ہم صلیبی جنگ جیتنے نہیں آئے


 safdar saharجناب عامر ہاشم خاکوانی صاحب نے رائٹسٹوں کے لیے گیارہ نکات تحریر فرماتے ہوئے انہیں نصیحت فرمائی ہے کہ وہ سیکولر اور لبرل فکر سے متعلق اہل دانش کو دندان شکن جواب دینے کی تیاری کریں۔۔۔۔۔ مضمون ہذا میں جناب خاکوانی صاحب کے گیارہ نکات ہی کو چند الفاظ بدل کر پیش کیا جا رہا ہے۔ مقصد انتہائی سادہ ہے اور وہ یہ کہ جو انداز خاکوانی صاحب نے اختیار فرمایا ہے وہی انداز اگر ان کی فکر کے حوالے سے اختیار کیا جائے تو انہیں کس قدر ’’مضحکہ خیز‘‘ لگے۔ ہمارے لبرل دانشوروں اور اساتذہ کی جانب سے حسب روایت حوصلہ افزا رویہ اختیار کیا گیا اور خاکوانی صاحب کو نہ صرف یہ کہ ہماری طرف سے داد و تحسین ملی بلکہ ان کے گیارہ نکات کو فورم بھی دیا گیا۔ سیدھی سی بات ہے احقر کو اپنے ہم خیال اور اساتذہ کرام کا یہ رویہ ناقابل قبول محسوس ہوا۔ کیونکہ اس سے غیر منطقی مباحث کی ہماری خاصی قدیم روایت کو تقویت ملنے کا امکان ہے۔ رائٹسٹوں اور مذہب پسندوں کی طرف سے ایسے نمائندے بھی موجود ہیں جو اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے بھی دوسروں کے نقطہ نظرکوحقیر نہیں گردانتے اور علمی و تحقیقی سطح پر جواب دیتے ہیں۔ صاف کہوں تو ایسا ہے کہ مجھے تو خاکوانی صاحب کی تحریر نہ آداب مکالمہ کی ضمن میں دل خوش کن تحریر محسوس ہوئی نہ ہی فکری طور پر گہری۔۔۔۔ دوستوں کا خیال البتہ مختلف ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف مزے کی بات یہ ہے کہ جناب وجاہت مسعود صاحب کی طرف سے تحریر کردہ تحقیقی مضمون کا جواب خاکوانی صاحب کی طرف سے نہیں دیا گیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ علمی اور تحقیقی سطح پر جواب دینے کی یا تو صلاحیت نہیں ہے یا اپنے حتمی تصورات پر اس قدر کامل ایمان ہے کہ دوسروں کے سوال یا جوابی سوال پر قلم اٹھانا تک وقت کا زیاں تصور کیا جاتا ہے۔

احقر نے خاکوانی صاحب کے 11نکات کو کاپی پیسٹ کر کے صرف روئے سخن موڑا ہے، کیونکہ اس طرح کا منشور شائع کرنا یا ناصحانہ انداز اختیار کرنا ہمارے فکری ڈھانچے میں کچھ زیادہ اہم نہیں۔کیونکہ ہم مباحث کے ذریعے صلیبی جنگ جیتنے کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ انسان بہتر سے بہتر مادی، عقلی اور روحانی (ذہنی) زندگی گزار سکے۔ جوابی گیارہ نکات حاضر خدمت ہیں

 نمبر ایک :سیکولرسٹ بمقابلہ اسلامزم کا معرکہ ٹی ٹوئنٹی میچ ہرگز نہیں، اسے ون ڈے بھی نہیں سمجھنا چاہیے ۔ یہ کرکٹ کی اصطلاح میں ٹیسٹ میچ ہے۔ طویل دورانئیے کا کھیل ۔ جس میں دو تین باتیں اہم ہیں۔

اے: اس میچ نے جلدی ختم نہیں ہوجانا۔ لمبا معرکہ ہوگا۔ یہ قسطوں میں لڑی جانے والی جنگ ہے، باربار غنیم کے لشکر امنڈ امنڈ کر آئیں گے۔ ہر بار تلوار سونت کر لڑنا پڑے گا۔ انداز بدلتے رہیں گے ، سپاہیوں کے چہرے تبدیل ہوں گے،مگر اہداف وہی ہیں ۔ جانے پہچانے، دیکھے بھالے۔ اس محاذ کا رخ کرنے والے سوچ سمجھ کر میدان میں اتریں۔ نظریاتی جدوجہد بعض اوقات مختلف فیز میں لڑی جاتی ہے۔ ہم سے پہلوں نے اپنے انداز میں یہ معرکہ لڑا۔ اب ہمارے زمانے میں اور ہم سے بعد میں یہی مسائل، مکالمے اور مجادلے چلتے رہیں گے۔

بی : ٹیسٹ میچ میں جلدبازی اور عجلت کے بجائے کھلاڑی کی محنت، تکنیک اور مہارت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ فکری مکالمے میں بھی یہ چیزیں اتنی ہی اہم ہیں۔ اچھی طرح تیاری کر کے ، سوچ سمجھ کر قدم بڑھانا چاہیے۔

سی : بہتر ہو گا کہ لکھنے والے اپنے اپنے کام کا تعین کر لیں۔ جیسے کرکٹ ٹیم میں کسی کا کام بائولنگ، کوئی بلے باز اور ایک وکٹ کیپر ہوتا ہے ۔ ہر ایک کی سپیشلیٹی (9تخصص) ہوتی ہے۔ بیانیہ کی جنگ میں مل جل کر بھی کام ہوسکتا ہے ۔ جسے تحقیق میں دلچسپی ہے، وہ حوالہ جات پر محنت کرے اور اس اعتبار سے مواد سامنے لے آئے ، کسی کو سوالات اٹھانے میں مہارت ہے، وہ اس طرف کا رخ کرے، کسی کا ہنر مرصع نثرلکھنا ہے تو وہ اس پر ہی فوکس کرے، مذہبی ادب تک رسائی رکھنے والوں کو اس زاویے سے کام کرنا چاہیے ۔

نمبر دو : مکالمہ ہر حال میں نہایت شائستگی سے کرنا چاہیے۔ انکسار، استدلال اور علمی شائستگی تحریر کے بنیادی جوہر ہونے چاہئیں۔ طنز، تضحیک، دشنام اور اختلاف رائے کرنے والے پر لیبل چسپاں کرنے سے ہر صورت گریز کرنا ہوگا۔ سیکولرز کو یہ سوچ کر لکھنا چاہیے کہ وہ سیکولرمائنڈ سیٹ کے علمبردار ہیں اور ان کے تحریر ہی سے سیکولر سوچ رکھنے والوں کو جانچا جائے گا۔ اس لئے اخلاق ، شائستگی اور متانت کا دامن قطعی نہ چھوڑا جائے ۔

 کوئی بھی سچا، کھرا سیکولر صرف اس لئے اس میدان میں اترتا اور اپنے تصور، اپنی اخلاقی اقدار اور تصور کا دفاع کرتا ہے کہ انسانوں کی مادی، انفرادی، اجتماعی اور فکری زندگی میں ترفع کا باعث بنے۔ اس لئے تحریر کا معیار بھی ویسا ہی کڑا اور سخت ہونا چاہیے ۔ بد تمیزوں، بد اخلاق، عامیانہ گفتگو کرنے والوں، پست الفاظ استعمال کرنے کے عادی لوگوں کی یہاں کوئی جگہ نہیں۔ سیکولرز، لبرلز کو ایسے تمام لوگوں سے خود کو دور کرلینا چاہیے، ان سے اعلان لاتعلقی کر لینا ہی زیادہ بہتر اور مناسب ہے۔ گھیٹا دفاع سے دفاع نہ کرنا افضل ہے۔

نمبر تین : یہ بات ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مایوس ہونے یا ہمت ہار دینے کی کوئی وجہ نہیں۔ سیکولرز کی جدوجہد اور نوعیت کی ہے۔ پاکستان میں بہت اہم سماجی جنگیں جیتی ہوئی ہیں۔ مایوسی اور ناکامی ہر بار اسلامسٹوں کے حصے میں آتی ہے۔ ریاست کو تھیاکریسی بنانے کا خواب وہی دیکھ رہے ہیں،اس کی فکر بھی انہیں ہی ہونی چاہیے۔ سیکولر فکر نے بدترین حالات میں استقامت سے کام لیتے ہوئے بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ مذہبی سیاست کا حتمی نتیجہ دہشت گردی، عوام کی معاشی مشکلات اور ریاستی اداروں کی زبوں حالی کی صورت میں سامنے آ چکا ہے۔ اب ہمیں آئین میں تبدیلیوں اور سیکولر معاشرے کے قیام پر فوکس کرنا چاہیے ۔ مہذہب مکالمہ، تعلیم ، تربیت کا جوکام انفرادی، گروہی یا جماعتوں کی حد تک ہوسکتا ہے، وہ کیا جائے، حکومت میں آ کر ریاستی وسائل کی مدد سے کچھ کرنے کے مواقع جب ملیں تو ایسا کیا جائے، نہ مل سکیں تو کم از کم پریشر گروپس کا کردار ادا کرتے رہنا ہو گا۔

نمبر چار : ممکن ہے پوائنٹ نمبر تین پڑھ کر کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ ایسی صورت میں پھر اتنی محنت کی ضرورت کیا ہے؟ سادہ جواب یہ ہے کہ سیکولرز کو اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کے لئے جوابی بیانیہ تشکیل دینا پڑتا ہے اور رہے گا۔ سیاست میں مذہب کو خلط ملط کرنے والوں کے سوالات کے جواب دینا اس لئے ضروری ہے کہ سیکولرطرز فکر کو تاریخ کے ہر موڑ پر مسلسل اپنا احتساب کرنا چاہیے۔ مساوات، انصاف اور آزادی کے خواب کو دلوں میں بسانے، دماغ میں اتارنے کے لئے استدلال ہی واحد ذریعہ ہے۔ نئی نسل تک اپنی بات دلیل کے ساتھ پہنچانی ہے۔ ان کے ذہنوں میں موجود الجھنیں کھولنی، سلجھانی اور سیکولرزم کے خلاف پروپیگنڈے کا توڑ کرنا ضروری ہے۔

 نمبر پانچ: ایک بات اور ذہن میں رکھیں کہ مذہبی فکر کے بیشتر علمبرداروں کو آپ دلیل سے قائل نہیں کر سکتے۔ یاد رہے کہ قائل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اگلا قائل ہونے پر آمادہ ہو۔ جس نے طے کر رکھا ہو کہ مادی زندگی کچھ نہیں اور صرف مرنے کے بعد کی زندگی ہی سب کچھ ہے، اسے آپ انسان دوست معاشرے کی اہمیت پر کیسے قائل کر سکتے ہیں؟

اسلامسٹوں کی ہارڈ کور کو متاثر یا قائل نہ کرسکنے کے امکان کے باوجود یہ مکالمہ جاری رکھنا ہوگا، سیکولر بیانیہ پوری صراحت اور گہرائی کے ساتھ تشکیل دینا ہوگا۔ ہدف وہ لوگ ہیں جو ابھی درمیاں میں ہیں، سوئنگ ووٹرکی طرح سوئنگ پیروکار بھی ہوتے ہیں۔ جو لوگ ابھی کسی جانب نہیں گئے، وہ لوگ جوکسی وجہ سے اسلامسٹ ہوگئے، مگر وہ اپنی زندگی مین خوشیاں، امن اور ترقی کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں، انہیں چند کامن پوائنٹس پر قریب کیا جا سکتا ہے ۔ وہ لوگ بھی جو سیکولر گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، مگرانہیں دوسروں سے بات کرنے کے لئے دلائل کی ضرورت ہے۔ ان کی یہ کمی، ضرورت سیکولر لکھاریوں کو پوری کرنا ہے۔

 نمبر چھ : اسلامسٹوں سے بحث کرتے ہوئے ان کی کج بحثی اور سیکولرزم پر حملوں کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا ہوگا۔ ہم لوگ بعض چیزوں کو پہلے سے طے شدہ لے کر چلتے ہیں، سوچتے ہیں کہ بعض سیاسی سوال اور بحثیں ہوں گی، مذہپبی عقائد کا حوالہ دے کر ہم پر کفر کے فتوے نہیں جڑے جائیں گے۔ اسی طرح پاکستان کے حوالے سے ہم میں سے بہت سوں کو اس وقت صدمہ ہوتا ہے،جب نظریہ پاکستان، قائداعظم، اقبال، لیاقت علی خان ، علامہ شبیر احمد عثمانی وغیرہ کو مذہبی تقدس دے دیا جاتا ہے، بھلے ہم ان باتوں کو زیر ناف حملہ سمجھتے ہیں لیکن اس سب کے لئے ہمیں پہلے سے تیار ہونا چاہیے ۔

 نمبر سات: یہ بات بھی اب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان میں سیکولرنظام، سیکولر معاشرے کا قیام انسان دوستی سے سے جڑا ہوا ہے۔اگر انسانی دوستی سے دستبردار ہوگئے، سب انسانوں کے لئے بلا امتیاز محبت، ہمدردی اور سچائی سے منہ موڑ لیا، ایک انصاف دینے والی غیر جانبدار مملکت کے دعوے اور خواب سے ہاتھ کھینچ لیا تو پھرملک میں سیکولر قوانین، سیکولرمعاشرے کا خواب بھی بھول جائیں۔ پاکستان تب لفظی طور پر ہی نہیں، عملی طور پربھی شدت پسند مذہبی ریاست بن جائے گا۔

 نمبر آٹھ : (پوائنٹ نمبر سات کی یہ ایکسٹینشن ہی ہے، مگر اہمیت واضح کرنے کے لئے اسے الگ پوائنٹ بنایا ہے۔)  یاد رکھیں، تحریک پاکستان کے رہنما قائد اعظم محمد علی جناح کی گیارہ اگست کی قانون ساز اسمبلی میں کی گی تقریر ہی وہ بنیاد فراہم کرتی ہے،جس پر پوری پاکستان میں روشن خیالی کی تحریک استوار ہے، مذہب کے نام پر سیاست کرنے والا حلقہ اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے، اس لئے وہ بار باراس تقریر پر حملہ آور ہوتا ہے، اسے بے حقیقت ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔  اس تقریر کو بار بار بیان کرنا چاہیے۔ اس کی آئینی، سیاسی، قانونی اور اخلاقی حیثیت اجاگر کرنی چاہیے۔

 نمبر نو : یاد رکھیں کہ قائد اعظم کی شخصیت بھی پاکستان کو سیکولرریاست بنانے، یہاں جمہوری نظام قائم کرنے کے سپنے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے قائد اعظم کو جناح صاھب ہی نہیں، اور بھی بہت کچھ کہتے رہیں ہیں۔ انہوں نے قائد اؑطم پر کفر کے فتوے بھی لگائے تھے۔ انہوں نے اقبال کو التزام سے بار بار اقبال مرحوم لکھا اور کہا۔ یہ ان کی سیاست کی ناکامی ہے کہ قائد اعظم اور علامہ اقبال کو اپنانے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی یاد رکھئے کہ بیشر اسلامسٹ قائد اعظم محمد علی جناح صاحب کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ ان کے اکابرین کے فتوے ان کے خلاف اس کا ثبوت ہیں۔ ان کے اندر کا تعصب اور قائداعظم کے لئے نفرت اور بیزاری ابل ابل کر باہر آ رہی ہے۔ پاکستان میں جہادی اسلام کے  علم بردار رسالوں اور پرچون مین بار بار لکھا گیا کہ ایک عامی شخس محمد علی جناح کو قائد اعظم کیسے کہا جا سکتا ہے۔ جب یہ سب لکھا جا رہا تھا تو اسلامزم کے حامیوں نے کبھی اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ یہ لوگ قائد اعظم کی توہین کرنے والوں کی وکالت کرتے رہے تاآنکہ 14 جون 2014 کو پاکستانی فوج نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا اعلان کر دیا اور اسلام پسند ھسب معمول نعرے لگاتے طاقتور کے تانگے پر چڑھ گئے۔

 نمبر دس: یہ بات شروع میں آنی چاہیے تھی، مگر اس پر اختتام کرنا بھی کم اہم نہیں۔ یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ تھیوکریسی اور سیکولرازم کا امتزاج کسی طور ممکن نہیں۔ کسی بھی ملک میں یا تو مذہبی آمریت ہو گی یا سیکولرریاست ، مزہبی استبداد تشکیل پائے گا یا پھر سیکولر معاشرہ۔ ان کو ملانے کی بچکانہ کوشش کبھی کامیاب ہوئی نہ ہوگی۔ یہ کہنا کہ کسی قسم کا دیسی مسلم سیکولرازم ممکن تھا، ایک بڑا فکری مغالطہ ہے۔ دیسی مسلم سیکولرازم نام کی کسی اصطلاح کا کوئی وجود نہیں، یہ بن بھی نہیں سکتی۔

 یہ نقطہ بھی واضح ہوجائے کہ پاکستانی تناظر میں قائد اعظم کی 11 اگست والی تقریر کا ماڈل ہی قابل قبول ہوگا۔ حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی اور جناب لیاقت علی خان کے تمام تر احترام کے باوجود ان کا ماڈل ناقابل قبول ہے

 اسی طرح جاوید غامدی صاحب کا یہ تصور کہ ریاست سیکولر ہو، حکومت البتہ مسلمان ہوگی، یہ بھی آخری تجزیے میں اسلامسٹوں کو سپورٹ کرتا ہے۔ جناب غامدی اور ان کے ذہین تلامذہ کی فکر ایک خاص سٹیج پر جا کر مذہبی فکر کے ساتھ ہی جا کر کھڑی ہوتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ غامدی صاحب کے بیانیہ پر کبھی پڑھا لکھا اسلامسٹ تنقید نہیں کریں گا، انہیں سوٹ جو کرتا ہے ۔

 نمبر گیارہ : اب تک ان بحثوں کو پڑھنے والوں کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ اسلامسٹ دوست کس طرح بات کو ایک جگہ سے کھینچ کر دوسری جگہ لے جاتے ہیں، ایک ساتھ کتنے مفروضے ، مغالطے بھر دیتے ہیں تاکہ یکسوئی کے ساتھ جواب نہ دیا جا سکے۔ کبھی کسی تو کبھی کسی اورایشو کو چھیڑ دیا جائے گا۔ اس کا صاف جواب دینا چاہیے کہ یہ سب ماضی کے ایشوز ہیں۔ بنیادی نقطہ یہی ہے کہ کیا پاکستان تھیاکریسی ہو یا سیکولر؟ ان بنیادی سوالات پر بحث مرکوز رکھنی چاہیے، نان ایشوز میں الجھنے کا کوئی فائدہ نہیں، اپنی توانائیاں ادھر صرف نہ کی جائیں۔ ہر حلقہ فکر کی طرح سیکولر ونگ میں فالٹ لائنز موجود ہیں، انہیں ایکسپوز کرنے سے گریز کریں۔ آپس میں لڑنے کے بجائے اصل مدعا (مقدمے) کی طرف توجہ رکھیں۔ اس کی زیادہ اہمیت ہے۔

سیکولربیانیہ کے لئے معروف سیکولر کتب کا سب کو علم ہی ہے، انہیں پڑھنا فائدہ مند ہوگا۔ قائداعظم کےتصورات کے حوالے سے بہت سی کتب شائع ہوچکی ہیں، کسی سے بھی حوالہ جات کے لئے رجوع کیا جا سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “ہم صلیبی جنگ جیتنے نہیں آئے

  • 21-04-2016 at 3:49 pm
    Permalink

    Showed the mirror

  • 22-04-2016 at 6:51 pm
    Permalink

    ہدایت نامہ اسلامسٹ لکھاریاں کے بعد انہی خطوط پر بھلے پیروڈی میں لکھا گیا ہدایت نامہ سیکولر لکھاریاں بھی سامنے آنے پر یہ منکشف ہوا جاوید احمد غامدی کو ہر دو فریق اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں.
    کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جاوید احمد غامدی کے موقف کا ہر دو کے پاس کوئی جواب نہیں، اور کیا جانتے بوجھتے ہوئے یا انجانے میں ہم مکالمے کے نام پر مناظرے کرنے تو نہیں جا رہے؟

  • 22-04-2016 at 10:31 pm
    Permalink

    مبشر بھائی۔۔۔۔ تحریر کا مقصد صرف ان نکات کو باانداز دگر دہرا کر یہ باور کرانے کی کوشش کرنا تھا کہ اس طرح کا منشور مکالمے کی تہذیب سے میل نہیں کھاتا۔ باقی غامدی صاحب سے ہمیں قطعا بھی خطرہ نہیں۔ اور وہ قابل احترام عالم ہیں

Comments are closed.