جنرل جنرل میں فرق؟

ہارون رشید - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد


دو مرتبہ غیرحاضری کے بعد بلآخر جب پرویز مشرف غداری کے مقدمے میں، میڈیا کی گہری نظروں میں چک شہزاد کے فارم ہاؤس محل سے سپریم کورٹ پیشی کے لیے روانہ ہوئے تو عدالت کے بجائے راولپنڈی کے ہسپتال جا پہنچے۔

پاکستانی فوج کے سابق فوجی سربراہ جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ آج کل اصغر خان کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں بار بار پیش ہو رہے ہیں مگر اس پر ایک سوال اٹھتا ہے جس پر نہ تو کوئی زیادہ بات ہو رہی ہے اور نہ ہی جواب میسر ہے۔

معصومانہ سوال یہ ہے کہ اگر جنرل بیگ صاحب انتہائی باادب با ملاحضہ انداز میں عدالت میں پیش ہوسکتے ہیں تو جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو ایسا کیا مسئلہ ہے؟ کیوں فوج کے مورال کو جنرل مشرف سے تو نتھی کیا جاتا ہے لیکن جنرل بیگ سے نہیں۔ کیا فوج میں بھی جنرل جنرل میں فرق ہوتا ہے؟

دو مرتبہ غیرحاضری کے بعد بلآخر جب پرویز مشرف غداری کے مقدمے میں، میڈیا کی گہری نظروں میں چک شہزاد کے فارم ہاؤس محل سے سپریم کورٹ پیشی کے لیے روانہ ہوئے تو عدالت کے بجائے راولپنڈی کے ہسپتال جا پہنچے۔

اسی لیے ان پر تیسری مرتبہ فردم جرم عائد نہ ہوسکی۔ وجہ تو خرابی صحت بتائی گئی لیکن سابق فوجی عسکری پنڈتوں نے ان کی پیشی کو فوجی مورال پر کاری ضرب کے برابر تصور کیا۔

دوسری جانب جنرل مرزا اسلم بیگ پہلے بھی، اور آج کل دوبارہ سپریم کورٹ میں بغیر کسی میڈیا ہائپ اور خرابی صحت کے، خاموشی کے ساتھ پیش ہو رہے ہیں لیکن کسی کی آدھی رات کی نیند خراب نہیں ہو رہی کہ ’فوج‘ کے مورال اور وقار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

نہ بظاہر فوج کو اور نہ ہی کسی عام آدمی کو پرواہ ہے۔ قانون کی عمل داری ویسے کتابی طور پر ایسی ہی ہونی چاہیے کہ قانون بغیر کسی خوف و خطر اپنی راہ چلتا رہے۔

خیر سوال یہ ہے کہ آخر جنرل مشرف اور جنرل بیگ میں ایسا فرق کیا ہے کہ ایک کا نام بھی آنے پر بخار اور دوسرے کو کوئی لفٹ ہی نہ۔

دونوں اپنے اپنے وقت میں کمانڈو رہے ہیں لیکن دونوں کے ادوار میں فرق ہے۔ مشرف کے دور میں شدت پسندی کا سرکش گھوڑا ہاتھ نہیں آ رہا تھا جبکہ بیگ صاحب کے دور میں جمہوریت کی لگام ہاتھ نہیں لگ رہی تھی۔ لیکن سیاست کے کیچڑ میں چھلانگ بھی دونوں نے ہوش و حواس میں لگائی تھی۔

پاکستانی طالبان کی مشرف کو دائمی دھمکی کا ایک چشم دید گواہ تو میں بھی ہوں جب بیت اللہ محسود نے انہیں نشانہ بنانے کی بات کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرف پانچ سال یا دس سال تک صدر ہوگا نا، اس کے بعد ہم اس کو دیکھ لیں گے۔ جنرل مرزا اسلم بیگ کا ایسا کوئی بیگج بظاہر نہیں۔ شاید اسی لیے ایک عام ملازم کے ساتھ سپریم کورٹ خاموشی سے آتے ہیں۔ معلوم نہیں وکیل کرنے کی جیب اجازت نہیں دی رہی یا ڈھونڈنے کا وقت نہیں، وہ خود ہی اپنا مقدمہ چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار کے سامنے لڑ رہے ہیں۔

ادھر جنرل مشرف کے لیے وکلا کی کوئی کمی نہیں۔ احمد رضا قصوری سے لے کر فروغ نسیم جیسے کہنہ مشق وکیل اپنی خدمات کے ساتھ سرے دست حاضر رہتے تھے۔

جنرل بیگ کو تو صدر غلام اسحاق نے بھی بطور آرمی چیف توسیع سے انکار کر دیا تھا جبکہ ان کے مقابلے میں جنرل مشرف بزور بازو نو سال تک مسلط رہے۔ جنرل بیگ نے تو جمہوریت کو جلد بحال کیا جبکہ جنرل مشرف اس کے ساتھ نو سالہ دور میں ناگوار اٹھکیلیاں کرتے رہے۔

جنرل بیگ کا قصور تو یہ تھا کہ انہوں نے اسلامی جمہوری اتحاد پیپلز پارٹی کو کامیابی سے دور رکھنے کے لیے پیسہ دیا لیکن جنرل مشرف نے تو نواز شریف کو دس سال کے لیے ملک بدر کیا اور بعد میں جمہوریت کے ساتھ اچھا خاصہ طویل کھلواڑ کیا۔

جنرل پرویز مشرف کا بیان ریکارڈ کروانا تھا تو پولیس ان کے چک شہزاد کے فارم ہاوس جا کر ریکارڈ کرتے تھے لیکن بےچارے جنرل اسلم بیگ کو ایف آئی اے میں جا کر بیان ریکارڈ کروانے کے لیے کہا گیا ہے۔ دونوں سابق فور سٹار جرنیل ہیں۔ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ جرنیلوں میں بھی دوہرا معیار کیوں؟ شاید ہماری پرانی چیزوں کی بےقدری کی عادت اس کی وجہ ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3733 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp