ہم بھی کیا لوگ ہیں؟


یہ تاثر ہرگز درست نہیں ہے کہ تنگ دماغی کے لیے محض حلق سے ع نکالنا یا مسجع مقفع اردو بولنا یا کوئی مخصوص وضع قطع اپنانا ضروری ہے۔ کارپوریٹ دنیا میں کسی خوبرو و چست لباس سیکریٹری کو زبانِ فرنگ میں ڈکٹیشن دینے کا عادی مغربی یونیورسٹی کا تھری پیس آئی ٹی گریجویٹ بھی سرنگی بصارت و بصیرت کا مالک ہوسکتا ہے۔

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے گریجویٹ کارپوریٹ کمپنی کے کنٹری مینیجر میرے یار شعیب نے سکاچ کی بوتل آدھی ختم کی اور پھر ڈائننگ ٹیبل پر آگیا۔ میں نے لابسٹر سامنے رکھا تو بولا یہ مکروہ چیزیں میں نہیں کھاتا۔ ہٹاؤ میرے سامنے سے۔

’جنٹلمین تم سے مل کے خوشی ہوئی۔ اوہ تھینک یو فار یور بزنس کارڈ۔ مرزااااا نصیر احمد۔ ایکسکیوز می آر یو مرزئی؟

نو سر آئی ایم احمدی۔

لاحول ولا قوۃ۔ مجھے تم سے ہاتھ ملانے سے پہلے پوچھ لینا چاہیے تھا۔ غلطی میری ہے۔ اینی ویز ۔۔بائے۔۔۔

’پچیس اور چھبیس دسمبر کو کرسمس کے موقع پر خاکروب چھٹی پر ہوں گے۔ لہٰذا تمام ملازمین دفتر کی صفائی کا خود خیال رکھیں۔ بحکم آفس سپرینڈینڈنٹ‘۔

دھشت گردی سے نمٹنے کے لیے بلائے گئے کُل جماعتی اجلاس میں وقفہِ نماز کے دوران عمران خان نے بھی مولانا فضل الرحمان کی امامت میں باجماعت نماز پڑھی۔

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے رحمان اور خان

کوئی ڈیزل کا شبہ ہے نہ یہودی کا گمان

مگر سلام پھیرنے کے بعد دونوں نے آنکھیں بھی پھیر لیں۔

خصوصی عدالتیں اگلے دو برس مذہب اور فرقے کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں سے نمٹیں گی۔ سیاسی و نسلی دہشت گردوں اور ریپسٹ حضرات سے فی الحال معذرت۔

کتنے لوگوں نے کتنے لوگوں کو بتایا ہے کہ آج کعبتہ اللہ اور مسجدِ نبوی کو چھوڑ کے باقی مکہ اور مدینہ فلک بوس پنج ستارہ ہوٹلوں، ٹاپ نوچ مغربی برانڈز کی مقبوضہ شاپنگ مالز، پارکنگ لاٹس، ولاز اور ٹائلٹس کے ابرہی محاصرے میں ہے۔ وہ والا مکہ اور وہ والا مدینہ اب صرف تصاویر، تذکروں اور یاد میں آباد ہے جس کی گلیوں کی خاک آنکھوں کا سرمہ تھی۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مقدس مزارات اڑانے والی داعش کی مذمت نہ کی جائے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ مسجد اقصیٰ کی حرمت پامال کرنے کی یہودی کوششوں کے خلاف عالمِ اسلام یک آواز نہ ہو۔

جانے کیوں داعش کے مظالم پر دل دہل دہل جاتا ہے اور شہرِ امن (مکہ) میں سرِ عام سرکاری تلوار سے ایک مجرمہ کی گرد اڑانے کے انصاف پر دل عش عش کر اٹھتا ہے۔

فلاں فلاں مغربی کمپنیوں کی مصنوعات مت خریدو۔ یہ کمپنیاں مسلمانوں کے قاتلوں کی فنڈنگ کرتی ہیں۔ مگر کلاشنکوف سب کی ساتھی سب کی دوست۔ سوئس کمپنی روہاگ کے دستی بم جہنم رسید کرنے کے لیے سب سے بہتر، آخری ہدایات دینے کے لیے قابلِ اعتماد آئی فون، سمت بتانے والا فرنچ جی پی ایس، موسمی سختی سے بچانے والی ناٹو فوجی جیکٹیں، رعب دار دکھانے والے ریبن چشمے، دشوار گزار راستوں کو آسان بنانے والی ہائی لکس، سکول اڑانے کے لیے قابلِ اعتماد جرمن آر ڈی ایکس، طویل مسافت کے لیے امریکی کمپنی التاما کے بوٹ اور صفائی سے گلا کاٹنے کے لیے جل ہیبن کے خنجر وزیر آبادی خنجر سے کہیں زیادہ معیاری۔

یہود و نصاری و ملحدین سے خیر کی توقع نادانی ہے، برطانیہ و امریکہ شیطان ِ کبیر، بھارت و روس شیطانِ صغیر۔ پر چین ہمارا یار، اس پے جان نثار۔

آخر سب لوگ اسلام دشمن، روحانیت سے خالی اور مادیت پرست مغرب ہی میں کیوں آباد ہونا چاہتے ہیں۔ کبھی کسی نے سنا کہ غیرقانونی تارکینِ وطن سے بھری کوئی لانچ ایران، سعودی عرب، لیبیا، مصر، الجزائر اور برونائی کی بحری حدود میں ڈوب گئی۔ آخر سب لانچیں اٹلی، فرانس، سپین، یونان اور آسٹریلیا کے ساحلوں کے قریب ہی کیوں ڈوبتی ہیں؟

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں