اردو بولنے والے کب تک مہا جر رہیں گے


پاکستان 1947 میں قائم ہو چکا تھا۔ ہندوستان کے جن علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی کم تھی وہاں چند دہشت گردوں کی جانب کچھ ایسی کارروائیاں کی گئیں جس کی وجہ سے مسلمان عدم تحفظ کا شکار ہوگئے اور یہ ہی ان کے ہجرت کی وجہ بنی۔ ان میں اکثریت اردو اور گجراتی بولنے والوں کی تھی۔ ہمارے دادا نے 1951 میں ہندوستان سے ہجرت کی۔ یعنی اگر وہاں انہیں اور دگر مہاجرین کو امن سے رہنے دیا جا تا تب شاید انہیں ہجرت کا دکھ نہ سہنا پڑتا۔ جیسے کہ اب بھی انڈیا میں اردو بولنے والے مسلمان آباد ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انڈیا سے ہجرت کر کے آنے والے لوگ پڑھے لکھے، باصلاحیت، ہنر مند اور تہذیب یافتہ تھے۔ پاکستان، اور خاص طور پر سندھ میں ان کا خیر مقدم کیا گیا۔ آباد کاری اور ملازمت کے حصول میں انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ناصرف یہ اپنے پیروں پر جلد کھڑے ہو گئے بلکہ پاکستان کے استحکام میں بھی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ سندھی ان سے اتنے متاثر تھے کہ مہاجر گھرانوں میں رشتہ لینے اور دینے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے۔ اردو اسپیکنگ گھرانے بھی متمول سندھیوں میں اپنی بیٹی کو (خواہ وہ دوسری بیوی ہی بن کر جائیں ) خوشی خوشی بیاہا کرتے۔ میری اپنی ایک پھپو کی شادی بھٹو فیملی کے امیر ترین شخص سے ہوئی جو ان سے عمر میں کافی بڑے تھے اور پہلے سے شادی شدہ اور بچوں والے تھے۔ آج بھی اندرونِ سندھ اور کراچی میں یہ سلسلہ جاری ہے۔ اور یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ سندھی بہت اچھے داماد ثابت ہو ئے۔

آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹ آرگنائزیشن (APMSO) کے نام سے 1978 میں الطاف حسین نے بنائی اور پھر 1984 میں اسی تنظیم نے مہاجر قومی مومنٹ کوجنم دیا۔ یہاں مہاجر سے مراد پاکستان میں اردو بولنے والوں سے تھی۔ کراچی میں اس جماعت کو بہت کم عرصے میں اردو بولنے والے اور خاص طور پر لوئر مڈل کلاس طبقے کی جانب سے بھر پور حمایت ملی۔

1997 میں اس کے نام میں مہاجر کی جگہ متحدہ شامل کر دیا گیا یوں یہ متحدہ قومی مومنٹ کہلائی۔ اس نام کی تبدیلی کی وجہ سے اس جماعت میں دگر صوبوں سے مختلف زبانیں بولنے والے بھی شامل ہوئے۔ اور یہ سندھ میں دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری۔ خاص طور پر کراچی میں اس جماعت کا 2016 تک سیاسی طور پر غلبہ رہا۔

اردو بولنے والے پاکستان کے کونے کونے میں آباد ہیں۔ ہر ادارے میں اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ سیاسی کارکن کے طور پر ہر جماعت میں ان کی شمولیت ہے۔ الطاف حسین نے متحدہ نام تو رکھ لیا لیکن افسوس وہ اپنے کارکنان کی تربیت کر سکے نہ انہیں متحد رکھ سکے۔ لفظ مہاجر میں جان تب تک تھی جب تک ہجرت کرنے والوں میں حرارت باقی تھی۔ لیکن اس زمانے میں ان کی اکثریت NAP میں تھی، اورولی خان ان کے محبوب رہنما تھے۔ یہ وہی ہیں جو کانگریس کے کئی سرکردہ رہنماؤں اور اپنے والد خان عبدالغفار خان (باچا خان) کے ساتھ مل کر پاکستان کے قیام کی مخالفت کر رہے تھے اور ایک متحد ہندوستان کے خواہاں تھے۔ پاکستان کی مخالفت کے الزام میں دونوں کو قید کر دیا گیا۔

رہائی کے بعد 1956 میں ولی خان نے نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت اختیار کی اس وقت اس کے سربراہ ایک بنگالی سوشلسٹ، عبدالحمید خان بھاشانی تھے۔ 1965 میں NAP دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ جس میں ماسکو کی حمایت کرنے والے دھڑے کے صدر خان عبدالولی خان تھے۔ یہ جماعت پاکستان میں مقبولیت اختیار کر چکی تھی۔ اس جماعت میں ہر زبان ( بشمول اردو ) بولنے والے لوگ شامل تھے۔ اس جماعت کو پاکستان مخالف جماعت قرار دے کر اسے کالعدم قرار دے دیا گیا۔ اور خان عبدالولی خان کو ایک بار پھر قید کر دیا گیا۔ ضیا ا لحق کے دور میں انہیں رہا کیا گیا اور پاکستان مخالف الزامات واپس لے لیے گئے۔ 1986 میں ولی خان نے عوامی نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ MQM وہ واحد جماعت ہے جس میں قائدین کی کثیر تعداد لوئر مڈل کلاس سے ہے۔ الطاف حسین خود لوئر مڈل کلاس سے تھے اور ان کے ساتھیوں کا تعلق بھی اسی کلاس سے تھا۔ اور کارکنان کی اکثریت لوئر کلاس سے ہے۔ لیکن اب ذرا غور سے دیکھیے قائدین ترقی کر کے اپر مڈل کلاس میں شامل ہو چکے ہیں، البتہ لوئر مڈل کلاس ساتھی، مڈل کلاس میں، جب کہ لوئر کلاس کارکنان، کے حالات نہیں بدلے، جنہیں اس زمانے میں قلم کی جگہ اسلحہ تھما دیا گیا۔ ایم کیو ایم حقیقی اور متحدہ جب آپس میں دست و گریباں ہوئیں تو لوئر کلاس کے لوگ ہی تھے جنہیں عقوبت خانوں اور دہشت گردی کی ٹریننگ کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان میں ایک بڑی تعداد کا ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل ہو چکا ہے۔

لوئر مڈل کلاس سے تعلق ہو کر ملک و قوم کو ترقی دینا اور خود ترقی کرنا قابلِ تقلید ہوا کرتا ہے۔ لیکن لوئر مڈل کلاس کا راگ الاپ کر اور ان کی مفلسی اور تنگ ذہن سے فائدہ اٹھا کر شہر میں ان کر ذریعے خوف و دہشت کا بازار گرم کروانا دوسری بات ہے۔ پھر زلفقار مرزا نے لیاری کے عسکری ونگز کو دہشت گردی کا طرزِ عمل اپنانے کی جانب نا صرف اکسایا بلکہ انہیں اردو بولنے والوں اور خاص طور پر متحدہ کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر یوں آمادہ کیا کہ کراچی میں ہر طرف اسلحہ کے زور پر بھتہ خوری، اور قتل و غارت گری عام ہو گئی۔ پشاور میں بچوں کے اسکول میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد فوج نے ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ملک بھر میں مختلف آپریشنز کیے جس کے نتیجے میں کافی عرصے بعد اب کراچی میں امن کی صورتِ حال کچھ بہتر ہوئی ہے۔

پچھلے دنوں ٹنکی گراؤنڈ میں ایک بار پھر مہاجر نعرے کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ مصطفیٰ کمال کی پارٹی سے انضمام کے موقع پر اس بات پر اتفاق ہو گیا تھا کہ مہاجر کارڈ استعمال نہیں کیا جا ئے گا لیکن چوبیس گھنٹوں کے اندر کارکنان اور کچھ ساتھیوں کے اصرار پر فاروق ستار نے اپنا موقف دوبارہ تبدیل کیا۔ اردو بونے والوں کی شناخت کو لفظ مہاجر سے تعبیر کیا۔ رہنما اپنے علم، صلاحیت، خلوص، جذبے اور معاشرے کی ترقی کے عزمِ صمیم کی بنا پر اپنے کارکنان کی تربیت کیا کرتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی چیز بھی کم ہو تو ان کی زبان سے اثر ختم ہو جا تا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم کے رہنما اپنے کارکنان کی استدلال کے ساتھ اپنے موقف کی تائید حاصل کر نے میں ناکام رہے۔

مہاجر لفظ کے ساتھ ہی جو تصور آتا ہے وہ اردو بولنے والوں کا آتا ہے۔ کیوں کہ ایسا ذہنوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ لیکن تو اصل شناخت تو اردو بولنا ہوئی۔ ہماری ماں بولی، ہماری قومی زبان بھی ہے، ہمارے لیے یہ احساسِ تفاخر کافی ہے۔ (حالانکہ دگر زبانوں کے بولنے والوں نے بھی پاکستان ہجرت کی )۔ پاکستان بنانے والوں نے پاکستان بنا یا، لیکن مہاجر لفظ کا نعرہ لگانے والے، کرچی میں بسنے والے پنجابیوں، سندھیوں پٹھانوں سے پنجہ آزما ئی کے بعد آپس میں ہی دست و گریباں ہو گئے، ایم کیو ایم حقیقی اور متحدہ کے لوئر مڈل کلاس کارکنان میں احساسِ محرومی، حس کے محروم ہونے تک اتنا بھر دیا گیا تھا۔ انہوں نے ایک دوسرے کا ہی خون کر دیا۔

بہت سے اردو بولنے والے مسلمان اب بھی انڈیا میں رہ رہے ہیں۔ وہاں ان کی شناخت کیا ہے۔ پاکستان سے ہجرت کرنے والے واقعی مہاجر تھے۔ لیکن انہوں نے اپنے بچوں کو اس لفظ کو شناخت دیے جانے کے لیے کسی تحریک کی کوئی ترغیب کبھی نہیں دی تھی۔ کتنے اردو اسپیکنگ ہیں جو ملک سے باہر ہیں اور اس جماعت کی ہر طرح سے سپورٹ بھی کرتے ہیں وہ پرائے دیس میں اپنی شناخت کے لیے اپنا کیا تعارف پیش کرتے ہیں۔ افغانستان سے آئے ہوئے کافی لوگ اب واپس لوٹ چکے ہیں کئی ابھی تک پاکستان میں ہی ہیں۔ لیکن ہم انہیں مہاجرین نہیں افغانی ہی کہتے ہیں۔ اردو بولنے والوں کے باپ دادا نے پاکستان بنایا اور انہوں نے پاکستان ہجرت کی۔ اس اعتبار سے اردو بولنے والوں کے لیے لفظ پاکستانی مناسب ترین ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں