یہ کرکٹ نہیں ہے۔۔۔


 shaahan rajaپاکستان کے عوام، اپنی سماجی، معاشی اور معاشرتی حالت سے قطع نظر، اپنی کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی پر افسردہ بھی ہیں اور پریشان بھی۔ وہ چاہتے ہیں کہ کرکٹ کے ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے، کیونکہ کرکٹ ان کے لئے کھیل سے بہت بڑھ کر ہے، یہ کھلاڑی اُن کے لئے ایک اوتار کا درجہ رکھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر شیدائی اپنے آپ کو کرکٹ کا ماہر بھی سمجھتا ہے اور اپنی رائے کے معاملے میں کسی بھی سمجھوتے سے عاری ہے۔ ایک حد تک یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں سے زیادہ پاکستانی عوام ہار برداشت نہیں کر سکتے

آئیے اِس تناظرمیں چند حقائق کا جائزہ لیں تاکہ کچھ سوالات کے جواب دیے جا سکیں۔

مثال کے طور پر کوچ وقار یونس اور جغادری بلے باز احمد شہزاد اور عمر اکمل کے درمیان کھٹ پٹ کا کون ذمہ دار ہے؟ یا کس کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ کوچ وقار یونس اور کپتان شاہد آفریدی کے مابین تدبیراتی مشاورت اور ہم آہنگی کے فقدان پر؟ کس نے ڈریسنگ روم کے درمیان مختلف افواہوں کو ہوا دی۔ جِس کا اثر مورال پر ہوا؟ آخر کیا وجہ ہے کہ کوچ ایک اچھے رہنما کے طور پر ٹیم کو اکٹھا نہیں رکھ سکا؟ اور کپتان کیوں اپنے تجربے کو عملی جامہ نہ پہنا سکا۔

ٹھیک ہے کہ سلیکٹرز نے ہی احمد شہزاد اور عمر اکمل کو منتخب کیا۔ دونوں زبردست بلے بازمگر لاابالی ہیں۔ سلیکٹرز میں معروف کرکٹرز کی ایک تین رکنی کمیٹی تھی جس کے سب ارکان بشمول آفریدی (سوائے وقار یونس کے) اِن دونوں یعنی احمد شہزاد اور عمر اکمل کو ٹیم میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ ایک تین رکنی کمیٹی کو کوئی دو سال پہلے پرانے چیئرمین ذکاءاشرف نے منتخب کیا تھا۔ اِ س کمیٹی میں وسیم اکرم، انتخاب عالم اور جاوید میانداد شامل تھے۔ اس فیصلے کو اُس وقت بہت پزیرائی ملی۔ تو پھر یہ بتائیے کہ کیوں نہ اِس شکست کے ذمہ دار موجودہ اور پرانے کرکٹرز کو ٹھہرایا جائے۔

اِس سے اچھی بات یہ سامنے آئی کہ لوگ پہلی بار شاہد آفریدی کو زبردست کیرئیر کے آخری دنوں میں برملا تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اب تک اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا تھا۔ اِس کے تمام کرتوت کرکٹ میں یا اس کے باہر بالکل معاف تھے۔ بلکہ آپ کو یاد ہو گا کہ پچھلے سال لوگ آفریدی کو مصباح کے مقابلے میں کپتان بنانا چاہتے تھے۔ اور جب مصباح کو باہر بٹھایا گیا تو پاکستان اگلے دونوں میچ ہار گیا مگر کسی کو جرات نہ ہوئی کہ شاہد آفریدی کے خلاف کچھ کہے۔

اب بہروپ اُتر گئے ہیں۔ انتخاب عالم کہتے ہیں کہ آفریدی کو کپتانی کی الف ب بھی نہیں آتی۔ اس طرح کے تجزیے اور کرکٹرز نے بھی دئیے ۔ ہر بندہ یہاں تک کہ چارلی کی نانی بھی اس پر متفق ہیں۔ ہمارا میڈیا بھی اس دوڑ میں شامل ہو گیا ہے۔ یہ کس کی غلطی ہے کہ آفریدی کو پہلے آسمان پر بٹھایا گیا اور پھر اس کو بے دردی سے زمین پر پٹخ دیا گیا۔

شکر ہے کہ راشد لطیف نے پچھلے اتوار کو اپنے تجزیے میں کوچ، کھلاڑیوں، کپتان اور دورے پر سلیکشن کمیٹی کے بے وقوفانہ فیصلوں کے ساتھ ساتھ غیر ضروری افواہوں جِن کو میڈیا نے ہوا دی کو شکست کی بنیادی وجوہات بتایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک لفظ بھی پاکستان کرکٹ  بورڈ کے بارے میں نہیں ہے باوجود اس کے کہ راشد لطیف پاکستان کرکٹ بورڈ کے سخت نقاد رہے ہیں۔

تو پھر پرانے کرکٹرز اور میڈیا پاکستان کرکٹ  بورڈ کے سیٹ اپ کو کیوں تبدیل کرنا چاہتے ہیں؟ کسی بھی اور ملک میں کرکٹ بورڈ کو شکست یا بُرے وقت میں ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا۔

تو پھر کچھ حقیقتیں ہمیں مان لینی چاہییں۔ چیف سلیکٹر اقبال قاسم کا یہ ماننا ہے کہ ہمارے پاس دراصل اچھا ٹیلینٹ موجود ہی نہیں رہا۔ حالانکہ میڈیا یا عمومی رائے اِس کے مختلف ہے۔ وہ کتنے صحیح ثابت ہوئے ہیں۔ اب ظہیر عباس یا ماجد خان کا زمانہ نہیں ہے۔ اس ٹیم میں اِن کے مقابل یونس اور مصباح کے علاوہ کوئی نہیں جو کہ عمران، انضمام، یوسف،وسیم، وقار، شعیب، معین یا قادر کا مقابل کر سکے۔ لیکن یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ماضی کے کھلاڑی آج کے مصباح اور یونس کی طرح آج کی ٹی 20 ٹیم کا حصہ بن سکیں۔

ہمیں مان لینا چاہیے کہ ہم ٹی 20 کرکٹ کے لیے تیار ہی نہیں تھے۔ جب برطانیہ، آسٹریلیا، انڈیا اور ساؤتھ افریقہ اِس کی تیاری کے لیے اپنے ملکوں میں اس طرز کی کرکٹ کو استوار کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ پاکستان کرکٹ  بورڈ اس وقت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہوا تھا۔ اور ابہانہ یہ بنایا جا رہا تھا کہ سری لنکن کرکٹ پر اٹیک اِس تیاری کی اجازت نہیں دیتا۔ پھر ہوا یوں کہ آج کے پاکستان کرکٹ  بورڈ کے کرتا دھرتا تشریف لے آئے باوجود اِن کے مخالفین نے مُلک سے باہر ایک نہایت ہی عمدہ اور کامیاب ٹی 20  لیگ ملک سے باہر منعقد کی جو یقیناَ مستقبل کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بجائے  اس کے کہ اس شروعات کو پذیرائی دی جائے اور انتظار کیا جائے کہ اِس کا پھل ہمیں ضرور ملے، کرکٹ بورڈ کو پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کا واحد ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے جو کہ کسی طور پر ٹھیک نہیں ہے۔ کرکٹ کی اصطلاح میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ یقیناَ کرکٹ نہیں ہے۔


Comments

FB Login Required - comments