گھر کا ماحول اور یورپ کے بچے


عام طور پر پاکستان ميں یہ تصور دیا جاتا ہے کہ یورپ ميں بچے خراب ہو جاتے ہيں اور ماں باپ کے سامنے بے حيائی کرتے ہيں۔ یہ تصور بالکل غلط ہے۔ سب کچھ آپ کے گھر کے ماحول پہ منحصر ہے۔ اگر گھر کا ماحول ٹھيک ہوگا ماں باپ غلط کام نہ کريں تو بچے یورپ ميں ہوں یا پاکستان میں ہوں۔ کچھ فرق نہيں پڑتا سب سے بڑی وجہ ہے کمپليکس کی جو ہماری قوم میں پایا جاتا ہے۔ یہاں پلنے والے بچوں میں کمپلیکس نہیں ہو تا۔ وہ گوروں کے ساتھ برابری کی سطع پہ بات کر سکتے ہیں۔

کل بچوں کے سکول میں کلچر دن تھا۔ مختلف ملکوں کے بچے تھے۔ کوئی گاندھی تو کوئی قائد اعظم اور کوئی نیلسن منڈیلا پہ بات کر رھا تھا۔ اپنے اپنے قومی لباس قومی زبان میں تقریر کر رہے تھے۔ بہت اچھا لگا اور اپنے پاکستانی ہونے پہ فخر ہوا۔ ہم ماں باپ میں کمپلیکس ہوتا ہے۔ ابھی پاکستان سے ویزے کی درخواست ہی دیتے ہیں۔ تو انگریزی بو لنی شروع کر دیتے ہیں۔ اور اپنا لباس کھانا پینا سب تبدیل کر دیتے ہیں۔ کوا ہنس کی چال شروع کر دیتا ہے۔ یہاں پلی بڑھی سعیدہ وارثی پارلیمنٹ میں بھی شلوار قمیض میں جاتے ہوۓ شرم نہں کرتی بلکہ عربوں میں مسلمانوں پہ ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھاتی ہے۔ جبکہ پاکستان سے آئے ہوئے ہم لوگ خود کو گوروں سے بھی آگے کر لیتے ہیں۔ گھر میں بھی بچوں کو انگریزی پہ لگا دیتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ انھوں نے سکول میں ضرور سیکھ جانی ہے۔ پاکستان سے دادا دادی یا نانا نانی سے بات نہ کرانے کا بہانہ بھی مل جاتا ہے۔ جبکہ ہر ملک کے لوگ فرانس ،جرمنی ،اٹلی سب لوگ اپنی زبان بولتے ہیں۔ گوروں کے کوئی تہوار ہوں تو اکثر والدین بچوں کو چھٹی کرا دیتے ہیں۔ اور جب ٹی وی لگائیں تو پاکستان میں وہ سکولوں میں منا رہے ہوتے ہیں۔

جو کچھ بھی ہو وہ بچے گھر سے ہی سیکھتے ہیں جو اپ ماحول دو گے۔ سکھ برادری دُنیا کے کسی بھی مُلک میں ہو ں اپنا کلچر اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں کے بچے جھوٹ نہیں بولتے جو بات کرتے ہیں دلیل کے ساتھ کوئی گالی گلوچ نہیں کوئی جعلی اکاؤنٹس نہیں بناتے کہ چھپ کے وار کریں۔ لڑکا ہو تو لڑکی بن جائے اور لڑکی ہو تو لڑکا بن کے سوشل میڈیا پہ حالت پاکستان میں ہورہی ہے۔ پورے پاکستان کو پی۔ ٹی۔ آئی اور نون لیگ بنا دیا ہے۔ چو بیس کروڑ کی آبادی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پہ ہم پاکستانی نہیں نون لیگ اور تحریک انصاف بن گئے۔ اگر ملک کی بات کی جائے تو ذاکر نائک انڈیا میں رہ کر اسلام پہ بات کرتا رہا اور عرب حکمران اور پاکستانی حکمران مسلمان ملکوں کے سربراہ ہو کر بھی خوشامد کرتے ہیں۔

کل بچے کا سکول میں انٹرویو تھا ہم بھی ساتھ گئے۔ گورا پرنسپل تھا۔ سب سے پہلا سوال بچے سے کیا کہ آپ کی زبان کونسی ہے اور اپ گھر میں کیا بولتے ہو۔ بچہ کہتا ہے ہماری زبان اُردو ہے اور ہم گھر میں بھی اردو ہی بولتے ہیں۔ پھر کہتا ہے اپ خود کو کیا کہلوانا چاہو گے۔ ایک یورپی یا پاکستانی بچہ کہتا ایک مسلم پاکستانی۔ پھر کہتا اگر اپ کچھ بن جاتے ہو تو یورپ کے لئے کچھ کرنا چاہو گے یا پاکستان کے لئے تو بچہ کہتا پاکستان کے لئے کیونکہ پاکستان کو اس کی ضرورت ہے۔ بہت سی باتیں پوچھیں اور بجائے ناراض ہونے کے بہت خوش ہو کر کہا ویلڈن سچائی سُن کے اچھا لگا۔ ہم ساتھ تھے اور سب سُن کے سوچنے لگے کہ اگر سب سوال ہم سے پوچھے ہوتے تو ہم تو سب کے متضاد جواب دیتے اور خود کو گورا ثابت کرنے کے لئے ان کی ہسٹری کا بھی رٹا لگا کر آتے۔

سب کچھ ہی ہمارے اندر کا کمپلیکس ہے۔ پاکستان سے کسی گھر کا ایک بندہ یورپ آجائے پچھلے سب انگریز بن جاتے ہیں اور جو اُس کی ادھر حالت ہوتی ہے وہی جانتا ہے۔ لیکن پچھلے تو آسمان پر پہنچے ہوتے ہیں۔ بہن بھائیوں سے کوئی پوچھے کیا کرتے ہو۔ بجائے اپنی کاردگردگی بتانے کے بڑے فخر سے کہتے بڑے بھائی یورپ ہوتے ہیں۔ اور بہن تو جس گھر رشتہ لینے جاتی ہے وہاں ایسے ظاہر کرتی ہے جیسے خود ہی یورپ سے آئی ہو۔ اور جو یہاں رہتا ہے کوئی اس سے پوچھے کہ چار سال ایک جیکٹ اور ایک جینز میں گزارا کرتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں