خلائی مخلوق اور نئے موکل


پاناما لیکس کیس میں پہلے سابق وزیراعظم نواز شریف کو نا اہل کیا گیا۔ پھر پاکستان مسلم لیگ نواز کی صدارت سے اور پھر عوامی عہدے کے لئے تاحیات نا اہل۔
پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کی تین بار نا اہلی کے بعد حالت اُس مریض جیسی ہے۔ جسے ایسی جگہ پر ناقابل برداشت تکلیف ہے۔ جس کا ذکر وہ کھل کر کر بھی نہیں کرسکتے۔

سابق وزیراعظم کی تکلیف کی شدّت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ سابق وزیراعظم باخوبی واقف ہیں کہ ان کی تکلیف کے ذمے دار وہی خلائی مخلوق ہے۔ جس کا مؤکل ہوتے ہوئے سابق وزیراعظم نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف سازش کی تھی اور بعد ازاں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کی رجمنٹ سے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔ مگر پھر بدلتے وقت اور بدلتے تقاضوں کی وجہ سے خلائی مخلوق کی ترجیحات، خواہشات اور ضروریات بدل گئیں۔ جنھیں خلائی مخلوق کی مدد سے منتخب ہونے والے وزیراعظم پورا کرنے سے قاصر رہے۔ انھیں بدلنا وقت کی ضرورت سمجھا گیا۔ ویسے بھی آزمائے کو آزمانا پاکستانی عوام کی مجبوری تو ہوسکتی ہے۔ خلائی مخلوق کی نہیں۔

پاکستانی تاریخ میں بد قسمتی سے جب بھی عام انتخابات ہوئے۔ اُنھیں کبھی آر اوز کا الیکشن کہا گیا اور کبھی ایجنسیز کا۔ کسی نے اگر 2013 کے انتخابات کو 1970 کے انتخابات کو شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات گردانہ۔ تو کسی نے نواز حکومت کی مدّت کے اختتام پر 2013 کے انتخابات میں فوج کو نواز شریف کی فتح میں اہم فریق قرار دیا۔ جس سے لگتا ہے کہ پاکستان میں انتخابات کروانے کا صرف ڈرامہ رچایا جاتا ہے۔ حکومت کس کی ہوگی۔ وہ انتخابات سے پہلے ہی طے کر لیا جاتا ہے۔

1970 میں ون پرسن، ون ووٹ کے اصول کے تحت ہونے والے پہلے عام انتخابات کے بعد ہونے والے 9 عام انتخابات (1977، 1985، 1988، 1990، 1993، 1997، 2002، 2008، 2013) سے پہلے ہی عوام باخوبی واقف ہوتی تھی کہ عام انتخابات کے بعد کس جماعت کی حکومت بنے گی (ماسوائے 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے)۔

مثال کے طور پر اگر ہم زیادہ پیچھے نا جائیں اور اکیسویں صدی کے آغاز یعنی 2002 میں ہونے والے انتخابات کو دیکھیں۔ تو پتہ چلتا ہے کہ انتخابات سے پہلے ہی سب کو یہ معلوم تھا کہ اگلی حکومت جنرل پرویز مشرف کی بذریعہ ٹیسٹ ٹیوب عمل پیدا کی گئی جماعت پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کی ہوگی۔ جس نے جنرل پلٹ سویلین صدر کی صدارت میں جمہوری 5 سال مکملکیے اور جمہوری اقتدار مکمل ہونے کی روایت ڈالی۔

2007 میں جنرل پلٹ سول صدر کی جانب سے متعارف کردہ این آر او کی بدولت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو پاکستان آنے کی اجازت نے 2008 کے انتخابات سے پہلے ہی خبردار کر دیا کہ اگلی حکومت پیپلز پارٹی کی ہوگی۔ جس کی فتح انتخابات سے چند دن پہلے محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت نے یقینی بنادی۔

سابق صدر آصف علی زرداری کی ہومیو پیتھک صدارت میں 5 سالہ خالص جمہوری دور مکمل ہونے کے بعد 2013 کے انتخابات سے پہلے سب کو یقین تھا کہ اب کی بار، نواز سرکار ہوگی۔ اس کے باوجود کہ اکتوبر 2011 میں تبدیلی کا نعرہ لگانے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں کہا گیا کہ اگلی حکومت عمران خان کی ہوگی۔ لیکن انتخابی سائنس سمجھنے والے پر اعتماد تھے کہ پاکستانی عوام تبدیلی کے نہیں، لوڈ شیڈنگ اور دہشتگردی سے چھٹکارے کے متلاشی ہیں۔ لہزا عین انتخابات سے پہلے خلائی مخلوق نے نئے مؤکل اور دو بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کے ساتھ ایسا چکر چلایا کہ عمران خان کو خیبر پختونخوا میں حکومت دے کر آرے لگادیا گیا اور نئے مؤکل نواز شریف کو تیسری بار وزیراعظم بنادیا۔

126 دنوں کا اسلام آباد میں دھرنہ دینے اور سینکڑوں جلسوں، ریلیوں اور احتجاجوں کے بعد 2018 کے انتخابات سے پہلے لگ رہا ہے کہ اس بار تو تبدیلی آئے ہی آئے۔ بلوچستان میں پہلے حکومت کی تبدیلی، پھر سینیٹ انتخابات میں بذریعہ عوامی فرشتوں چیئر مین سینیٹ کا چناؤ۔ پھر جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کو نئے صوبے سے متعلق وحی کی آمد اور پھر جنوبی پنجاب محاذ کا پاکستان تحریک انصاف میں انضمام۔ اگلے عام انتخابات کے نتائج سے متعلق آگاہ کر رہا ہے۔ جس کے مطابق اگلے وزیراعظم تین بار نا اہل ہونے والے نواز شریف نہیں، بلکہ تین بار نکاح کی شیروانی پہننے والے عمران خان ہوں گے۔

انتخابات سے پہلے تحریک انصاف میں الیکٹیبلز کی شمولیت اور خلائی مخلوق کے سابق مؤکل نواز شریف کی ڈولتی، ڈگمگاتی اور ہچکولے کھاتی پوزیشن کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ خلائی مخلوق کی آشیر وار بھی بری اور دشمنی تو اس سے بھی بری۔ یہاں تک کہ خلائی مخلوق دشمنی میں اپنے منتخب کردہ مؤکل میں بانٹے گئے پیسوں کا حساب کتاب بذریعہ وقتی خلیفہ ایسے مشکل وقت میں کرواتی ہے کہ پہلے سے تکلیف میں مبتلا مریض کراہنے جوگا بھی نہیں رہتا۔

خلائی مخلوق کے سابق مؤکل کا موجودہ حال دیکھ کر نو منتخب مؤکل کو خبردار رہنا چاہیے کہ جو خلائی مخلوق اپنے سابق موؤکل کو تین بار نا اہل کروانے کے علاوہ 1988 میں شروع ہونے والے ناجائز تعلقات کا حساب 30 سالوں بعد کرواسکتی ہے۔ وہ نومنتخب مؤکل کے اُس وقت کیا سلوک کریگی۔ جب خلائی مخلوق کی خواہشات، مطالبات اور ضروریات مطلوبہ وقت پر پوری نہیں ہوں گی۔ نومنتخب مؤکل کو اپنی بیرون ملک اولاد زرینہ کے علاوہ حلال آف شور کمپنی اور بنی گالا کا بنگلہ خریدنے کے لئے سابقہ بیوی سے لیا گیا ادھار نہیں بھولنا چاہیے۔ جسے خلائی مخلوق مطلوبہ وقت پر استعمال کرسکتی ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں