گھر کی لونڈی


جبرالٹر جبل الطارق کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ یورپ میں اس کو جبرالٹر جبکہ جہاں جہاں عربی کا چلن ہے وہاں اسے جبل الطارق کہا جاتا ہے۔ جبل الطارق کی وجہ شہرت طارق بن زیاد ہے۔ وہی طارق بن زیاد جس کے ذکر کے بغیر تاریخ نامکمل ہے۔ وہی طارق بن زیاد جس نے آنے والی صدیوں تک مسلمانوں پر اندلس اور یورپ کے دروا کیے جس نے یورپ کو خواب گراں سے جگایا۔ آج یورپ کی موجود شکل کا سہرا بھی کس حد تک اس غازی پراسرار بندے کو جاتا ہے۔ جب طارق بن زیاد نے شہنشاہ راڈک کو شکست سے دو چار کیا تو اس کی فوج کی تعداد کم و بیش بارہ ہزار تھی بعض کتب میں سات ہزار کا ذکر بھی آیا ہے۔ طارق بن زیاد آج بھی دیو ملائی کردار ہے آج بھی کتب کا موضوع اس پہ سینکڑوں فلمیں ڈرامے تخلیق ہوئے تاریخ پہ اس کے ان مٹ نقوش ہیں لیکن۔ !

طارق بن زیاد کو یہ شہرت دوام طشتری میں نہیں ملی۔ اس کے لیے اس نے بارہ ہزار کے ساتھ اپنی جان بھی ہتھیلی پہ۔ رکھی ناکامی کی پرواہ کیے بغیر لاکھوں کے آگے سینہ سپر ہوا بے جگری کی وہ داستان شجاعت رقم کی کے مثال کم بہت ہی کم۔

کشتیاں جلانے کا فیصلہ اگر نا کام ہوجاتا تو آج طارق بن زیاد کا نام بھی میر جعفر و میر صادق کی فہرست میں شامل ہوتا۔ ہر چند وہ جان بھی اسی میدان میں ہارتا لیکن مؤرخ کبھی معاف نہ کرتا۔ لمحہء صبح عرفان ازل پہ لبیک لبیک کہو تو کہو وگرنہ بعد کی آوازیں صدا بہ صحرا ہوتی ہیں۔ جیسے ویلے دی نماز تے کویلے دیا ٹکراں۔ جبل الطارق پہ اب بھی لاکھوں قافلے لنگر انداز ہوتے ہیں لیکن طارق بن زیاد وہی جو امتحان کے وقت کشتیاں جلا ئے جسے تولا جائے تو کم نہ نکلے جو نہ ہی بھاگے نہ ہی بھاگنے دے جو رزم حق و باطل میں فولاد ہو جو لڑنے پہ آئے تو بے تیغ بھی لڑے جو بنوک خنجر خونخوار رقصاں ہو۔

جس طرح شہباز شریف صاحب نے لاہور کو پیرس اور فیصل آباد کو فرینکفرٹ بنایا ہے۔ اسی طرح شاید انہی کا فیضان نظر اور صحبت کا اثر ہے چوہدری نثارعلی خان پریس کانفرنسوں والی سرکار بن گئے ہیں۔ نازک مزاج تو وہ پہلے ہی بہت تھے اوپر سے یہ نئیں نئیں چوٹیں جو ہر روز لگ رہی ہیں کبھی پرویز رشید کبھی مریم نواز کبھی کوئی تو کبھی کوئی۔ سیاست کے سینہ میں ویسے ہی دل نہیں ہوتا میاں نواز شریف صاحب نے اسے اور بھی تابدار کردیا ہے جس طرح جاوید ہاشمی کو پہلے پارٹی میں کھڈے لائن لگائے رکھا ورنہ ہاشمی صاحب نے اس وقت پارٹی کو کندھا دیا جب جغادری مسلم لیگی، ق میں قطار اندر قطار قیام پزیر تھے۔ لیکن جیسے ہی میاں صاحب کو گمان ہوا یہ بھی لیڈر بن رہا ہے انھیں بے وقعت کردیا بے مروتی کا یہ حال ہے انھیں واپس بلا کر عضوہ ناکارہ کی یاد تازہ کردی۔ اگر چاہتے تو ہاشمی صاحب کو سینیٹر بنوا دیتے لیکن کہاں ایسی ہی کچھ بے مروتی کی مثالوں میں اک نام غوث علی شاہ کا بھی ہے۔ لیکن اونٹ سے بڑھ کر کینہ رکھنے والے اور خود کو ہی سب کچھ سمجھنے والے میاں صاحب۔
رکے گی شرم سے کہاں یہ خال وخد کی روشنی۔

چودھری نثار صاحب پاکستانی سیاست کا انوکھا لاڈلا نہیں تو انوکھا کردار ضرور ہیں۔ چوہدری صاحب کم و بیش ساڑھے تین عشروں سے پارلیمانی سیاست میں سرگرداں ہیں۔ ناکامی ہمیشہ ان کی راہ تکتی رہی اور کامیابی نے ہمیشہ قدم چومے۔ حد تو یہ کے ملک ریاض جیسے کنگ میکر کی دولت بھی انھیں سر نگوں نہ کر سکی۔ اکثر زرداری، الطاف حسین اور ملک ریاضوں جیسے وقتی فرعونوں سے نبرد آزما رہے۔ سیاسی حرکیات کے شناور ہیں ملکی و بین الاقوامی حالات کو خوب سمجھتے ہیں۔ ان کی حب الوطنی شک و شبہ سے بالاتر ہے عابد و زاہد ہیں۔ ساری عمر سیاسی میدان میں گزارنے کے باوجودجس معاشرے میں کونسلر کا دامن صاف نہیں ہوتا وہاں چوہدری صاحب باد ی النظر میں مالی اور اخلاقی طور پر داغدار نہیں۔

چوہدری نثا ر صاحب چونتیس سالوں سے نواز شریف کے ساتھ ہیں اس وقت ان سے پرانا کارکن اس جماعت میں کوئی نہیں۔ چوہدری صاحب ہم نوالہ بھی رہے جلوت وخلوت بھی میسر آئی۔ رازدان درون خانہ بھی ہیں۔ تازہ ماہواری پریس کانفرنس میں فرماتے ہیں شہباز شریف کو موقعہ ملا تو بہتری لا سکتے ہیں۔ پارٹی کو گھر کی لونڈی بنایا تو شاید رشتہ نہ چل سکے۔ ٹکٹ کا فیصلہ پارٹی نے نہیں خود کرنا ہے۔ میاں صاحب کو ہمیشہ ٹکراؤ کی سیاست سے اجتناب کا مشورہ دیا کبھی کوئی عہدہ نہیں مانگا کبھی خوشامد نہیں کی عمران خان سے سکول کے زمانے سے رشتہ ہے وغیرہ وغیرہ۔
کہے حسین فقیر نمانا تخت ملے نہ منگے

چوہدری صاحب آپ شاید مروتاً میاں صاحب کوکرپٹ نہیں کہہ رہے ورنہ آپ بھی جانتے وزیر داخلہ اتنا بھی بھولا نہیں ہوتا۔ پارٹی تو پہلے ہی گھر کی لونڈی تھی وہ بے نکاحی۔ سچ کہنے والوں کا حال غوث علی شاہ اور ہاشمی جیسا ہوا۔ اگر لونڈی نہ ہوتی تو مریم نواز کس حیثیت سے پارٹی میٹنگز اور جلسے کررہی ہے۔ جس طرح اعتزاز احسن نے آپ کی وہ والی کی تھی جس میں پپو پٹواری کا ذکر آتا ہے جس کے بعد آپ نے اک پھسپھسی سی پریس کانفرنس کی۔ اسی طرح اب مریم صاحبہ کی آشیرواد سے آپ کو کچوکے لگائے جاتے ہیں۔ بڑے میاں صاحب ہم چپ رہے ہم ہنس دیے کی مثال بنے مزے لیتے ہیں۔ اگر پارٹی لونڈی نہ ہوتی تو رسمً ہی سہی آپ کو پارٹی صدارت کا کہا جاتا۔ لیکن آپ کو اس میٹنگ میں بلانا بھی گوارا نہیں کیا۔ جس اعلیٰ و عظمیٰ ورازت کی امید پر آپ صوبائی اور قومی اسمبلی کا انتخاب لڑتے ہیں جس کی پیغام رسانی ادھر اودھر جارہی ہے جس کے لیے آپ نے کسی کو نئی پارٹی بنانے کا کہا ہے وہ آپ کو گھر بیٹھے ملنے سے رہی۔

اس کی لیے مریم صاحبہ بھی امیدوار ہیں اور دوسری جگہ جہاں آپ کی اسی عہدے کے لیے بات چل رہی ہے وہاں دوسرے لوگوں نے کروڑوں لگادیے ہیں۔ جہاں تک آپ کے یارغار کی نئی پارٹی بنانے کا سوال ہے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی مفت میں دوسروں کے لیے محنت نہیں کرتا ویسے بھی ایک علاقے میں ایک ہی شیر اور ایک میان میں ایک تلوار ہی رہتی ہے۔ اتار پھینکیے خوشفہمیوں کے سارے غلاف فیصلہ وہی ہوتا ہے جو بروقت کیا جائے۔ کیونکہ یہاں ادا اگر چھوٹ جائے تو قضا بھی چھوٹ جاتی ہے۔ ابھی ہم زندہ ہیں مارکہ پریس کانفرینسیں بہت ہوگئیں ہر جگہ سو کلومیٹر چکری نہ ڈالیں۔ نہ ہی نمی دانم کجا رفتم یا شیخ کا طریق یوں بھی ہے اور یوں بھی بنیں۔ شف شف نہ کریں سیدھا شفتالو کہیں۔ سر فروش کہلانے کا شوق ہے توسربھی دیں۔ پانچواں درویش اور چھٹا سوار ہونے سے ویسے ہی پروازمیں کوتاہی آتی ہے یعنی خودی کی موت ہو جاتی ہے۔
نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو وہ قیصری کیا ہے

اک قول جو مولا علی سے منصوب ہے “ آدھی دانائی لوگوں سے مل جل کر رہنا ہے “ چوہدری صاحب آپ نے ساٹھ بہاریں دیکھ لی آدھی زندگی میاں صاحب کے ساتھ گزار دی اب اس عمر میں نرگسیت چھوڑیں۔ مٹی سے محبت ہے تو مٹی پر چلیں۔ عوام سے ربط اور رابطہ بڑھائیں۔ پارٹی میں نہ آپ کی عزت ہے نہ قدر۔ الٹا آپ تختہ مشق ہیں اور آپ کو پتہ ہے میاں صاحب کی ٹکراؤ کی سیاست ملک کے لیے زہر ہے تو جو چالیس پچاس ایم اینیز اور ایم پی اے آپ کی طرف دیکھ رہے تھے اور ہیں ان کو ساتھ ملا کر اپنا گروپ بنائیں۔ آپ سیاستی داؤ پیچ دوسروں بالخصوص عمران سے بہت بہتر جانتے ہیں حریت پسندی کا دعویٰ ہے تو نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری۔ اتنے الیکٹیبلز بڑے ہوتے ہیں اور ان لوگوں کو ساتھ ملائیں جن کی حب الوطنی مشکوک نہیں۔

جو اپنے ہی اداروں پہ طعنہ زنی نہیں کررہا جو میاں صاحب کے دست راست امیر مقام و اچکزئی کا چھوڑا ہوا پشتین کوداد نہیں دے رہا۔ جو عدلیہ اور فوج کو بے نقط نہیں سنا رہا اگر آپ یہ کام کر گزریں تو آپ شاید بہت سے روایتی سیاست دانوں سے زیادہ رش لے رہے ہوں۔ بلکہ شاید ملکی سیاست کی اک نئی جہت کا آغاز ہو۔ اس وقت نہ آصف زرداری وپیپلز پارٹی میں دم خم ہے نہ ایم کیو ایم نہ وجماعت اسلامی اورنہ ہی اے این پی و مولانا فضل الرحمن آپ اس قابل ہیں۔ میڈیا میں آپ کی پہنچ بھی ہے قدر بھی فن تقریر میں بھی طاق ہیں پرچی دیکھے بغیر گھنٹوں با موضوع اور مدلل بات کرتے ہیں۔ اپنا گروپ بنائیں پھر چاہے عمران خان سے الحاق کرلیں۔ بصورت دے کر نون لیگ کے پپو سائیں بنیں اور راگ درباری میں مجھے کیوں نکالا، خلائی مخلوق اور ووٹ کو عزت دو کا الاپ چھیڑیں اور پرانی تنخواہ پر کام کریں اور نون لیگ سے منہ بولی بیوی کا رشتہ استوار رکھیں۔

جبل الطارق پہ اب بھی لاکھوں قافلے لنگر انداز ہوتے ہیں۔ لیکن طارق بن زیاد وہی جو امتحان کے وقت کشتیاں جلا ئے۔ جسے تولا جائے تو کم نہ نکلے۔ جو نہ ہی بھاگے نہ ہی بھاگنے دے۔ جو رزم حق و باطل میں فولاد ہو۔

مشکل ہیں اگر حالات وہاں دل بیچ آئیں جاں دے آئیں
دل والو کوچۂ جاناں میں کیا ایسے بھی حالات نہیں
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں