متحدہ مجلس عمل کا ”سُلا بالجبر نظام‘‘


متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد میں ایم ایم اے کے ورکرزکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے، ”ہمیں حکومت ملی تو عوام سوئیں گے، حکم راں پہرہ دیں گے۔ ‘‘ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پہرہ چوروں ڈاکوؤں کے لیے ہوگا یا عوام پر؟ بھئی ہم تو یہ سُنتے آئے ہیں کہ قیادت قوم کو بیدار کرتی ہے، نہ کہ انھیں سُلادے۔ مولانا کے اس وعدے نے یہ خدشہ پیدا کردیا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کے دوراقتدار میں عوام کے ساتھ ”سُلا بالجبر‘‘ کیا جائے گا۔ ظاہر ہے سویا ہوا آدمی نہ شکوہ شکایت کرتا ہے نہ احتجاج، ہر گناہِ صغیرہ وکبیرہ سے بھی دور ہوتا ہے، البتہ خواب میں کوئی نذیراں بشیراں یا اصغری اکبری آجائے تو بندے کا کیا قصور، نیند میں نہ کھانے کی حاجت ہوتی ہے نہ پینے کی ضرورت، سفر کے لیے سڑک چاہیے نہ ٹرانسپورٹ، نہ جلسے جلوس میں شریک ہوسکتا ہے نہ دھرنا دینے کے قابل ہوتا ہے، یعنی سویا ہوا شخص ہر خواہش اور طلب سے بے گانہ اور ہر مسئلے سے بے نیاز ہوتا ہے، تو کتنے خوش نصیب ہوں گے وہ حکم راں جنھیں سوئی ہوئی اور خراٹے مارتی قوم مل جائے۔

تو اب منظر یہ ہوگا کہ مولانا سمیت مجلس عمل کے تمام قائدین، راہ نما، اراکین اسمبلی، سینیٹر، وزراء اور مشیر اپنے اپنے حصے کے عوام کو سُلارہے ہوں گے۔ ملک بھر میں سونے کے اجتماعات منعقد ہوں گے، جہاں لوگ تکیے چادریں لے کر کُھلے میدان میں جمع ہوجایا کریں گے، مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد میں ایسے ہی ایک اجتماع میں بیٹھے ہوں گے، پندرہ بیس افراد ان کے زانوؤں پر تکیہ کیے آنکھیں موندے لیٹے ہوں گے، جنھیں مولانا تھپک رہے ہوں گے، اور ٹیلی فون کے ذریعے ملک بھر کے عوام کو لہک لہک کر یہ لوریاں سُنا رہے ہوں گے:

آجا ری نندیا
اؤ پیاری نندیا
مِرے مُنے مُنی
سُلاجا ری نندیا
۔
اناں، اناں سوجا
پیاری پیاری جنتا
سبز باغوں میں کھوجا
۔

اُدھر پورے ملک میں سراج الحق، پروفیسر ساجد میر، علامہ ساجد نقوی، مولانا انس نورانی اور ایم ایم اے کے دیگر قائدین عوام کو تھپکیاں دے کر اور سر سہلا کر سُلارہے ہوں گے اور مولانا کی لوری کے سُروں سے سُر ملارہے ہوں گے۔
یہ مجلس عمل کی حکومت کا آغاز ہوگا، پھر پانچ سال عوام سوتے رہیں گے اور ایم اے اے کے حکم راں پہرہ دیتے رہیں گے کہ کہیں کوئی جاگ نہ جائے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے دوسرا وعدہ یہ کیا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کے عہد حکومت میں ہر بچے کے ہاتھ میں کتاب ہوگی۔ مگر انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کون سی کتاب ہوگی؟ کہیں یہ وہ کتاب تو نہیں ہوگی جس کے بارے میں شاعر نے کہا تھا:
کتابِ زیست کو دیکھا جو کھول کر اعجاز
ہمارے سامنے دیباچۂ مصائب تھا

دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہر بچے کے ہاتھ میں ایک الگ کتاب ہو، جس میں کسی خاص مسلک کا نصاب ہو، اور اس میں بس اپنے مسلک کے لیے ثواب اور باقی مسالک کے لیے عذاب کی وعید تحریر ہو۔ بہ ہر حال، اس بحث میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا ہے، بچوں سمیت پوری قوم سو رہی ہوگی تو کتاب پڑھے گا کون؟ کتابیں سرہانے پڑی رہیں گی اور ان کے صفحے خراٹوں کی ہوا سے پھڑپھڑاتے رہیں گے۔

مولانا نے جو تیسرا دعویٰ کیا وہ ان کے دیگر دعوؤں پر بھاری ہے۔ حضرت، پرویزمشرف سے اپنے مکالمے اور سابق صدر کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے لیے میدان میں نہ اُترنے کی درخواست کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انھوں نے جواب دیا، ”اگر بہ طور وزیراعظم میں نے یورپ کو چھے ماہ میں رام نہ کرلیا تو نہ کہنا۔ ‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا رام کرنے کے فن میں ماہر ہیں۔ کوئی ”نچ کر‘‘ یار مناتا ہے، مولانا صرف ہنس کر دشمن کو بھی منالیتے ہیں۔

مولانا کی بات سے ہمیں ”صرف تین مہینے میں انگلش سیکھیے‘‘، ”بس چند ماہ میں وزن گھٹائیے‘‘ جیسے اشتہار یاد آگئے۔ ہمارے خیال میں متحدہ مجلس عمل کے اقتدار میں آنے اور مولانا فضل الرحمٰن کے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کی صورت میں عوام عمران خان کے نئے پاکستان کو تو نہ دیکھ پائیں گے، لیکن انھیں ”نئے مولانا‘‘ ضرور مل جائیں گے۔ یہ مولانا جینز پہنے ہوں گے، جس پر رنگین ٹی شرٹ زیب تن ہوگی، اگر اس وقت تک ان کی جسامت کا کوئی گورا نہ مَرا اور اس کی اُترن ہمارے لنڈا بازار تک نہ پہنچی تو مولانا کو جینز اور ٹی شرٹ بڑی تعداد میں امریکا یا یورپ سے منگوانی پڑیں گی۔

ان نئے مولانا کے سر پر کیپ ہوگی، اور یہ حلق سے نکلتی عربی میں ڈوبی اردو کے بہ جائے فَراٹے سے انگلش بول رہے ہوں گے۔ وہ جیسے ہی یورپی دارالحکومتوں کے ہوائی اَڈوں پر قدم رکھیں گے، استقبال کے لیے آنے والے حکم رانوں کو ”ہائے بڈی‘‘ کہہ کر گلے سے لگالیں گے، کسی نے مصافحہ پر اکتفا کرنا چاہا تو زبردستی گلے پڑ جائیں گے اور جب گَلے لگ جائیں گے تو گِلے مٹ جائیں گے، اور محبت کے گُل کھل اُٹھیں گے۔ یوں چھے ماہ میں پورا یورپ رام ہوجائے گا، لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ رام رام جپنے میں مولانا کی رام کہانی مزید بدنام کہانی ہوجائے، اور ایک دن وزیراعظم مولانا فضل الرحمٰن کو یورپ سے روتے ہوئے کہنا پڑے، ”رام تیری گنگا میلی ہوگئی۔ ‘‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں