جاپانی وزیراعظم نے اسرائیلی جوتا کھایا


جاپان کے وزیراعظم شینزو ایبے نے اسرائیل کا دورہ کیا۔ شینزو جاپان کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے پہلے 2015 میں اور اب 2018 میں اسرائیل کا دورہ کیا۔ ان کے ساتھ جاپانی تاجروں اور سرمایہ کاروں کا ایک بڑا ٹولہ تھا۔ اس ٹولے کی اہمیت اتنی تھی کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے میڈیا سے شکایت کی کہ وہ شایان شان کوریج نہیں کر رہا ہے۔ لیکن یہ شکایت ایک مکر تھی۔ دھوکہ تھی۔ فریب تھی۔ نیتن یاہو نے اپنی خفیہ ایجنسی موساد کے ذریعے ایک ایسی حرکت کی کہ اس دورے کی کوریج کی گونج جاپانی کیا بین الاقوامی پریس میں سنائی دی۔

نیتن یاہو نے بظاہر شینزو ایبے کو بہت پروٹوکول دیا۔ اسرائیل کے بہترین شیف موشے سیگیو کو جاپان کے وزیراعظم کے شایان شان کھانا بنانے کا حکم دیا۔ موشے نے کمال کا کھانا بنایا۔ شینزو ایبے اور ان کی اہلیہ ایکی ایبے انگلیاں چاٹتے رہ گئے۔ اس کے بعد نیتن یاہو نے میٹھا لانے کا حکم دیا۔ موشے سیگیو اپنی نگرانی میں میٹھے کے تھال لے کر آئے اور معزز مہمانوں کے سامنے دھر دیے۔ یہ میٹھا جوتے کے اندر ڈال کر دیا گیا تھا۔ اور تصویر سے یہ دکھائی دے رہا ہے کہ جوتے کے اندر ایک نہایت بدبودار جراب بھی رکھی گئی تھی۔

جاپانی تہذیب میں جوتے کو نہایت برا سمجھا جاتا ہے۔ جاپانی اپنے گھروں کے اندر جوتا تک نہیں لاتے ہیں چہ جائیکہ اسے کھانے کی میز پر سامنے دھر دیا جائے اور مہمان کو کہا جائے کہ اس کے اندر سے کھانا نکال کر کھا لے۔ ایک سابقہ اسرائیلی سفارت کار کے مطابق یہ کسی جاپانی کے لئے ویسا ہی ہے جیسے کسی اسرائیلی کے لئے خنزیر کی شکل کے برتن میں کھانا کھانا۔

بہرحال سیاستدانوں کی زندگی بھی عجیب ہوتی ہے۔ جاپانی وزیراعظم اور ان کی اہلیہ جوتے سے نکال کر یہ میٹھا کھا گئے۔ لیکن اسرائیلی اور جاپانی ڈپلومیٹس نے طوفان اٹھا دیا۔

ایک جاپانی سفارت کار نے کہا کہ دنیا میں کوئی تہذیب ایسی نہیں ہے جو کھانے کی میز پر جوتے رکھتی ہو۔ یہ عظیم شیف کیا سوچ رہا تھا؟ اگر یہ مذاق تھا اور ہمیں اس پر ہنسی نہیں آئی، ہم اپنے وزیراعظم کی جانب سے شدید توہین کے احساس کا اظہار کرتے ہیں۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ نے پہلے تو کہا کہ ”ہم اپنے شیف کی عزت کرتے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں۔ وہ بہت ہی تخلیقی ذہن رکھتا ہے“۔ لیکن جب جاپانیوں نے شور مچایا کہ ہمارے وزیراعظم کی تو فل بے عزتی کی ہے اور جس نے کی ہے تم اس کی تعریف کر رہے ہو، تو اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا ”ہم جاپانی وزیراعظم کی بے انتہا عزت کرتے ہیں“۔

موشے سیگیو کے ترجمان نے بیان دیتے ہوئے اسے نہایت تخلیقی ذہن کا مالک آرٹسٹ کہا اور یہ کہا کہ ”موشے سیگیو نے مہمانوں کو غیر معمولی غذائی تجربہ فراہم کیا ہے۔ میٹھے میں چاکلیٹ تھے، اور جس جوتے میں یہ چاکلیٹ دیے گئے تھے وہ کوئی معمولی جوتا نہیں تھا بلکہ یہ مشہور آرٹسٹ ٹام ڈکسن کا بنایا ہوا ایک شاہکار تھا جو دنیا بھر کے عجائب گھروں میں رکھا جاتا ہے۔ دونوں وزرائے اعظم اور ان کی بیگمات کھانے اور خاص طور پر میٹھا دیکھ کر بہت پرجوش ہو گئے اور تالیاں بجا بجا کر شیف کی تعریف کرنے لگے“۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا تو شیف موشے سیگیو نے ہی انہیں کھانا بنا کر دیا تھا مگر ان کے میٹھے کے لئے دونوں سربراہان کے سر کی شکل کی بیس بنا کر اس پر شطرنج کے مہروں کی شکل کا میٹھا رکھا گیا تھا جبکہ جاپانی وزیراعظم اور ان کی بیگم کے حصے میں جوتا آیا۔

ہم نے اس معاملے پر خوب غور کیا ہے کہ اسرائیل نے جاپانی وزیراعظم کو اتنے پیار سے بلا کر اتنی زیادہ توہین کیوں کی ہے۔ آخر کار ہم اس کی وجہ جاننے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

جاپان نے خیبر پختونخوا کی حکومت کو مفت میں گلابی رنگ کی زنانہ بسیں فراہم کی ہیں جو مردان اور ایبٹ آباد میں چلیں گی۔ اب پشاور میٹرو کے منصوبے کے لئے خاص تیار کردہ بسیں نہیں آ رہی ہیں تو حکومت ختم ہونے سے پہلے پہلے پرویز خٹک اس سڑک پر کچھ چلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے جاپانی حکومت سے اجازت طلب کی کہ یہ گلابی زنانہ بسیں ان کو پشاور کے میٹرو منصوبے پر چلانے کی اجازت دے دی جائے تاکہ پشاور کے غیور مرد ان زنانہ بسوں میں بیٹھ سکیں۔ جاپانی حکومت نے اجازت دے دی۔

اسرائیل کی پوری کوشش ہے کہ وہ کسی بھی طریقے سے تحریک انصاف کی حکومت کو صوبے میں ناکام کر دے کیونکہ عمران خان کے وزیراعظم بننے کی صورت میں پاکستان ایک سپر پاور بن جائے گا اور اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالے گا۔ اسی وجہ سے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد مختلف تخریبی کارروائیوں سے پشاور میٹرو کے منصوبے کو سبوتاژ کر رہی ہے تاکہ تحریک انصاف کی حکومت کو ایک ناکام حکومت ثابت کیا جا سکے۔ کبھی میٹرو کی سڑک کے ٹھیک والے ڈیزائن کی دستاویزات غائب کر کے ادھر نقائص سے بھرپور ڈیزائن رکھ دیا جاتا ہے جس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب سڑک یا پل بن جاتے ہیں، کبھی وہ سرکاری افسران کے درمیان ایسی غلط فہمیاں پیدا کر دیتے ہیں کہ وہ استعفی دے کر گھر بیٹھ جاتے ہیں۔ لیکن وزیراعلی پرویز خٹک کی دانشمندی اور بہترین مینیجمنٹ کی وجہ سے یہ منصوبہ تیزی سے تکمیل کی طرف بڑھ رہا ہے۔

آخری حربے کے طور پر اسرائیلی ایجنسی موساد نے یہ داؤ کھیلا کہ منصوبے پر چلنے کے لئے بسوں کی فراہمی کو ناممکن بنا دیا مگر پرویز خٹک نے جاپانی وزیراعظم شینزو ایبے کے تعاون سے ادھر زنانہ گلابی بسیں چلا کر منصوبہ چلانے میں کامیابی حاصل کر لی۔ اس پر جھلا کر اسرائیل نے جاپانی وزیراعظم کو دنیا بھر میں ایک مذاق بنا کر رکھ دیا اور ان کو نہ صرف بدبودار جراب والے جوتے میں کھانا کھانے پر مجبور کیا بلکہ اس کی ایسی غیر معوملی میڈیا کوریج کی جو پہلے کبھی دیکھی نہ سنی۔ لیکن اسرائیل جتنی مرضی کوشش کر لے، پشاور میٹرو ایک دن چل کر رہے گی اور عمران خان وزیراعظم بن کر رہیں گے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 901 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar