوں نے امریکہ کی سفارت کاری کو اس کے بعض قریبی اتحادیوں سے تصادم کے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

اسی بارے میں

ہم چین اور روس سے مشاورت کریں گے: ایرانی صدر

’جوہری معاہدے سے نکل رہے ہیں، ایران پر پابندیاں لگیں گی‘

’ایران جوہری معاہدے کو ختم کرنے سے جنگ کا خطرہ‘

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں ایک تباہ کن علاقائی جنگ کو مزید قریب لے آئے ہیں۔

2015 میں طے پانے والا ایران کا جوہری معاہدہ ابھی مرا نہیں تاہم یہ آخری دموں پر ہے اب سب کچھ ایران کے ردِعمل پر منحصر ہے۔

Iranian President Hassan Rouhani. File photo

Reuters
صدر روحانی کو ملک کے اندر سخت گیروں کی سخت مخالفت کا سامنا ہے

ایران صدر حسن روحانی اس معاہدے کے بڑے حامی تھے۔ وہ یوری ممالک کے ساتھ بات کر کے اسے باقی رکھنے کے راستے تلاش کرنے کے حامی دکھائی دیتے ہیں۔

لیکن انھیں ملک کے اندر سخت گیروں کی سخت مخالفت کا سامنا ہے جو نہ صرف اس جوہری معاہدے کا خاتمہ چاہتے ہیں بلکہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے بھی دستبرداری کے خواہشمند ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے بظاہر اپنے ایرانی ہم منصب کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی ہے۔

ایک نامکمل معاہدہ جو کام کر رہا تھا

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہم کس بارے میں بات کر رہے ہیں۔

ایران کا جوہری معاہدہ بے شک متنازع تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل اس کی مخالفت کرتے رہے جس کی بظاہر اس کے علاوہ کوئی اور منطق نہیں تھی کہ یہ سابق صدر نے طے کیا تھا۔

یہ معاہدہ بہترین نہیں تھا۔ یہ ایران کی تمام تر پریشان کن سرگرمیوں کا احاطہ نہیں کرتا تھا جس میں اس کا میزائل پروگرام اور علاقائی رویّہ شامل تھا۔

اس نے اس چیز کا احاطہ کیا جس کی اس میں بات ہوئی یعنی ایران کا نفیس اور متاثر کن جوہری پروگرام۔ اس میں ایران کے جوہری پروگرام پر تمام طرح کی پابندیاں عائد کیں اور تصدیق کا نظام وضح کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جائے کہ ایران اپنے وعدہ پر عمل پیرا ہے یا نہیں۔

ان میں سے کچھ پابندیاں وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جائیں گے۔ یعنی اچھی بات کو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ معاہدہ ایران کو اس مقام تک پہچنے سے روکتا ہے جہاں سے آگے وہ جب چاہے جوہری بم بنا سکے۔

اور بری بات یہ کہ ممکنہ بحران میں محض تاخیر کر رہا ہے۔ یعنی یہ معاہدہ نہ ہوتا تو ایران اور اسرائیل میں جنگ کا خطرہ تھا اس لیے یہ اتنا برا نہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے تکلیف دہ سچ تو یہ ہے کہ جب تک یہ تھا تو جوہری معاہدہ کام تو کر رہا تھا۔

معاہدے میں شامل دیگر ممالک کا خیال ہے کہ ایران معاہدے کی شرائط پر پورا اتر رہا ہے۔ اور عالمی جوہری ادارہ آئی اے ای اے بھی ایسا ہی سمجھتا ہے۔

حتٰی کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اہم ارکان بھی خاص طور پر نئے وزیر خارجہ مائیک پوم پےاو اور نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر ڈین کوٹس۔

اس کے باجود ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری معاہدے کی مذمت کی کیونکہ ان کے بقول اس میں بہت سی چیزیں موجود نہیں تھیں جنھیں پہلے ہی دیکھا جانا چاہیے تھا۔

تو اب ہم یہاں سے کہاں جائیں گے؟

آگے خطرناک راستہ

اب تہران میں ایک لڑائی جاری ہے جس میں جیتنے والا یہ فیصلہ کرے گا کہ یہ معاہدہ بچے گا یا نہیں۔

اگر اعتدال پسند حاوی ہوتے ہیں تو یورپی ممالک اس میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اس میں جو چیز داؤ پر ہے وہ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں نہیں بلکہ اضافی پابندیاں ہیں جو غیر امریکی عالمی کمپنیوں کو تہران کے ساتھ کام کرنے سے روکتی ہیں۔

From left to right: French President Emmanuel Macron, UK Prime Minister Theresa May and German Chancellor Angela Merkel. File photo

AFP
امریکہ، یورپ اور نیٹوں جہاں پہلے ہی روس کے جارحانہ موقف کی وجہ سے پریشان ہیں اس کی وجہ سے مزید کشیدگی بڑھے گی

صدر ٹرمپ کے اس فیصلے سے یورپی واصخ طور پر خوفزدہ ہیں۔ وہ بظاہر اس معاہدے سے منسلک رہنا چاہتے ہیں۔

لیکن ہم ایک بے مثال صورتحال سے دوچار ہیں جس کے خطرناک نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر ایران کا جوہری معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے تو ایران پھر سے جوہری سرگرمیاں شروع کر دہے گا، پھر کیا ہو گا؟

امریکہ، یورپ اور نیٹو جہاں پہلے ہی روس کے جارحانہ موقف کی وجہ سے پریشان ہیں اس کی وجہ سے مزید کشیدگی بڑھے گی اور خود مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ ہے۔

ایران اور اسرائیل پہلے ہی شام میں چھوٹی موٹی جھڑپوں میں ملوث ہیں اور براہ راست لڑائی کا خطرہ ہے۔

ایران پہلے ہی اپنے اتحادی اور تنصیبات پر فضائی حملوں کی وجہ سے تکلیف میں ہے اور بدلے کے لیے بے تاب ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو امریکی صدر کو یہ جوہری معاہد ختم کروانے کے لیے اکسانے والوں میں سرِ فہرست تھے۔

پلان بی کیا ہے؟

جوہری معاہدے کا لازمی جز ایران کو جوہری بم بنانے سے دور رکھنا تھا۔ اس سے یہ ہوتا کہ ایران کی جانب سے اس پابندی کو توڑے جانے کی صورت میں عالمی دباؤ بڑھانے کا وقت مل جاتا۔

لیکن اگر جوہرے معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے اور ایران اپنا جوہری پروگران دوبارہ شروع کر دیتا ہے تو؟ ایران کا جوہری بم بنا لینا سعودی عرب سمیت دوسرے ممالک کی بھی حوصلہ افزائی کرے گا کہ وہ بھی جوہری طاقتیں بنیں۔

ہم اس وقت غیر معمولی دور میں ہیں اور یہ فیصلہ 18 ماہ سے عہدے پر فائز ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا حقیقی آغاز ہے اور ناقدین کے بقول یہ فیصلہ ان کے جذبات اور چھٹی حس پر مبنی ہے ناکہ عملی حقائق کے تحت۔

حتیٰ کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے اتفاق کرنے والے بھی کئی بنیادی سوالات کے جواب کے منتظر ہیں۔

اب دوسرا راستہ یا پلان بی کیا ہے؟ اب ایران کو کیسے پابند کیا جائے گا؟ اور اس مقصد کے لیے بین الاقوامی اتفاقِ رائے کیسے حاصل کیا جائے گا؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4931 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp