میرا مطالعہ


کتاب سے تعلق اور دوستی مرحوم و مغفور والد محترم محمد اختر مسلمؔ کی تربیت کا فیض ہے۔ بچپن میں نونہال، ٹوٹ بٹوٹ، اشتیاق احمد اور مظہر کلیم کے ناول پڑھتے رہے۔ جوں جوں شعور بڑھتا گیا والد صاحب کے کتب خانے کی کتابیں پڑھنا شروع کردیں۔ جس میں قرآن حکیم کی تفاسیر و سیرت طیبہ ﷺ کے نسخے، دیگر دینی و ترقی پسند لٹریچر کے ساتھ ساتھ تاریخ، فلسفہ، سیاسیاست، ادب اور شاعری کا ایک قابلِ ذکر ذخیرہ موجود ہے۔ جو ہمارے لیے تمام عمر کا اثاثہ اور ان کے لیے ان شاء اللہ صدقہ جاریہ ثابت ہوگا۔ کراچی یونیورسٹی کے گیٹ نمبر ایک کے سامنے قدآور لوح پر درج علامہ اقبال کے شعر :
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تُو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں

نے بھی کتاب سے تعلق کو مزید مضبوط کیا۔ جب بھی جامعہ کراچی جاتا چند لمحے ٹھہر کر ضرورا س شعرکوپڑھتا۔ والد مرحوم میری عمر اور شعور کے لحاظ سے کوئی ایک کتاب پڑھنے کو دیتے اور جب ختم کرلیتا تو دوسری کتاب دیتے۔ لاہور منتقل ہوا تو جناب الطاف جاوید صاحب مرحوم، جاوید احمد غامدی صاحب، پروفیسر خالد ہمایوں صاحب، شوکت چوہدھری صاحب، ملک نواز اعوان صاحب اور محمود مرزا صاحب مرحوم نے اس شوق کو مہمیز کیا۔ الحمدللہ کتاب سے تعلق آج بھی اسی ذوق و شوق سے قائم ہے۔
اسی گھر میں جلایا ہے چراغ آرزو برسوں

اس میں کلام نہیں کہ علم و عمل کی بنیاد کتاب ہے۔ کتاب فکر کو نئے زاویئے فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خیالات کی تلاطم خیزیوں کو بھی سکون فراہم کرتی ہے اور اگر کتاب کے ساتھ اہل علم و دانش کی مجلس میسر آجائے کہ جس طرح طالب علم کو ہمیشہ حاصل رہی ہے تو سونے پہ سہاگہ:

میرے دونوں ہاتھ نکلے کام کے
دل کو تھاما ان کا دامن تھام کے
پروردگار عالم اپنے بندے کو ہر لمحے غور و فکر کا حکم دیتا ہے جنھیں مطالعہ سے رغبت نہیں ان کے علم و عمل کی بنیاد بھی تقلید و توارث پر ہی ہوتی ہے۔
نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق اُن کو
آنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے کور

اندھی تقلید نے ہماری مذہبی، علمی و سیاسی تاریخ میں جو ” کار ہائے نمایاں‘‘ انجام دیے ہیں، معاشرے میں جہالت، عدم برداشت اور تشدد کے رجحانات کا فروغ انھی کا مرہون منت ہے۔
جن کتابوں نے ان دنوں متوجہ کررکھا ہے، ان میں سے ایک محترم محمد ظفر اقبال کی تصنیف ” اسلام اور جدیدیت کی کش مکش‘‘ ہے۔ کتاب میں ڈاکٹر منظور احمد اور نیاز فتح پوری کے افکار پر علمی انداز میں تنقید اور سقم کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مصنف کو اپنے نقطہء نظر کی صحت پر شدت سے اصرار ہے۔ مصنف نے ڈاکٹر منظور احمد صاحب سمیت ان کی فکر سے اتفاق رکھنے والے صاحبان علم کو بھی دعوت دی ہے کہ وہ دلائل کی بنیاد پر ان کے اٹھائے گئے نکات کو رد کردیں تو انھیں اپنی رائے تبدیل کرنے میں تردد نہ ہوگا۔

ڈاکٹر حسن الامین کی کتاب Post Islamism سے تعارف ایک دانشور کالم نگار کے توسط سے ہوا۔ کتاب میں مصنف نے پاکستان میں 2014۔ 2006 کے عرصے میں پوسٹ اسلام ازم کے بعد اس خاموش فکری ارتقاء کو موضوع بناتے ہوئے 1999ء میں ہونے والے اس آغاز پر روشنی ڈالی ہے جس میں پاکستانی معاشرے میں جدید اسلام کے رستے پر چلتے ہوئے عورتوں، نوجوانوں اور غیر مسلم اقلیتوں کو سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں ہم سفر بنایا گیا ہے۔ اس عمل کو ان دانشوروں کے تعاون سے ممکن بنایا گیا جوقومی سطح کی مذہبی سیاسی جماعتوں سے وابستہ نہیں تھے۔ کتاب میں ان بنیادی سوالوں کو اٹھایا گیا ہے جو پاکستان میں جہاد، تشدد اور اقلتیوں کے حوالے سے درپیش ہیں۔

محترم فاروق عادل صاحب کی شخصی خاکوں پر مشتمل کتاب ” جو صورت نظر آئی ‘‘ بھی دلچسپ ہے۔ اس میں انہوں نے زیادہ تر مختلف سیاسی شخصیات کے بارے میں بیان کیا ہے۔ کتاب میں پہلا خاکہ بانی پاکستان محمد علی جناح کا ہے۔ عام طور پر خاکے کی تعریف میں وہی شخصیات آتی ہیں جنھیں براہ راست دیکھنے یا ملاقات کا موقع ملا ہو۔ قائد کے بارے میں ان کا مضمون خاکے کی تعریف میں تو پورا نہیں اترتا۔ لیکن ایک سچے پاکستانی کی طرح قائد سے بے پناہ محبت اور عقیدت کا مظہر ضرور ہے۔

قومی سیاست کی اہم شخصیت چودھری شجاعت حسین صاحب کی کتاب ” سچ تو یہ ہے‘‘ بھی زیر مطالعہ ہے۔ کتاب میں سیاسی واقعات کا بیان بھی ہے، اپنی صداقت و دیانت کا پر چار بھی ہے اور بدلے گئے سیاسی حلیفوں پر تاویلیں بھی۔ کتاب میں چوہدری صاحب بتاتے ہیں کہ ان والد اور بھٹو صاحب مسلم لیگ کنونشن میں ساتھ تھے اور ان کے والد صاحب ہی نے مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل کے لئے ان کا نام تجویز کیا تھا لیکن زمانے کا ستم زمانہ دیکھیں تو بھٹو صاحب ہی کے دو ر حکومت میں چوہدری ظہور الٰہی مرحوم پر بھینس چوری کا مقدمہ بنا۔ چوہدری شجاعت صاحب نے اپنی کتاب میں اپنی سیاسی زندگی کا سچ 2008ء تک بیان کیا ہے۔ بیشتر واقعا ت جیسے کہ لال مسجد کا واقعہ، اس وقت کے چیف جسٹس چوہدری افتخار کی معزولی اگر وہ اس وقت حقائق بیان کرتے اور کھل کر مخالفت کرتے تو قوم کو اس” سچ‘‘ کے لیے دس سال انتظار نہ کرنا پڑتا۔ اب بھی دس سال کا ”سچ‘‘ بیان کرنا چوہدری صاحب کے ذمہ ہے۔ غالباََ ایرانی کہاوت ہے کہ لڑائی کے بعد جو گھونسہ یاد آئے اسے اپنے ہی منہ پر مار لینا چاہیے۔

”بیتی کہانی‘‘ اردو کی اولین نسوانی خودنوشست اور تاریخ پاٹوودی کا بنیادی ماخذ ہے۔ شہربانو بیگم دختر نواب اکبر علی خان رئیس پاٹودی اس کی مصنفہ ہیں۔ خود نوشست کا مقدمہ و تعلیقات معروف محقق، ادیب اور اردو زبان کی نابغہ روزگار شخصیت جناب معین الدین عقیل صاحب کے قلم کا شاہکار ہے جس پر جامعہ کراچی نے فاضل مرتب کو ڈی لٹ کی سندِ فضیلت بھی عطا فرمائی ہے۔ مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اردو میں تخلیقی خودنوشست سوانح عمری کی مستقل روایت کا آغاز انیسویں صدی کے آخری عشروں کا واقعہ ہے۔ اس سے قبل

سفرناموں میں مصنفین واقعات و مشاہدات کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کے جستہ جستہ واقعات بھی بیان کردیا کرتے تھے۔ اس کتاب میں مصنفہ نے اپنی پیدائش 1848ء سے جنوری 1887ء تک کا احاطہ کیا ہے۔ محقق جناب معین الدین عقیل صاحب نے مخطوطے میں املاء کی غلطیوں اور محاوروں کے استعمال کی بھی نشاندہی فرمائی ہے۔ مصنفہ کا اسلوب بھی دلچسپ ہے۔ جیسے ایک جگہ بات چیت کی بجائے باتیں چیتیں لکھتی ہیں۔ کتاب کے آغاز میں لکھتی ہیں ” بوا مس فلچر میری کہانی پڑھ کر تم کیا نفع پاؤ گی، رنج و غم کھاؤ گی، اپنا جی دُکھاؤ گی اور کچھ حظ نہ اُٹھاؤ گی اور اگر ضد ہی کرتی ہو تو ایلو میں اپنی سرگذشت انتہا تک لکھے دیتی ہوں۔ ذرا خیا ل سے پڑھنا، گھبرا نہ جانا‘‘۔

کتابیں اور بھی ہیں جن کے مطالعہ کے لئے بے قراری روزگار کی مصروفیت کے باوجود عروج پر ہے کیونکہ بات پھر وہی ہے کہ۔ :
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں